انوکھا خواب اور فتح

انوکھا خواب اور فتح

تاریخ ابن خلکان میں رکن الدولہ بن بویہ کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اس کی کسی دشمن سے لڑائی ہوئی اور فریقین میں خوراک کی اس قدر تنگی ہوئی کہ دونوں نے اپنے اپنے جانوروں کو ذبح کرنا شروع کر دیا اور رکن الدولہ کی حالت تو یہ ہوگئی کہ اگر اس کا بس چلتا تو شکست قبول کر لیتا۔
چنانچہ اس نے اپنے وزیر ابو الفضل بن العمید سے مشورہ کیا کہ آیا جنگ جاری رکھی جائے یا گریز کیا جائے؟
وزیر نے جواب دیا کہ آپ کے لئے سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے اور کوئی جائے پناہ نہیں۔لہٰذا آپ مسلمانوں کے لئے خیر کی نیت رکھیں اور حسن سیرت اور احسان کرنے کا پختہ ارادہ فرما لیں اور یہ اس لئے ضروری ہے کہ فتح حاصل کرنے کی جملہ تدابیر جو ایک انسان کے قبضہ قدرت میں تھیں وہ سب منقطع ہو چکیں۔ لہٰذا اگر ہم لڑائی سے جان بچا کر بھاگنے پر کمر باندھ لیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ دشمن ہمارا تعاقب کر کے ہم کو قتل کر دیں گے،کیونکہ ان کی تعداد ہم سے بہت زیادہ ہے۔ بادشاہ نے وزیر کی یہ تقریر سن کر فرمایا کہ اے ابوالفضل میں تو یہ رائے تم سے پہلے ہی قائم کر چکا تھا۔
ابوالفضل وزیر کا بیان ہے کہ میں اس کے بعد رکن الدولہ کے پاس سے اٹھ کر اپنے ٹھکانہ پر آ گیا۔لیکن جب تہائی رات باقی رہ گئی تو رکن الدولہ نے مجھے بلا بھیجا اور کہا کہ ابھی میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ گویا میں اپنے دابہ(فیروز نامی گھوڑے) پر سوار ہوں اور ہمارے دشمن کو شکست ہو چکی ہے اور تم میرے پہلو میں چل رہے ہو، اور ہم کو ایسی جگہ سے کشادگی پہنچی کہ جہاں ہمارا وہم و گمان بھی نہ تھا۔چلتے چلتے میں نے نگاہ نیچی کر کے زمین کی طرف دیکھا تو مجھے ایک انگشتری پڑی ہوئی نظر آئی۔
چنانچہ میں نے اس کو اٹھا لیا اور دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں فیروزہ کا نگینہ لگا ہوا ہے۔میں نے اس کو تبرک سمجھ کر اپنی انگلی میں پہن لیا اور اس کے بعد فوراً میری آنکھ کھل گئی۔ میری رائے میں اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ ہم کو ان شاء اللہ فتح ہو گی کیونکہ فیروزہ اور فتح دو مترادف الفاظ ہیں اور میرے گھوڑے کا نام بھی فیروز ہے۔
وزیر ابوالفضل کا بیان ہے کہ ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ہم کو یہ خوشخبری پہنچی کہ دشمن فرار ہو گئے اور اپنے ڈیرے خیمے سب چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چنانچہ جب متواتر یہ خبریں آتی رہیں تو ہم کو دشمن کی ہزیمت کا یقین ہو گیا۔ بہرحال ہم کو دشمن کی شکست کے اسباب کی کوئی خبر نہ تھی۔اس لئے ہم آگے بڑھے مگر اس خیال سے کہ ہمارے ساتھ کہیں کسی نے کوئی دھوکہ نہ کیا ہو اس لئے ہم نے احتیاط کا پہلو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور میں احتیاطاً بادشاہ کے ایک جانب ہو گیا۔
بادشاہ اپنے گھوڑے فیروز پر سوار تھے۔ ہم ابھی کچھ ہی قدم آگے بڑھے تھے کہ بادشاہ رکن الدولہ نے ایک غلام سے جو ان کے آگے آگے چل رہا تھا، چیخ کر کہا کہ یہ انگشتری اٹھا کر مجھے دو۔ چنانچہ غلام نے وہ انگشتری اٹھا کر بادشاہ کو دے دی، اس انگشتری میں ایک فیروزہ جڑا ہوا تھا،رکن الدولہ نے فوراً وہ انگشتری پہن لی اورکہنے لگا میرے خواب کی تعبیر پوری ہوگئی۔ یہ بعینہ وہی انگشتری ہے جو میں نے خواب میں دیکھی تھی۔
رکن الدولہ کا نام حسن ابو علی تھا،یہ ایک جلیل القدر اور بارعب بادشاہ گزرا ہے۔اصفہان،رے،ہمدان،آذرپورا عراق و عجم اس کی مملکت میں داخل تھے اس کے علاوہ اور بہت سے ممالک اس نے فتح کر کے اپنی زیر حکومت کر لئے تھے اور ان ممالک کے لئے اس نے کچھ قواعد و قوانین بھی مقرر کئے تھے۔اس عظیم بادشاہ نے٤٤سال تک حکومت کی اور ماہ محرم٣٦٦ ھ میں بعمر٩٩ سال میں وفات پائی۔ (تاریخ کے سنہری واقعات)

مزید دیکھیں :   ایران نے جوہری بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا