جعلی سند صحت، اساتذہ اور این ٹی ایس سے سخت شکایات

کالم کے ابتداء میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کردوں کہ واٹس ایپ اور فون پر آنے والی کسی کال کا جواب نہیں دیا جاتا صرف تحریری پیغامات موصول ہونے پر ان کو شامل کالم کیا جاتا ہے۔ کسی پیغام کی وضاحت مطلوب ہو تو بھی اس کی وضاحت میسج کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے، بعض قارئین کسی موضوع کا صرف اشارہ دیتے ہیں۔
قاری خود کیا کہنا چاہتا ہے اور اسے کیا مسائل درپیش ہیں اس کا مجھے اندازہ نہیں ہوسکتا، کم ازکم اپنا مسئلہ بلاتمہید چند سطروں میں بیان کریں تاکہ لکھنے میں آسانی ہو، نیز میسج میں نام اور علاقے کا نام ضرور لکھیں، اسے خفیہ رکھنے کی ہدایت کی جائے تو مسئلے کیساتھ شناخت شائع نہیں کی جاتی۔
آج کا پہلا واٹس ایپ پیغام سرکاری ملازمین کے حوالے سے ہے اور کم وبیش ہر جگہ عام طور پر اس طرح ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین سالانہ طبی طور پر صحت مند ہونے کی رپورٹ حقیقی نہیں بلکہ ایک رسم کے طور پر پوری کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین خود اپنے مفاد میں اور محکمے کی ضرورت کے مطابق بجائے اس کے کہ اپنا طبی معائنہ کرا کے رپورٹ جمع کریں وہ کسی مرکز صحت اور ہسپتال کا رخ کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور صحت مند ہونے کی سند ویسے ہی بنوا کر دے دیتے ہیں حالانکہ ان میں کئی افراد صحت مند ہونے کی شرط پر پورا نہیں اُترتے۔
انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ سرکاری ملازمین کو کسی بھی سی ایم ایچ سے طبی سند حاصل کرنے کی ہدایت کی جائے۔ تجویز سے اتفاق اس لئے نہیں کی جاسکتی کہ پہلے ہی لوگ حیلے بہانے سے عسکری اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ایسے میں اگر سرکاری ملازمین کو سی ایم ایچ سے سند لینے کا پابند بنایا جائے تو مزید دھان کھل جائیں گی، یہ ان محکموں کے سربراہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کا میڈیکل چیک اپ صحیح طریقے سے کروائیں اور ان کے صحت مند یا بیمار ہونے بارے اطمینان کریں۔ ایک اور تجویز یہ دی گئی ہے کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی مدت ملازمت بیس یا پندرہ سال ہونی چاہئے کیونکہ اتنا عرصہ پڑھانے کے بعد اساتذہ اسی ہزار روپے سے زائد تنخواہیں لیتے ہیں اور پڑھانے کیلئے درکار قوت وہمت ان میں باقی نہیں ہوتی، ان کو ریٹائرڈ کر کے دو تین نوجوان قابل اساتذہ بھرتی کئے جائیں، یہ تجویر بھی موزوں نہیں۔ حکومت پنشن کے بھاری واجبات کا بوجھ کم کرنے کیلئے سرکاری ملازمین کی عمر تریاسٹھ سال کرنے اور پنشن ختم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ سچ پوچھیں تو سوائے مرکزی حکومت کے سول سرونٹس اور پاک فوج کے علاوہ کہیں بھی اب ریگولر ملازمت نہیں اور پنشن کا بھی کم وبیش یہی حال ہے، بہرحال کسی نہ کسی فارمولے کے تحت سرکاری ملازمین کو پنشن کی ادائیگی ہورہی ہے مگر خزانے پر مسلسل بوجھ ہونے کے باعث اب حکومت کیلئے پنشن دینا مشکل ہورہا ہے۔ سرکاری اساتذہ کا بچوں کو پڑھانے کیلئے جوانی اور بوڑھاپا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی عدم دلچسپی اور تعلیمی نظام کی ابتری سنگین مسئلہ ہے۔ پندرہ بیس سال کے تجربے کے بعد اساتذہ کو گھر بٹھا کر پنشن حکومت کہاں تک دے پائے گی، اس کی بجائے اگر انہی اساتذہ سے کام لینے کا کوئی مؤثر بندوبست کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔
باقی ہر کسی کے سوچ اور نقطۂ نظر کا خیرمقدم کرنا ہماری پالیسی ہے اور اسی کے تحت ہر دو تجاویز کو شامل کالم کیا گیا۔یوسی ہیروشاہ تحصیل درگئی ملاکنڈ سے محمد احتشام سمیت این ٹی ایس کیلئے فارم وفیس جمع کرنے والے صوبہ بھر سے درجنوں افراد نے اس سنگین مسئلہ کی نشاندہی کی ہے کہ این ٹی ایس کا صرف اے بی ایل میں اکاؤنٹ ہے، اس کے علاوہ کسی بنک میں فیس جمع نہیں ہوتی جس کے باعث صبح سے شام تک لائن میں لگنے کے باوجود فیس بمشکل جمع ہوتی ہے۔
بعض اُمیدوار تو فیس جمع اس لئے نہ کرسکے کہ چھٹی کا وقت ہوگیا اور بنک بند ہوگیا۔ اکثر اُمیدواروں کو تیس چالیس اور پچاس اُمیدواروں سے فیس وصولی کے بعد لنک ڈاؤن کا بہانہ بنا کر فیس وصولی سے انکار کیا گیا۔ اُمیدواروں کا بجاطور پر کہنا ہے کہ اگر مختلف بنکوں میں رقم جمع ہونے کی سہولت دی جائے تو اس قدر زحمت اور مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، اکثر اُمیدواروں نے بنک عملے کی بدتمیزی اور سردمہری کی بھی شکایت کی ہے۔ اُمیدوار درست کہتے ہیں، آن لائن فیس جمع کرنے کی سہولت کی موجودگی میں اُمیدواروں کو یوں خوار کرنا اور وہ بھی ایک ہی بنک میں فیس جمع کرنے کی ہدایت بالکل نامناسب ملی بھگت کا باعث احمقانہ اقدام ہے۔ حکومت کو اس کا سخت اور فوری نوٹس لینا چاہئے این ٹی ایس بھی ایسے فیصلے کرنے سے باز رہے کہ لوگ احتجاج پر اُتر آئیں۔
قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 9750639 0337- پر میسج اور وٹس ایپ کرسکتے ہیں۔