پشاور:بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایاجارہا،وزیراعلی

ویب ڈیسک (پشاور) وزیراعلی ہائوس پشاورمیں پری بجٹ مشاورت جاری, وزیراعلی محمودخان, وزیرخزانہ وصحت تیمورسلیم جھگڑا,معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش , وزیربلدیات اکبرایوب خان شامل ہیں۔

وزیراعلی کا کہناہے کہ ہم اصلاحات کے ذریعہ بہتری لارہے ہیں,کچھ ٹیکس ختم نیاکوئی نہیں لگائیں گے,مرکز سے بجلی منافع سے لے رہے ہیں,پچیس تیس ارب مرکز ہمیں دے رہاہے,ماہانہ تین ارب مل رہے ہیں۔ ہم ترقیاتی کام بھی زیادہ کررہے ہیںہم نے روزانہ اجرت کوماہانہ 21000کردی ہے جس کی نگرانی کے لیے ڈویژنل فورس قائم کررہے ہیں،اے جی این قاضی فارمولے کی مشترکہ مفادات کونسل نے منظوری دی ہے بجٹ کے بعد کمیٹی سفارشات کی منظوری دی جائے گی,ہمارے ساتھ قبائلی اضلاع کے لیے سالانہ 100ارب کاوعدہ کیاگیاتھالیکن صرف مرکز اورکے پی حصہ دے رہے ہیں دیگر نہیں, 24ارب سے 64ارب پرہم ضم اضلاع کاترقیاتی پروگرام پنچادیاہے, ہم قبائلی اضلاع اورعوام کے مسائل حل کررہے ہیں اور اس بجٹ میں بھی ان کے مسائل حل کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کامکمل انضمام ہمارا اصل کارنامہ ہے,سندھ کی کرپٹ حکومت ہے وہاں کے حالات سب کے سامنے ہیں,گزشتہ حکومت نے تین منصوبے دئیے جس پردوسال گالیاں سنیں ,سب میں مسائل تھے,ہم نے سوات موٹروے,بی آرٹی اوررشکئی اکنامک زون یہ سب مکمل کیے۔سوات اوردیرایکسپریس وے ,پشاور ڈیرہ موٹروے اورچشمہ لفٹ کنال کے منصوبے اہم ہیں جن پرکام ہورہاہے, چھ اکنامک زون بنارہے ہیں اورنجی سیکٹر کے حوالے سے بھی غورکریں گے,خواتین کے مسائل حل کے لیے بھی ہم کام کررہے ہیں۔

ہم تاریخی بجٹ پیش کرنے جارہےہیں,تیمورسلیم جھگڑا

تیمورسلیم جھگڑاکے مطابق ہم تاریخی بجٹ پیش کرنے جارہےہیں ،اس سال ہم نے اپنے وسائل 53ارب تک پہنچائے۔ترقیاتی کام بھی کوویڈ کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دئیے, ہم نے اپنے وسائل کاہدف پچاس ارب روپے رکھاتھاجو53ارب تک جائے گا۔ ہم اس سال 205 ارب ترقیاتی کاموں پرخرچ کریں گے جوگزشتہ سال 171ارب تھے۔ہم نے جون ازم کے خاتمے کے لیے سارے سال فنڈزجاری کیے,7.2ملین خانداںوں کو صحت کارڈذ دئیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس سال کئ بڑے منصوبے مکمل کیےہم ایک ہزارارب سے زائدبجٹ ہوگا۔گریڈ انیس سے کم درجے کے ملازمین کو25فیصد اضافہ دینگے,صحت کارڈسکولوں کے لیے فرنیچرفراہمی کی جائے گی۔ اپوزیشن کوبجٹ پرتنقیدکے لیے کچھ نہیں ملا,وہ سمجھ نہیں رہے کہ کہناکیاہے, صوبہ پرجوقرضہ ہے وہ جی ڈی پی کی شرح سے دس فیصدسے کم ہے,ہم نے قرضہ جات چالیس سالوں میں واپس کرنے ہیں جوصرف دوفیصدسالانہ ہیں,جہاں ہم ٹیکس کم کرسکتے ہیں وہ کریں گے۔ مرکز نے بھی 25فیصداضافہ کیاہم بھی 25فیصداضافہ کررہے ہیں۔