آج برطانوی پارلیمنٹیرینز نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم کے خلاف آواز اٹھا دی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

ویب ڈیسک (اسلام آباد): وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں آج مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے، دس سے زائد برطانوی پارلیمنٹیرینز، جن میں وزراء بھی شامل ہیں، آج دس برطانوی اراکین پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالے قوانین کا سہارا لے کر بھارتی قابض افواج نے بنیادی حقوق کو سلب کر رکھا ہے، ڈیموکریٹس انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں مظلوم توقع کرتے ہیں کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف امریکہ، برطانیہ، یورپ اور دنیا بھر کی جمہوری طاقتوں کے پلیٹ فارمز سے آواز اٹھائی جائے گی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ دنیا جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم پر مصلحتاً خاموشی اختیار کئے ہوئے تھی اب وہ خاموشی ٹوٹ رہی ہیں، برطانوی پارلیمنٹ جسے پارلیمان کی ماں کہا جاتا ہے، اس پارلیمنٹ میں آج مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے، دس سے زائد برطانوی پارلیمنٹیرینز، جن میں وزراء بھی شامل ہیں، انہوں نے اس حوالے سے اظہار خیال کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہم شروع سے کہتے آ رہے ہیں کہ ہندوستان ، عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے جو عرصہ دراز سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، آج دس برطانوی اراکین پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالے قوانین کا سہارا لے کر بھارتی قابض افواج نے بنیادی حقوق کو سلب کر رکھا ہے، یاسین ملک، آسیہ اندارابی جسی بہت سی شخصیات ایسی ہیں جنہیں بلاجواز قید میں رکھا گیا ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ نہتے کشمیری نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور انہیں سال ہا سال تک محصور رکھا جاتا ہے اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی وزیر خارجہ نے کہا یہ ساری وہ باتیں ہیں جو ہم 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد ہم تمام عالمی فورمز پر اٹھاتے چلے آ رہے ہیں، دنیا ہماری تشویش سے اتفاق کر رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی ہے۔

چند روز قبل یورپ کی ڈس انفولیب نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارت کے عزائم کو بے نقاب کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح بھارت جعلی این جی اوز اور فرضی ویب سائٹس کا سہارا لیتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا چلا آرہا ہے شاہ محمود کا کہنا تھا کہ20 جنوری کو امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ منصب سنبھالنے جا رہی ہے، ڈیموکریٹس انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں مظلوم توقع کرتے ہیں کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف امریکہ، برطانیہ، یورپ اور دنیا بھر کی جمہوری طاقتوں کے پلیٹ فارمز سے آواز اٹھائی جائے گی۔