خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات

خیبر پختونخوا بالآخر بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے پر آمادہ ہو گئی ہے ۔ محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن 15دسمبر کو صوبہ بھر میں ویلج و نیبر ہڈ کونسل کے بلدیاتی انتخابات کرائے جبکہ دوسرے مرحلے میں 25مارچ کو صوبہ بھر میں تحصیل و سٹی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کرائے جائیں۔پنجاب میں عدالت عظمیٰ کے حکم پر بلدیاتی ادارے بحال کر دیئے گئے ہیں اور لیت و لعل و عدالتی احکامات کی روح کے مطابق اقدامات نہ کرنے پر جواب طلبی بھی کر لی گئی ہے جبکہ سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ بھی شدت سے جاری ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا فوری انعقاد پورے ملک کی ضرورت ہے اور الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت اس امر کا پابند ہے کہ بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرے مگر دوسری جانب صوبائی حکومتیں لیت و لعل کے لئے ایسا موقع ڈھونڈ لیتی ہیں کہ الیکشن کمیشن صرف یاد دہانی تک مجبوراً محدود رہ جاتا ہے اور انتخابات کے انعقاد میں صوبائی حکومتوں کی مجبوراً متابعت اور ان کے حیلے بہانوں کو قبول کرنا پڑتا ہے یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ بروقت بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے شہروں اور قصبات کا بلدیاتی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور ہرکہ آمد عمارت نو ساخت کے مصداق بلدیاتی نظام اور ڈھانچے کی بغیر منصوبہ بندی تبدیلی کا تجربہ ناکامی کا شکار ہو کر حکمرانوں کا منہ چڑاتا ہے اس کا حل نظام کی اساس کوچھیڑے بغیر بہتری لانا ہے جس کی ضرورت کا احساس اور اس پر عمل پیرا ہو کر ہی بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا جا سکتا ہے ۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے جس طرح ماضی کی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے رویہ اختیار کیا تھا موجودہ حکومت بھی اس سے مبرا نہیں قرار دی جا سکتی ‘ المیہ یہ ہے کہ ماسوائے غیر جمہوری حکومتوں کے کسی بھی منتخب سیاسی حکومت نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کو قبول نہیں کیا اور اگر کبھی ایسا موقع بہ امر مجبوری آیا بھی تو بادل ناخواستہ یہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی لی گئی کیونکہ حکومتیں اپنی کارکردگی کی وجہ سے اس خوف میں مبتلا ہوتی ہیں کہ عوام ان کے حق میں ووٹ پول نہیں کریں گے حالیہ دنوں میں کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات میںکچھ ایسا ہی ہوا۔حقیقت یہی ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی حکومت اقتدار میں آتی ہے اور بلدیاتی ادارے پہلے ہی سے موجود ہوں تو ان کی مدت کی تکمیل تک سیاسی حکومتوں کی کارکردگی اس قابل نہیں رہتی کہ وہ اس پر فخر کرتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کرانے کے”خطرات” مول لیں ‘ سابقہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں مگر نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا رسک لینے کو صوبائی حکومتیں تیار دکھائی نہیں دے رہی تھیں یہ تو ا لیکشن کمیشن کی اس تنبیہ کے بعد کہ اگرصوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹس الیکشن کرانے کے لئے تاریخ مقرر نہیں کرتیں تو الیکشن کمیشن خود ہی شیڈول جاری کرکے انتخابات کرادے گا ‘ اس لئے اب بہ امر مجبوری اس حوالے سے پیش رفت پر صوبائی حکومتیں تیار ہو رہی ہیں ‘ بہرحال پھر بھی یہ بات غنیمت ہے کہ بالآخر بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ‘ جس کے بعد عوام کے مسائل حل کی کوئی صورت نکل آئے گی۔بہرحال خیبر پختونخوا میں مرحلہ وار انتخابات کا انعقاد خوش امر ہو گا موسمی حالات اور دیگر مسائل بہرحال پیش آتے ہیں ا ن سے نمٹنا جا سکتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے ایک ایسے وقت میں جب حزب اختلاف مہنگائی کو ایشو بنا کر حکومت کو چیلنج کر رہی ہے یا پھر حزب اختلاف باالحکمت انتخابی مہم چلا رہی ہے اس سے قطع نظر مہنگائی میں اضافہ کے عالم میں صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک چیلنج قبول کرنا ہے ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت پراعتماد ہے کہ وہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لے گی بہرحال سیاسی کامیابیوں اور ناکامیوں سے قطع نظر صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور عوامی سطح کے مسائل کے حل کی ذمہ داری شہری اداروں اور شہری نمائندوں کو حوالہ کرنا خوش آئند امر ہو گا۔