یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

بعض خبروں کی سرخیاں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان پر تبصرہ کئے بناء چارہ ہی نہیں ہوتا مگر اکثر سرخیاں جمانے والے سب ایڈیٹر حضرات خبر کے متن میں سے سرخیاں تو نکال لاتے ہیں مگر ستم ظریفی یہ کرتے ہیں کہ اخباری ضرورت کے تحت یعنی جگہ کی کمی کی وجہ سے خبر کا وہ حصہ ہی ایڈیٹ کر دیتے ہیں جہاں سے یہ سرخیاں فراہم کی ہوتی ہیں۔ خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے، اب اپنے موضوع کی جانب آتے ہیں اور ایسی ہی چند خبروں پر تبصرہ کرتے ہیں جن کی سرخیوں نے ہماری توجہ مبذول کروالی ہے۔ یہ خبریں کسی ایک روز کے اخبارات کی نہیں ہیں بلکہ دو تین روز کے حالات کی تصویر ہیں، یہ تو آپ جانتے ہیں کہ ان دنوں ایک بار پھرسیاسی رہنمائوں کے مابین بیان بازی زوروں پر ہے، یہاں تک کہ نہ صرف حزب اختلاف اور سرکاری حلقوں کے ارکان ایک دوسرے پر حسب روایت تابڑ توڑ حملے کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ خود دونوں جانب آپس میں بھی ''پگڑی سنبھال جٹا'' والے بیانات نے اودھم مچا رکھی ہے، اس لئے آج کے کالم میں ایسی ہی بیان بازی پر ہلکی تبصرے بازی (اسے تبرہ بازی نہ سمجھ لیجئے گا) کی کوشش کریں گے۔ ابھی دو تین روز پہلے پیپلز پارٹی کے دو رہنمائوں فرحت اللہ بابر اور سید نیئر حسین بخاری نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں حلقہ این اے 249 میں دوبارہ گنتی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا وہاں ایک بہت دلچسپ بات یہ بھی کہی کہ ''پی ڈی ایم ہم نے بنائی، دوسری جماعتیں ہمارے پاس آئیں جبکہ دیس نکالا ہمیں مل گیا اس لئے شوکاز نوٹس واپس لیں اور معافی مانگیں''۔ اس صورتحال پر تو بدّو کے اونٹ والی پھبتی کسی جا سکتی ہے یعنی بدّو کے اونٹ کو خیمے کے اندر صرف گردن گھسیڑنے کی اجازت دی گئی مگر اس کے بعد صورتحال یہ ہوئی کہ پورا اونٹ خیمے کے اندر اور مالکان خیمہ سے باہر جاپہنچے، سو اب دیکھتے ہیں کہ اب ''ساربان'' معافی مانگتے ہیں اور شوکاز نوٹس واپس لیتے ہیں یا ''اونٹ کی گردن'' کی آڑ میں خیمے والوں کو یونہی دیس نکالا کی کیفیت سے دوچار رہنا پڑے گا، یعنی بقول نجیب احمد:
کاغذ پہ تجھ کو سطر کیا عمر بھر نجیب
اور حجرۂ سطور میں بیٹھا ہے کوئی اور
کراچی کے حلقہ این اے 249 کے نتیجے کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مابین جو بیان بازی ہوتی رہی اگرچہ اب وہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دوبارہ گنتی کے احکامات دیکر معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کی سعی کر تو لی ہے، تاہم انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نہ صرف لیگ(ن) بلکہ تحریک انصاف کے وزراء کے مابین لفظی گولہ باری پر چومکھی جنگ لڑتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جو بیان دیا اسے کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ قرار دینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے ایک تیر سے بلے، پتنگ، ڈولفن، ملا اور شیر کو شکار کرنے کا جو فلسفہ اپنایا اس کا جواب دیتے ہوئے اگرچہ مریم نواز نے بھی یہ کہا کہ شیر کا شکار آسان نہیں، الیکشن آپ نے چرایا اور جو ہتھکنڈے آپ نے آزمائے ان کی داستان بھی آنے والی ہے جبکہ بعد میں جو ''حقائق'' الیکشن کمیشن کے سامنے لائے گئے انہی کی بنیاد پر دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا گیا، تاہم ہمیں تو صرف خبر کی اس سرخی پر تبصرہ کرنا ہے جو بلاول زرداری کے بیان سے ''پھوٹی'' اور اسے اس لطیفے سے تشبیہ دینے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے جس میں ایک بادشاہ سلامت کا تذکرہ ملتا ہے، جو بے پرکی چھوڑنے اور عجیب وغریب بڑیں ہانکنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا، تاہم اس نے ایک اور ''رفوگر'' کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں جو اسی قسم کی یاوہ گوئیوں کو درست ثابت کرنے کیلئے ایسی ایسی تاویلیں ڈھونڈ لاتا کہ درباری بادشاہ کے ''کارناموں'' پر اش اش کر اُٹھتے، تاہم ایک بار بادشاہ سلامت نے اپنے شکار کی ایسی داستان سنائی اور ایک ہرن کو جو مشرق کی سمت بھاگ نکلا تھا، مارنے کیلئے تیر مغرب کی سمت مار کر اسے گرا دینے کی بڑ ماری، تو بے چارے رفوگر کو اتنے بڑے جھوٹ کو سنبھالا دینے میں بہت مصیبت اُٹھانا پڑی، پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس نے بادشاہ کی بات کو درست ثابت کرکے اور دربار میں واہ واہ کی صدائیں بلند کروانے میں کامیابی کے بعد اگلے روز ملازمت چھوڑنے کی درخواست بادشاہ کے سامنے رکھی، تو وجہ پوچھنے پر عرض کی! بادشاہ سلامت میں چھوٹے موٹے جھوٹ کی رفوگری تو کر سکتا ہوں مگر اتنے بڑے بڑے تروپے لگانے کی مزید ہمت نہیں رکھتا۔ سو اب دیکھتے ہیں کہ ایک تیر سے دو شکار کے محاورے کو بھی نئی جہت سے آشنا کرنے کا یہ بیان رفوگری کے زمرے میں آئے گا یا پھر اسے بھی تروپے سے تشبیہ دیکر آنے والے دنوں میں بقول مریم نواز ''الیکشن چوری'' کی ناکام کوشش قرار دلوانے میں الیکشن کمیشن کے دوبارہ گنتی سے ''بے پرکی'' ثابت کیا جا سکے گا۔ اس لئے آخری نتیجہ آنے تک انتظار ساغر کھینچ کے غالب والے شعر کو یاد کرنے کیلئے دیوان غالب کھولنے کی ضرورت پڑے گی کہ بقول افتخار عارف:
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا