ضم شدہ اضلاع ٹاسک فورس اجلاس: سول اور عسکری اداروں کے درمیان مثالی روابط قائم ہیں- وزیر اعلی

ویب ڈیسک: وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر ضم شدہ اضلاع کے لئے قائم ٹاسک فورس کا اجلاس۔

متعلقہ صوبائی وزراء، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پی اور دیگر سول و عسکری حکام کی شرکت۔

ضم شدہ ضلع شمالی وزیرستان میں ترقیاتی منصوبوں، سکیورٹی اور انضمام کی تازہ صورتحال کا جائزہ۔

اجلاس کو شمالی وزیرستان میں ترقیاتی کاموں پر پیش رفت اور جملہ انتظامی امور کے حوالے سے بریفنگ۔ فورم کا شمالی وزیرستان میں انضمام اور انتظامی امور کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار۔

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے کارکردگی کی تعریف۔ دوسرے اظلاع کی انتظامیہ کو بھی شمالی وزیرستان کی طرح پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور شمالی وزیرستان کے لئے 84 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں، اے آئی پی کے تحت شمالی وزیرستان کے لئے 26 ارب روپے کے منصوبے رکھے گئے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 28 ارب روپے کے منصوبے رکھے گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پولیس مکمل طور پر فعال ہوگئی ہے۔ گزشتہ سال شمالی وزیرستان میں صرف 77 ایف آئی آرز درج کئے گئے تھے۔ رواں سال ضلع میں 255 ایف آئی آرز درج کئے گئے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ضلع میں 900 پولیس اہلکاروں کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔ مزید 1000 اہلکاروں کی تربیت جلد شروع کی جائے گی۔ ضلع میں نو پولیس اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں سی ٹی ڈی نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جلد اجراء کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے ضلع میں روزگار کے 6 سے 7 ہزار مواقع پیدا ہونگے۔ شمالی وزیرستان میں گزشتہ تین مہینوں کے دوران 52 غیر فعال سکولوں کو فعال کیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں محکمہ معدنیات اور خوراک کے اسٹنٹ ڈائریکٹرز کے علاوہ درکار اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضروری عملے کی جلد تعیناتی کا فیصلہ۔

اجلاس میں ٹاسک فورس کے گذشتہ اجلاسوں میں ضلع کرم، باجوڑ اور جنوبی وزیرستان سے متعلق کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ۔

جنوبی وزیرستان کے حوالے سے کئے گئے 70 فیصد فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ کرم کے حوالے سے 40 جبکہ باجوڑ کے حوالے سے 45 فیصد فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

ٹاسک فورس کے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کے لئے چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ۔

ضم شدہ اضلاع کے لئے ایجوکیشن پلان کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ان اضلاع کے لئے ہیلتھ پلان اس مہینے تیار کیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام ضم اضلاع کے لئے اکنامک ڈیویلپمنٹ پلان تیار کرنے کا فیصلہ۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ان اضلاع کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی اکنامک ڈیویلپمنٹ پلان تیار کئے جائیں گے۔

جن محکموں نے ابھی تک ضم اضلاع میں زمین کی خریداری کے ڈیمانڈز فراہم نہیں کئے انہیں ریڈ لیٹرز جاری کئے جائیں، وزیراعلی کی ہدایت۔

وزیر اعلی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں طبی آلات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے، ان اضلاع میں ہسپتالوں اور سکولوں کی عمارتوں کی ریشنلائیزیشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے، ضم اضلاع میں سیاحت کے فروع کے لئے تین انٹیگڑیٹڈ ٹورازم زونز قائم کئے جائیں،ضم اضلاع میں تعینات تمام کلریکل اسٹاف کا تبادلہ کیا جائے،ضم اضلاع میں پولیس کی تربیت، اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کے لئے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں، ضم اضلاع میں امن و امان کی بحالی اور ان علاقوں کی تعمیر و ترقی میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے، ضم اضلاع کے حوالے سے سول اور عسکری اداروں کے درمیان مثالی روابط قائم ہیں.