صحت کے بنیادی نظام پر توجہ ناگزیر

کوروناوائرس کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، جس رفتار سے یہ وباء پھیلی اور لوگوں کی زندگیوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے یہ بہت بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔بہت سے ماہرین نئے وبائی صورتحال اور عالمی سطح پراس کے پھیلنے کے خطرے سے پیشگی آگاہ کرتے رہے ہیں لیکن ان کے اس انتباہ کو سنجیدہ نہیں لیا گیا حتیٰ کہ وباء پھوٹ پڑی ۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران چھ سے زائد مرتبہ انفلوئزا جیسی وبائیں پھیلی ہیں۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں تقریباً 25 مرتبہ ایبولہ وائرس جانوروں سے پھیلا۔ اسی طرح اب سات قسم کا کورونا وائرس پھیلا اور اس سے بڑے پیمانے پر اموات ہوئیں۔ سائنس اور طب کے شعبوں میں ترقی کے باوجود وبائووں کا خطرہ درحقیقت بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا وباء پھر آئے گی اور کب آئے گی؟ اس وقت آنے والی وباء سے بچنے کے لیے تیاری کے نظام کو نئے سرے سے مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ نگرانی(سرویلنس) کے نظام کو مضبوط بنانے پر سرمایہ کاری ، ویکسین اور اس کی سپلائی، مواصلات،بہتر طبی نظم ونسق، عالمی تعاون ، جدت اور مناسب مالی وسائل کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔ دنیا کی سب سے بڑی ایبولا کی وباء تشخیص ہونے سے پہلے ایک ماہ سے زائد عرصے تک پھیلتی رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ علاقے میں لیبارٹری کی سہولت محدود تھی جبکہ موثر سرویلنس سسٹم بھی موجود نہیں تھا۔ کسی بھی وباء کی فوری تشخیص ہونے سے اس پر اتنا ہی جلد قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب قومی سطح پر موثر رسپانس سسٹم ہو، جو خطرے کی گھنٹی بجتے ہی فعال ہو جائے۔ جب کورونا کی وباء میں شدت آئی تو صحت کے نظام پر دبائو پڑا حتیٰ کہ امیر ملکوں میں بھی صحت کے نظام بیٹھ گئے ۔ چنانچہ وبائی بحران سے بچنے کے لیے نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت کا حامل موثر نظام ناگزیر ہے۔اگر مستند اعداد و شمار سامنے آتے تووبائی امراض کے ماہرین کو تیزی کے ساتھ اور بااعتماد انداز میں کورونا وائرس کے فضاء کے ذریعے پھیلنے کا تعین کرنے میں مدد ملتی ۔ اس کے نتیجے میں طبی ماہرین ابتدائی مرحلے میں ہی بڑے پیمانے پر ٹسٹنگ اور فیس ماسک جیسے اقدامات تجویز کرتے۔ چین پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس نے وباء کے ابتدائی مرحلے پر اس حوالے سے بہت کم معلومات سامنے لائیں ۔یہ صرف چین کا معاملہ نہیں بلکہ بھارت میں بھی صحافیوںنے کہاہے کہ حکام اعدادوشمارکا بہتر اور بروقت تبادلہ نہیںکرتے رہے ہیں۔برائون یونیورسٹی میں ماہر معیشت اروند سبرمینین کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کے آغاز سے جون 2021 تک ہونے والی 30 لاکھ یا اس سے زائد اموات رپورٹ ہی نہیںہوئی ہیں۔ وبائی امراض اور جینومک(genomic)کے ڈیٹا کے تبادلے کی کوئی سیاسی جہتیںہوسکتی ہیں جن پر اعلیٰ فورمز پربات ہونی چاہیے ،جیساکہ 2011ء کا انفلوئزہ فریم ورک اور دوسرے کثیرالجہتی سمجھوتے ہوئے تھے ۔کورونا وائرس کے پھیلنے پر طبی ماہرین کی طرف سے ردعمل ناقابل یقین رہاہے۔ پہلی ویکسین کی تیاری ،ٹیسٹ اور ہنگامی استعمال کے اجازت میں 327 لگے ۔ آج 19قسم کی ویکسین قابل استعمال ہیں۔110 ویکسین کلینکل آزمائش جبکہ 184اس سے پہلے کے مرحلے میں ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ کورونا ویکسین کی تقسیم کو دیکھا جائے تو ابھی تک غریب ملکوں میں پانچ فیصد سے بھی کم لوگوں کو ویکسین لگی ہے۔ آج بھی ویکسین کی تقسیم کے حوالے سے قومیت پرستی اور برآمدی پابندیوں کا سامنا ہے جو 2009 میں سوائن فلو کی وباء کے دوران درپیش تھیں۔چنانچہ ایک ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہر ملک کو سو دنوں کے اندر ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ اس سلسلے میں عالمی سطح پر سپلائی کاموثرںنظام کی ضرورت ہے ۔ موجودہ وباء کے آغازپر تذبذب دیکھا گیاہے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے عالمی تحفظ صحت کے مجاز ادارے کے پاس کم معلومات اور تیاری کا فقدان ہے۔ پاکستان میں حکام کی طرف سے 2020 ء کے وسط تک عوام کو فیس ماسک کی تاکید نہیںگئی۔ برازیل میں صدر نے کووڈ کو معمولی نزلہ قرار دیا جس کی وجہ غلط معلومات تھیں۔ پھر مئی 2020 ء میں عالمی ادارہ صحت نے ایک قرادار منظور کی جس میں ملکوں نے وباء غلط معلومات سنے نمٹنے پر رضامندی ظاہر کی، سوشل میڈیا کو اپنے پلیٹ فارم سے غلط معلومات ہٹانے کا پابند کیا گیا۔ وبائی صورتحال میں معلومات کے مواد اور ان کے تبادلے کو مربوط بنانے کے لیے مرکزی سطح پر کرائسز کمیونیکیشن سیل کا قیام موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ بنیادی صحت کے نظام میںسرمایہ کاری اور علاج معالجے کی سہولت تک ہر ایک تک رسائی کوصحت کی قومی پالیسی کی کلید بنانا کامیابی کا سب سے آسان راستہ ہے۔اس کے علاوہ صحت کے بحران کے دوران صحت کے اداروں کو مزید بااختیار بنانااور مناسب فنڈز کی فراہمی بھی فائدہ مندثابت ہوگی۔ بحران سے موثر اندازمیں نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں تمام سطح پر تکنیکی صلاحیت کو بڑھایاجاناچاہیے۔ صحت کانظم و نسق بہتر کیا جائے۔ اسی طرح این سی او سی جیسا کثیرالجہتی رابطہ پلیٹ فارم بھی اہمیت کا حامل ہے۔
(بشکریہ ،بلوچستان ٹائمز،ترجمہ :راشد عباسی)