ثبات ا یک تغیر کو ہے زمانے میں

انسانی زندگی میں تبدیلی اور تغیر کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اگر ہم اپنے گردوپیش میں ترقی یافتہ اقوام کی خصوصیات کا بنظر غور جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ان اقوام نے بدلتے حالات کے پیش نظر پیدا ہونے والے نئے مسائل کا بھرپور انداز میں سامنا کیا اور کچھ بنیادی معیارات کو مستقل مانتے ہوئے ان مسائل کے ایسے حل تجویز کیے جو اپنے مخصوص معاشرتی حالات سے موافقت کے ساتھ ساتھ بدلتے وقت اور زمانے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔ ہمارا یہ مشاہدہ ہی ہمارے اس تیقن کی بنیاد ہے کہ تغیرِ زماں زندگی کی اصل ہے۔ تعمیروترقی کی ضامن انفرادی و اجتماعی حرکت ہے جبکہ اس رنگ بدلتی دنیا میں جمود کی مثال ایک ساکت جوہڑ کی ہے جس کا پانی جلد ہی تعفن چھوڑ دیتا ہے۔
زندگی کے تبدل و تغیر کا اسلامی تصور نہ صرف بصیرت افروز ہے بلکہ انقلاب آفریں بھی ہے۔ ازروئے قرآن ارتقا ہر آن شان خداوندی کے ایک نئے اظہار کی صورت جھلکتا ہے۔ اس کائنات کا طبعی ارتقا گردش ایام اور موسموں کے تغیرات سے عیاں ہے۔ اسی طبعی ارتقا کے نتیجے میں انسانی تمدن اور معاشرتی رسوم و رواج میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی رونما ہوتی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنے گردوپیش کے بدلتے احوال کی مناسبت سے اپنے کردار کی اصلاح کرے اور اسطرح بہتر سے بہتر کی جستجو کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہے۔ نظام قدرت میں تبدیلی و تغیر کا ایک خاص مقصد متعین ہے۔ تغیر زماں دراصل کانٹ چھانٹ کا ایک قدرتی عمل ہے جس کی بدولت حیات انسانی کی تطہیر اس طرح ہوتی ہے کہ تمدن اور سماج کے صرف کارآمد اجزا ہی باقی رہتے ہیں جبکہ بے کار اور غیر مفید اجزا بتدریج اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ ہماری موجودہ زندگی کی رنگا رنگیوں میں ثبات صرف اعلیٰ انسانی اوصاف ہی کو حاصل ہے۔ چنانچہ انسانیت کا منتہائے کمال نیکی کی مسلسل ترغیب اور برائی سے طبعی نفرت کا عملی اظہار ہے۔ کسی بھی انسانی سماج کی بقا کا کم از کم متعین معیار یہی ہے کہ اس میں بسنے والے لوگ راستی کے امین ہوں اور اپنی اجتماعی توانائیاں فلاح انسانیت کے لیے صرف کرنے کی غرض سے ہمہ وقت تیار اور مستعد ہوں۔ تغیرات سے مزین اس کار زار ہستی میں اصلاحِ احوال سے دانستہ گریز کی سزا مرگِ مفاجات ہے۔ قوموں کی حیات اصلاح اور تعمیر کی غرض سے جہد مسلسل ہی میں مضمر ہے۔ انسان کے لیے اصل معیار فضیلت یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی درخشاں روایات سے قوت اور ہمت کشید کرتے ہوئے مستقبل کی کھوج اور تعمیر کی نئی منازل کی تسخیر کی سعی کرے۔ اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لیے ایسی جدوجہد کے بغیر محض ماضی کی تخیل آرائی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پاتی۔
ہمارے گردوپیش میں تبدیلی کے لاتعداد عوامل کار فرما ہیں ۔ یہ عوامل ہمارے لیے خوداحتسابی کی مسلسل ترغیب کا باعث ہیں۔ ہم اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف النوع تجربات سے گزرتے ہیں۔ یہ قطعاً ضروری نہیں کہ ہمارا ہر تجربہ ہمیشہ کامیابی سے ہی ہمکنار ہو۔ اِس کے برعکس ہمارے بیشتر تجربات ہمیں ناکامی کی بھٹی میں جھونکنے کا باعث ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ حصوصیت ہے کہ وہ اپنے تجربات اور بالخصوص اپنی ناکامیوں سے سبق حاصل کرتا ہے۔ کسی انسان کے لیے حتمی کامیابی کا حصول تبھی ممکن ہو پاتا ہے جب وہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ لائحہ عمل میں اپنی گزشتہ غلطیوں کا ازالہ کرے۔ اس طرح خود احتسابی کا عمل انسان کو اپنی صلاحیتوں کے ادراک اور پیش آمدہ مسائل میں گزشتہ غلطیوں سے اجتناب برتنے کے قابل بناتا ہے۔ خود احتسابی کے ذریعے تبدیلی کے عمل کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے انداز فکر کو بدلے۔ یہ گویا تبدیلی کا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے خوارج میں ظاہر ہوتا ہے لیکن اِس کا اصل محرک زندگی سے متعلق انسان کے زاویہِ فکر کی تبدیلی ہے۔ انسان کے لیے حقیقی تبدیلی محض ماحول کی طبعی ساخت میں ردوبدل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے اندرونی احساسات اور ترجیحات کو متاثر کرتے ہوئے خارجی عوامل پر اثرانداز ہوتا ہے۔
بیسویں صدی کے ممتاز امریکی مصنف اور ماہر نفسیات ولیم جیمز نے دنیا کو درپیش نفسیاتی ہیجانات پر اپنے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ زندگی سے متعلق صرف زاویہ نگاہ کی تبدیلی سے ساری انسانی زندگی کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ اصلاحِ عمل کا محرک مثبت سوچ ہے۔ دنیا کے لیے یہ نتیجہ محض ایک دریافت ہے جبکہ ہمارے لیے اس کی حیثیت وحی الٰہی کی ایک بازگشت کی ہے جو گزشتہ چودہ صدیوں سے ہماری سماعتوں سے ٹکرا رہی۔ یہ پیغام نہایت واضح ہے کہ لوگوں کے حالات میں مثبت تبدیلی واقع نہیں ہوتی جب تک ان کے اندر ازخود اپنے حالات کو بدلنے کا شعور نہ پیدا ہو۔