مشرقیات

آپ یقین کریں مولانا صاحب ہمارے پسندیدہ رہنمائوں میں سے ایک ہیں یہ اور بات کہ ان کی کتاب ونصاب پر ہم نے کبھی مہرثبت نہیں کی۔اب ایک بار پھر انتخابی موسم ہے بلدیاتی انتخابات میں مولانا صاحب اوردیگر جماعتوں کی بھی پریکٹس ہو جائے گی اور سب کو اندازہ بھی ہوجائے گا کہ آئندہ عام انتخابات کے لئے کس کی کتنی تیاری ہے۔اپوزیشن جماعتوں میں ایک مولانا ہی ہیں جو گزشتہ انتخابات کے فوری بعدہی اگلے انتخابات کی تیاری پر جت گئے تھے ،با لکل اپنے کپتا ن کی طرح جنہیں دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں شکست ہوئی تھی تو انہیں ایک پل چین نہیں آرہا تھا اور میاں صاحب کی بنی گا لہ تک دوڑ دھوپ بھی کسی کام نہیں آئی اور کپتان اپنے کھلاڑیوں کو لے کر میاں صاحب کی حکومت کے خلاف ایک سال بعدہی میدان میں نکل آئے تھے۔اپنے مولانا صاحب کا خیال تھا کہ میاں صاحب کے ساتھ جو کریا کرم والا سلوک کیا گیا ہے اس کے بعد وہ پکے انقلابی بن گئے ہیں اور ان کی کال پر دوڑے چلے آئیں گے تاہم برا ہو چھوٹے میاں کا جو بقول منیرنیازی کے ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں اور اس دیر سویر کے فائدوں پر ان کی نظر رہتی ہے۔اب سنا ہے مولانا لاکھ شور مچائیں چھوٹے میاں پرا س کا اثر نہیں ہونے والا ،بڑے میاں کولندن بھیجنے سے قبل بانڈ مولانا نے کوئی تھوڑ ی بھرا ہے ،ساری ذمہ داری چھوٹے میاں کے نازک کاندھوں پر ہے جو اتنے نازک ہیں کہ مولانا کا وزن دیکھ کر ہی پہلے والی ذمہ داری انہیں یا د آ جاتی ہے ،آج کل میں مولانا صاحب بھی مان جائیں گے کہ لانگ مارچ ہو یا ان کی استعفوںکی ڈیمانڈ اس سے پی پی پی کا بدکنا تو سمجھ میں آتاتھا جو سند ھ کی حکومت چھوڑنا افورڈ نہیں کر پا رہی تھی تاہم مسلم لیگ (ن )والے کون سے من وسلو یٰ کی وجہ سے استعفوں اور لانگ مارچ سے بدک جاتے ہیں۔تو کیا واقعی کوئی ایسا معاہدہ ہے جدہ قسم کا جو مشرف سے کیا تھا چھوٹے اور بڑے میاں نے،اس آٹھ سالہ معاہدے کے بعد ہی میاں صاب تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے لئے پاکستان آئے تھے اب چوتھی بار شیر وانی پہننے کے لئے کتنے سال جلاوطن رہیں گے یہ ہمیں مولانا کسی روز تپ کر بتا ہی دیں گے سنا ہے مسلم لیگ( ن) کی اگر مگر سن سن کر ان کے کان پک گئے ہیں،اب انہیں مارچ تک ٹال دیا گیا ہے اور بقول شیخ رشید کے مارچ کے بعد مارچ کا وقت ہی کہاں ہے پھر تو الیکشن کی تیاری کا ہی سب نے سوچنا ہے۔