پاکستان میں مہنگائی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

پاکستان میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ آڑھت ہے یعنی مال صارف تک پہنچتے پہنچتے کئی ہاتھوں سے گزرتا ہے۔ جو سبزی کسان سے پانچ روپے کلو خریدی جاتی ہے وہ منڈی سے ہوتی ہوئی محلے کی دکان تک آتے آتے 10گنا مہنگی ہو چکی ہوتی ہے۔بجلی کا جو بلب 50روپے کا درآمد کیا جاتا ہے وہ صارف کو 150روپے میں ملتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ درمیان سے آڑھت کو نکال دیں تو صارف کو سستی چیزیں مل سکتی ہیں۔اس مقصد کے لیے پاکستان کو یا تو اپنی بڑی بڑی سپر مارکیٹ چینز بنانی ہوں گی یا پھر وال مارٹ، ایسڈا، ٹیسکو اور آلڈی کی طرح کے انٹرنیشنل سپر سٹورز کے لیے مارکیٹ کھولنی چاہیے۔یہ سپر سٹورز کیسے کام کرتے ہیں؟۔ یہ اشیائے خوردونوش بہت بڑی تعداد میں خریدتے ہیں اور عموما براہِ راست کسان سے یا فیکٹری سے مال اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں وہ چیزیں آڑھتیوں سے بھی سستی ملتی ہیں۔پھر اگر ایک ہی شہر میں پانچ دس بڑے سپر سٹورز کی چینز موجود ہوتی ہیں تو ان میں مقابلے کی فضا ہوتی ہے اور ہر کوئی صارف کو سستی سے سستی اشیا فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی خود بخود کنٹرول رہتی ہے۔ اسی طرح جو اشیا صرف درآمد ہوتی ہیں وہ بھی یہ سپر سٹور خود کرتے ہیں اس لیے درمیان والا ہاتھ نکل جاتا ہے جس کی وجہ سے صارف کو انتہائی سستی اشیا میسر آتی ہیں۔ اس کا ایک فائدہ لوکل مینوفکچررز کو بھی ہوتا ہے کیونکہ چیزیں بنانے سے کہیں زیادہ مشکلات انہیں مارکیٹ کرنے میں آتی ہیں۔ لیکن ایسی صورت میں جب پورے ملک میں ایک ہی سپر سٹور آپ کی فیکٹری کا مال اٹھا لیتا ہے تو مینوفکچرنگ بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور جو چیزیں ہم اس وقت درآمد کر رہے ہیں ان کی لوکل پروڈکشن شروع ہو جائے گی۔اس وقت کئی اشیا پر17فیصد تک جی ایس ٹی نافذ ہے۔ صارف کی جیب سے یہ پیسے وصول کر لیے جاتے ہیں مگر سرکاری خزانے تک اس 17فیصد میں سے چار فیصد ہی پہنچتا ہے، باقی انڈر انوائسنگ اور مانیٹرنگ نہ ہونے کہ وجہ سے چوری ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان میں لاکھوں کریانہ سٹورز ہیں جنہیں فیکٹری والے روزانہ کی بنیاد پر مال سپلائی کرتے ہیں اور ان سے کیش کی صورت وصولی کرتے ہیں۔حکومت کے لئے یہ اندازہ لگانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ کس برانڈ کا مال حقیقت میں کتنا فروخت ہوا۔ صرف ایک ایٹم یعنی سیگریٹ کی ہی مثال لی جائے تو بڑے شہروں میں روزانہ کی مد میں جو ٹیکس چوری ہے وہ دس سے 50کروڑ روپے روزانہ کا ہے۔باقی اشیا کا اندازہ خود لگا لیں۔ جب بڑے سپر سٹورز کی چین آپریٹ کر رہی ہوں گی تو انہیں مانیٹر کرنا آسان ہو گا کیونکہ ان کے تمام کھاتے الیکٹرونک ہوتے ہیں۔مغربی ممالک میں کوئی صارف اگر کسی چیز کے معیار سے مطمئن نہ ہو تو وہ 15دنوں سے ایک مہینے کے اندر انہیں واپس یا تبدیل کروا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔اس طرح اگر ایسے سپر سٹورز کو لائسنس دییے جائیں تو مہنگائی کا خود بخود خاتمہ بھی ہو جائے گا اور جی ایس ٹی کی مد میں اربوں روپے کی چوری بھی رک جائے گی۔ آج کل پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ مارکیٹ میں نئی گاڑی لینے جائیں تو تین سے چھ ماہ تک ویٹنگ ٹائم ہے۔ اگر فوری چاہیے تو دو سے10لاکھ تک اوون منی چل رہی ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی کچھ وجہ حکومتی پالیسیاں بھی ہوتی ہیں جو پلاٹ آٹھ ماہ پہلے چار کروڑ کا تھا وہ اب آٹھ کروڑ کا ہو گیا ہے کیونکہ حکومت نے سکیم دی ہوئی ہے کہ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرکے لوگ اپنا کالا دھن سفید کر سکتے ہیں۔سوچنے کی بات ہے کہ حکومت یہ سکیم انڈسٹری کو بھی دے سکتی ہے تاکہ ملک میں مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہو جس سے بیروزگاری کا خاتمہ ہو اور ہمارا درآمدی بل کم ہو اور بر آمدات بھی بڑھیں مگر حکومت ہر بار کالا دھن سفید کرنے کی جو سکیم پراپرٹی کے لیے لانچ کرتی ہے اس سے پراپرٹی کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دکانوں کی کرائے بھی بڑھتے ہیں جو مہنگائی کی وجہ بنتے ہیں۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کا تناسب10.6فیصد ہے۔ دنیا میں اس کی اوسط شرح چار فیصد سے بھی کم ہے۔ ہمارے ساتھ افغانستان میں 2.3، بھارت میں سات، بنگلہ دیش میں5.6، چین میں 2.9، امریکہ میں 1.8، برطانیہ میں1.7، انڈونیشیا میں تین ، جنوبی کوریا میں0.3اور متحدہ عرب امارات میں منفی 1.9فیصد یعنی قیمتیں بڑھنے کی بجائے کم ہوئیں۔ان اعدادو شمار کا واضح مطلب ہے کہ جب تک مینو فیکچرنگ نہیں بڑھے گی اور مارکیٹ میں مسابقت کا رجحان پیدا نہیں ہو گا مہنگائی کم نہیں ہو گی۔