گیس کا سنگین ہوتا ہوا بحران

وفاقی وزیرتوانائی حماد اظہر نے موسم سرما میں گھریلو صارفین کو ناشتہ ‘ دوپہر اور رات کا طعام تیار کرنے کے لئے گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا عندیہ دے دیا ہے ۔قومی اسمبلی میںبحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک رکن اسمبلی نے درست کہا ہے کہ گیس بحران کا واحد حل ایران پاکستان گیس پائپ لائن میں ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ پاکستان پابندی کے ڈر سے ایران سے گیس کے حصول میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے حالانکہ بھارت ایران سے دھڑا دھڑ گیس لے رہا ہے جب تک ایران گیس پائپ لائن نہیں آئے گی پاکستان میں گیس بحران میںکمی تو کجا اس میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔تاپی منصوبے پر بھی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اس منصوبے کو سرے سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ ملکی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی آنے لگی ہے جبکہ گیس صارفین کی تعداد میں روز بروز اضافہ اور گیس کی طلب روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی جارہی ہے جبکہ ایل ا ین جی کی درآمد اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث یہ مہنگی ا یندھن اب عوام کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہے لیکن متبادل توانائی کے ذرائع نہ ہونے کی بناء پر عوام مجبور ہیںکہ وہ مہنگی ایندھن خرید کر استعمال کریں اس سال سردیوں میں حکومت کی جانب سے گیس بحران کے پیش نظربجلی کی قیمتوں میں رعایت کا اعلان کرکے بجلی کے استعمال کو بڑھانے کا جومنصوبہ بنایا ہے یہ بھی کافی ثابت نہیں ہو گا بہرحال اس حوالے سے جب تک عملی طور پر صورتحال سامنے نہ آئے اس بارے میں کسی پیشگی منفی رائے کا اظہار مناسب نہیں لیکن بہرحال یہ امر طے ہے کہ موسم سرما میں گزشتہ سالوں کی بہ نسبت ایندھن کا بحران بڑھنے کا امکان ہے جو مہنگائی کے مارے عوام کے لئے مزید مشکلات کاباعث ثابت ہو گااس سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اور متبادل کا بندوبست کا نہ ہونا بھی اپنی جگہ پریشان کن امر ہے جس پرحکومت کو بروقت توجہ کی ضرورت ہے۔امر واقع یہ ہے کہ گیس کا بحران ہمارے توانائی کے پیچیدہ مسائل میں سے ایک کلیدی مسئلہ ہے جو پچھلے کئی سالوں کے دوران کھپت کے مقابلے میں پیداوار میں اضافہ نہ ہونے کے باعث پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔ گیس کی ملکی پیداوار طلب کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے اور یہ فرق مزیدبڑھتا جارہا ہے ۔ 2017ء کے بعد اس فرق میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے اور تیزی سے بحران اور گیس قلت میں اضافہ جاری ہے یہ صورتحال آنے والے برسوں میں ملکی معیشت پرخدانخواسہ خوفناک اثرات مرتب کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔امر واقع یہ ہے کہ پچھلے چند برسوں سے بڑے پیمانے کے ہر صنعتی شعبہ کو گیس کے بحران کا سامنا ہے جس کے باعث پیداوار اور برآمدات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جو ملکی معیشت کے حوالے سے مزید پریشان کن امر ہے اگرچہ ایل این جی کی درآمد سے کچھ شعبوں کی گیس کی سپلائی میں بہتری ہوئی ہے مگر بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ایل این جی کا استعمال بذات خود بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی سطح پر نسبتاً ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہونے کی بناء پر اس کی کھپت میں اضافہ اور قیمتوں میںتیزی لانا ہے۔پاکستان جیسے ملک کے لئے ایل این جی خریدار ی اور استعمال مہنگا ترین سودا بن چکا ہے موسم سرما میں کھپت میںواضح اضافہ ہوجاتا ہے جس کے باعث ایل ا ین جی کی بھی قلت کا سامنا رہتا ہے ان تمام مسائل کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ گیس کی طلب پوری کرنے کے لئے ہمارے لئے ملکی وسائل پر انحصار ہی قابل عمل راستہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ گیس کی ملکی کنوئوں کی پیداوار میں اضافہ نئے وسائل کی دریافت اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اس طرح سے اگر دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے تو مہنگی ترین درآمدی گیس کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ایک سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قدرتی گیس کی اس عظیم نعمت کو جس طرح سے ضائع کیا جاتا ہے اور اس کا جس طرح بے دریغ استعمال ہو رہا ہے اسے جب تک نہ روکا جائے تو گیس کے بحران میں کمی لانا ممکن نہیں علاوہ ازیں سستی گیس کے استعمال میں کفایت شعاری نہ کی گئی اور یوں قدرتی گیس کا ضیاع جاری رہا تو مہنگی ایل این جی گیس پر انحصار بڑھ جائے گا۔اس مسئلے کا بڑا حل کفایت شعاری اور گیس کے استعمال کے ضیاع کی روک تھام ہی ہے۔سستی گیس کے بموجب جو آلات ہمارے ہاںمتعارف کرائے گئے وہ بھی ایسے تھے جن میں ایندھن کی بچت پر پوری طرح توجہ نہیں دی گئی تھی جس کے باعث ان کا بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔اب تک گیس کے وسائل کو جس بے دریغ طریقے سے استعمال کیا گیا اگر ہم بروقت اس کے ضیاع سے اجتناب کرتے تو ہم ان وسائل سے مزید چند دہائیاں استفادہ کر سکتے تھے ۔آج بھی ہمیں یہی راستہ اختیار کرنا چاہئے۔گیس کے جو باقی ماندہ ذخائر رہ گئے ہیںکم از کم ان سے استفادہ ‘کفایت شعاری کے ساتھ کیا جائے اور ساتھ ہی ایسے آلات مارکیٹ میں لائے جائیںجو توانائی کے باکفایت استعمال والے ہوںمشکل امر یہ ہے کہ ہمارے ہاںنہ تو حکومتی سطح پرمشکلات کاقبل از وقت اور بروقت ادراک کرنے کی روایت ہے اور نہ ہی عوام میں اتنا شعوراور پختگی ہے کہ وہ خود اپنے مفاد اور اپنے ملک کے مفاد کا سوچیں بہرحال اب جبکہ کافی تاخیر ضرور ہو چکی ہے جس کا مداوا تو ممکن نہیں صرف یہی ممکن ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع خاص طور پر شمسی توانائی کے استعمال کو بڑھانے کے اقدامات کئے جائیںجس کے ساتھ ساتھ موجودہ ذخائر کے استعمال کو صرف اور صرف ضروری گھریلواور صنعتی استعمال کے لئے مختص کیا جائے تاکہ صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبہ بھی زیادہ متاثر نہ ہو۔