Shazray

میٹرک نتائج… امتحانی پالیسی کاجائزہ لینے کی ضرورت

کورونا امتحانی پالیسی کے تحت جاری ہونے والے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ہے، چند روز قبل خیبر پختونخوا کی میٹرک کی طالبہ نے سو فیصد نمبر حاصل کیے تو اس پر تعجب کا اظہار کیا گیا، محکمہ تعلیم نے میٹرک بورڈ امتحانات میں 1090سے زیادہ نمبر دیے جانے کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دے دی تاکہ اس کی تحقیقات کی جا سکیں۔ لیکن اب لاہور بورڈ نے سب کو چونکا دیا ہے، کیونکہ لاہور بورڈ نے میٹرک کا امتحان دینے والے 707امیدواروں کو 1100میں سے گیارہ سو فیصد نمبر دیئے ہیں۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں 400امیدواروں کو سو فیصد نمبر دیے گئے ہیں، یہی نہیں بلکہ امتحان دینے والے تمام طلباء کو پاس کر دیا گیا ہے، صرف وہ طلباء فیل ہوئے ہیں جو امتحان سے غیر حاضر رہے ہیں۔
کورونا امتحانی پالیسی نے جہاں ٹاپ تھری پوزیشن کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے وہاں پر طلباء میں غلط تاثر بھی گیا ہے، کیونکہ جو طلباء محنتی تھے اور دن رات ایک کر کے انہوں نے امتحان کے لیے تیاری کی تھی وہ اور کم محنتی طلباء برابر قرار پائے ہیں۔ جس طرح محنتی طلباء کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اسی طرح جن طلباء نے محنت نہیں کی تھی اس کے باوجود انہیں امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کر دیا گیا تو ایسے طلباء کم از کم اس وقت تک تو محنت نہیں کریں گے جب تک کورونا کی وباء موجود ہے۔ محکمہ تعلیم نے کورونا کی وجہ سے جو امتحانی پالیسی ترتیب دی وہ یہ تھی کہ اختیاری مضامین کا امتحان لیا گیا ، اختیاری مضامین میں بھی زیادہ سے زیادہ تین سے پانچ مضامین کا امتحان لیا گیا ، ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیتے ہیں کہ طلباء نے خوب تیاری کر کے اختیاری مضامین میں سو فیصد نمبر حاصل کیے اور ریاضی جیسے مضامین میں سو فیصد نمبرز کا حصول ممکن بھی ہے ، تاہم جن مضامین کا امتحان ہی نہیں لیا گیا ان مضامین میں سو فیصد نمبرز دینا قرین قیاس نہ تھا۔ اس سال جو ہوا آئندہ کے لیے اس امتحانی پالیسی کو ترک کیا جانا ضروری ہے تاکہ طلباء دلجمعی کے ساتھ محنت کر کے امتحان دیں اور تعلیمی اعتبار سے وہ جو منازل طے کریں اس کے حقیقی معنوں میں حقدار بھی ہوں۔
ڈینگی متاثرین کو علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں
صوبائی دارالحکومت پشاور کو ڈینگی کے حوالے سے حساس ضلع قرار دیا گیا ہے کیونکہ پشاور میں ڈینگی متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔محکمہ صحت نے اس کے تدارک کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر نصب فواروں کو بند کرنے سمیت متعدد اقدامات شروع کئے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسداد ڈینگی مہم میں کسی قدر تاخیر ہوگئی ہے۔ طبی ماہرین نے برسات کے موسم کو ڈینگی کی افزائش کے مہینے قرار دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے برسات سے پہلے انسداد ڈینگی مہم اور آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت تھی مگر اس ضمن میں کوتاہی کی گئی جس کا نتیجہ ڈینگی کی وجہ سے اموات اور سینکڑوں مریضوں کے ڈینگی سے متاثر ہونے کی صورت سامنے آرہا ہے۔پشاور میں جو اقدامات اب کئے جا رہے ہیں کاش چند ماہ پہلے اس طرف توجہ کی ہوتی ۔ اب جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں یہ اپنی جگہ مگر اب ڈینگی متاثرین کے علاج معالجے اور ان کے لیے الگ وارڈز قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ڈینگی متاثرین کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سرکاری آٹے کی عدم دستیابی
پشاور میں مارکیٹ سے کم نرخوں پر ملنے والے سرکاری آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے، 1100روپے میں فروخت ہونے والا سرکاری آٹا 1300سے 1400میں فروخت ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے آٹے کی مد میں سبسڈی دی گئی ، اس سبسڈی سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو کم از کم دو وقت کی روٹی نصیب ہو رہی تھی، یہی وجہ ہے کہ عوام سستے آٹے کے حصول کے لیے گھنٹوں لائنوں میں لگ کر مشکل کا سامنا بھی کرتے تھے۔ مگر ہر جگہ مافیا سرگرم ہوتا ہے اور عوام کے نام پر ملنے والی سبسڈی کو بلیک میں فروخت کر دیا جاتا ہے، جس سے اصل حق دار تو محروم رہتے ہیں جبکہ مافیا کی اثاثوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ عام مارکیٹ میں اشیاء خور و نوش کی دستیابی اور قیمتیں کنٹرول ہونی چاہئیں، پشاور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آٹے کے بحران کا جائزہ لے کر ملوث مافیا کے خلاف کارروائی کرے تاکہ عوام کو سستے آٹے کی دستیابی ممکن ہو سکے۔