خنثیٰ ‘ خواجہ سراء اور ٹرانس جینڈر ایکٹ

آج کل ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے کافی شور برپا ہے اور ہونا بھی چاہئے ۔ لیکن ہمارے ہاں ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ اچھا بھلا سنجیدہ علمی موضوع اور مسئلہ سیاست اور عوامیت کے سبب کچھ سے کچھ بن جاتا ہے ۔ کئی بار اس موضوع پر سوچا ‘ اور بھلے دنوں میں اس پر ایک چھوٹا سا تحقیقی مقالہ بھی ایک ریسرچ جرنل میں شائع کروایا تھا اور اب بھی دل چاہتا ہے کہ عوام ا لناس اور خواص کی آگاہی کے لئے اس موضوع پرسیر حاصل گفتگو کی جائے ۔ لیکن ایک تو یہ موضوع بہت تفصیل طلب ہے دوسرا ٹھوس تحقیقی و علمی مزاج کا ہے ‘ جس کے لئے ا خبارات کا کالمی دامن بہرحال کفایت نہیں کر سکتا ۔ لیکن آج کی نشست میں اس موضوع کا مختصر تعارف کچھ تاریخ اشارے اور وقت موجود میں اس سلسلے میں حکومت ‘سیاستدانوں اور علماء و فقہاء کے درمیان جو اختلاف فکر و نظر پایا جاتا ہے پیش خدمت ہے ۔
ٹرانس جینڈر ‘ خنثیٰ کا انگریزی ترجمہ ہے جواگرچہ مکمل نہیں ہے کیونکہ ودنوں کی کیمسٹری میں فرق ہے ۔ بعض حضرات نے ٹرانس جینڈرکا ترجمہ خواجہ سراء ‘ اور بعض نے ”مخنث ” بھی کیا ہے ۔ لیکن ان تینوں میں کچھ متاشبہات ہوتے ہوئے بھی صریح فرق ہوتا ہے ۔ خواجہ سراء اردو اور فارسی زبان میں ایسے شخص کو بولا جاتا ہے جس کی مردانگی کے حامل اعضاء یعنی خصیے اور عضو تناسل کاٹ ڈالے گئے ہوں ۔۔ انگریزی میں ایسے شخص کو” Eunuch” کہا جاتا ہے ۔یہ لوگ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں درباراور حرام سرا کے درمیان پیغام رسانی اور خدمات کی بجا آوری کے لئے زیر خدمت رہتے ۔ اور بعض خواجہ سرا تاریخ میں بہت اہم کردار کے حامل بھی رہے ہیں۔ عباسی خلافت کے بادشاہوں کے درباروں میں ان کا ذکر ملتا ہے ‘ ہمارے ہاں ”ہیجڑا” اور ”زنخا” کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ خنثیٰ لوگ فطرتی طور پر نامکمل مرد یا نامکمل عورت کی طرح پیدا ہوتے ہیں ۔ بس ابھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہوتے ہیں ۔ اسلامی فقہ میں اس حوالے سے تفصیلی تعلیمات و احکام موجود ہیں جس میں عبادات ‘ وراثت اور جنازے وغیرہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ خواجہ سرا تو چونکہ پیدائشی طور پر مرد ہوتے ہیں لیکن بادشاہوں کے جلال کے بھینٹ چڑھ کر نہ مرد رہتے ہیں اور نہ عورتیں۔ بس صرف خدمت گزار رہ جاتے ہیں۔
خنثیٰ میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اکثریتی اعضاء و عادات متشابہ بہ مرد ہوتے ہیں اور بعض کے اکثریتی معاملات مشابہ بہ عورت ہوتے ہیں ‘ لہٰذا فقہاء نے اس کے مطابق ان کی تقسیم کی ہے ۔ ان میں اگر کسی وقت کوئی یہ محسوس کرے کہ اس پر مردانہ علامات و احساسات وجذبات غالب آرہے ہیں تو آج کی جدید طبی علوم و آلات و جراحی کے ذریعے اگر وہ مکمل مرد کی شکل و کیفیت اختیار کرتا ہے تو فقہاء کے نزدیک اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ جہاں تک ٹرانس جینڈر کا تعلق ہے تو یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے ۔ خاص کر اسلامی تعلیمات و احکام کی رو سے قابل بحث ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تحقیق بھی ہے ٹرانس جینڈر ‘ خنثیٰ اور خواجہ سراء سے بالکل ایک الگ چیز ہے جو مغرب کی جدید آزادانہ تہذیب تمدن اور سائنسی علوم کی ترقی کی مرہون منت ہے ۔اس لئے علماء اپنی فقہی زبان و اصطلاح میں ”ٹرانس جینڈر” کو عام اور مخنث و خواجہ سرا کو خاص قرار دیتے ہیں۔ ”ٹرانس جینڈر” ایسے افراد ہیں جن کی جنسی شناخت ان کی اصل جنس کے خلاف ہوتی ہے ‘ یعنی پیدائش کے وقت ان کے ظاہری اعضائے تناسل کے پیش نظر ان کی جو جنس بتائی جاتی ہے بعد میں اپنے داخلی احساسات’ خواہشات اور جذبات کی وجہ سے وہ اپنی پیدائشی جنس کو رد کرتے ہوئے طبی طور پرتبدیل کرنا چاہتے ہیں یعنی اس طبی عمل و جراحت کے مراحل سے گزر کر ایک اچھا بھلا مرد ‘ عورت بن جائے گا اگرچہ اس میں عورت کی تولیدی صفت اور دیگر نسوانی اعضاء وغیرہ پیدا نہیں ہوتے اور نہ ہی عورت سے مرد بن جانے والے فرد میں مرد کی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ اگرچہ اپنے داخلی احساسات کو مکمل طور پر ہارمونز تھیراپی میں انجکشن بھی لگوائے جاتے ہیں اور تغیر جنس کے لئے سرجری بھی کرواتے یں جس کے ذریعے آواز ‘ بال اور بعض دیگر علامتیں بدل جاتی ہیں شرعی نقطہ نظر سے ان صورتوں میں تغیر جنس کے لئے مطلوبہ اور رائج آپریشن جائز ہے یا ناجائز۔ اسی نقطے اور مسئلے پر پاکستان اور دیگر اسلامی ملکوں میں حکومتوں اور علماء کے درمیان شدید اختلافات ہیں کیونکہ اس کے ساتھ بہت سارے شرعی ‘ قانونی اور معاشرتی و سماجی و تہذیبی مسائل وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جوڑوں کی صورت میں پیدا کیا ہے کوئی تیسری جنس پیدا نہیں کی ہے ۔ خنثیٰ یا مخنث کو غالب علامات کے پیش نظر نر یا مادہ قراردے کر اس پر متعلقہ جنس کے احکام جاری کئے ہیں۔قرآن کریم میں تغیر مخلق اللہ کا ذکر اگرچہ جانوروں کے کان کاٹنے کے حوالے سے آیا ہے اور اس کو ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن فقہاء نے اس کا مصداق عام قرار دیاہے یعنی یہ صرف جانوروں تک محدود نہیں ہے ۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء کرام و فقہاء دین متین اور عالم اسلام کے سائنس دان اور اطباء حضرات مل کر ٹرانس جینڈر پر سیر حاصل تحقیق کے بعد مسلمان ممالک کے قانون سازوں کی رہنمائی کریں تاکہ امت کے درمیان فتنہ پیدا نہ ہو یہ چند مختصر معروضات تھیں ورنہ جیسا کہ ابتداء میں عرض کیاگیا کہ یہ کالمی موضوع نہیں بلکہ تحقیقی ہے لہٰذا تفصیل طلب ہے ۔

مزید دیکھیں :   حاجی غلام علی کونسلر تا گورنر