مشرقیات

اتنا پھاکھنڈ مچانے کی ضرورت کیا تھی، ہم آپ کو پہلے بھی سر آنکھوں پر بٹھاتے آئے ہیں آئندہ دور دور تک بھی آپ کا کوئی متبادل ہے ہی نہیں تو فکر کاہے کی اور پریشانی میں پریشان خٹک کیوں بنے پھرتے ہیں؟
ویسے ہی دو چار بندے ادھر سے اور دو چار ادھر سے رتبہ شہادت پر فائز کر دئے گئے حالانکہ ابھی ان کا دل دنیا میں ہی اٹکا ہوا تھا ،اللہ ہی جانتا ہے کہ” قربانی کے بکرے کی تلاش ”کا محاورہ ایجادکرنے والے نے ہمارا مستقبل دیکھ کر یہ پیشن گوئی کی تھی یا بکروں کو قربان گاہ پر چڑھانے کے بعد کسی کی آرزو پوری ہوتے دیکھ کر کسی سیانے نے ہم بکروںکومسقل طور پرقربان گاہ کی بھینٹ کے لئے وقف کر دیا تھا۔
ویسے دیکھتے تو یہی آئے ہیں کہ ملک وقوم کی قیادت کے” صحیح حقداروں”کے لئے یہ قوم شروع ہی سے قربانیاں دیتی آئی ہے ،تقسیم کے وقت لاکھوں لوگوںنے اپنی قربانی دے کر ان صحیح حقداروں کو زمام اقتدار سونپ دی تھی تب سے مجال ہے کہ ہما شما نے ان کی من مرضی کے خلاف کوئی اف بھی کی ہو،ہماشما میں کچھ لوگ بے شک شامل نہیں ،مگر ان حاسدوں کی ہم نے کب سنی مانی ہمیشہ وہی کیا جو پٹی آپ نے پڑھائی۔ اس سے بڑا اور کیا ثبوت دیں کہ اس قوم کے دس سال کے بچوں تک نے صحیح نام کے سامنے مہر لگانے کی مشق کی ہوئی ہے۔بچوں کوکرانے والوں میں ہر سیاسی جماعت کے وڈے نکے لیڈر شامل تھے۔
سو یہ ریت ہماری بہت پرانی ہے ،کوئی نیا گیم پلان بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ،ایک حکم پر دوڑنے والوں کی تعداد بے شمار ہے ،اپنے ”چندا میاں ”نے بھی اپنے لئے موقع دیکھ کر چوکا لگایا ہے تو ٹھیک ہے جہاں اتنے نمونے سہی وہاں ایک یہ بھی بھگت لیں گے۔ویسے ان کی برکت سے ہم دو دو تین تین دن عید مناتے رہے ہیں پھر سر پر سوار ہوگئے تو ہوسکتا ہے کہ ہر شب ‘شب برات’ بن جائے۔
اب ایک ہفتے بعد کوئی کالعدم نہیں رہے گا اپنے چندا میاں کی تقریر نوٹ فرمائی آپ نے وہ کینٹینرپر مائک سنبھال چکے ہیں سر غنہ وہ اس سارے کھیل میں بنے رہے ،نو ن غنہ کون ہیں یہ بھی آ ج کل میں آشکار ہوجائے گا۔ فکر مند ی پانچ دریائوں کی سرزمین کے ہر سیاسی گدی نشین کے چہرے پرڈیرے ڈال چکی ہے ان میں جو” مخدوم ”ہیں وہ تو پھر بھی گدی نشین رہیں گے تاہم جو اپنے ڈیرے آس پاس کی” کراماتی شخصیتوں”کے عقیدت مندوں سے آبا د رکھتے ہیں وہ سیاسی طور پر یتیم ویسیرہو جائیںگے۔دیوار پر لکھا انہیں نظر آرہا ہے کہ ان کے سامنے جو دیوار کھڑی کی جارہی ہے اس کامقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ گوشہ نشین ہوجائیں۔سوال یہ ہے کہ مذہب کا کارڈ استعمال کرکے اپنی خواہشات پوری کرنے کا سلسلہ کیا رنگ لائیگا؟تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم کیوںتاریخ دہرانے پر تل چکے ہیں؟