بیگم نسیم ولی خان کی رحلت جمہوریت کےلئےجدوجہد کےناقابلِ فراموش باب کااختتام ہے،بلاول بھٹو

ویب ڈیسک (اسلام آباد)پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بزرگ خاتون رہنما بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیگم نسیم ولی خان کی رحلت جمہوریت کے لیئے جدوجہد کے ایک ناقابلِ فراموش باب کا اختتام ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔بیگم نسیم ولی خان ایک نڈر، ترقی پسند اور باوقار خاتون رہنما تھیں،مرحومہ کے جمہوریت اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کے متعلق سوچ ہمیشہ واضح و قابلِ ستائش رہی۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران بیگم بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ تھیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں بلند درجات عطا فرمائے اورسوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔

واضح رہے کہ اے این پی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان طویل علالت کے بعد 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، وہ شوگراور عارضہ قلب میں مبتلا تھیں، ان کی نمازِ جنازہ آج شام 6 بجے ادا کی جائے گی۔مرحومہ اے این پی کے رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کی بیوہ اور اے این پی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی سوتیلی والدہ تھیں۔

بیگم نسیم ولی 1977ء کے عام انتخابات میں جنرل نشست پر خیبر پختون خوا سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔

بیگم نسیم ولی نے اے این پی کی صوبائی صدر کی حیثیت سے 3 بار خدمات انجام دیں۔