احاطہ عدالت میں سینئروکیل کا قتل

معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سابق صدرلطیف آفریدی کو احاطہ عدالت میںاندھا دھند فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کا واقعہ نہایت سنگین ہے ملزم کی اسلحہ سمیت بارروم تک رسائی اور سینئر وکیل کو نشانہ بنانے کا عمل اس بنا پراوربھی زیادہ افسوسناک ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسی عمارت میں ہوا جہاں لو گ انصاف کے لئے رجوع کرتے ہیں اگربار روم جیسی جگہ بھی محفوظ نہیں تو پھر وہ کونسی ایسی جگہ ہوسکتی ہے جو محفوظ سمجھا جائے ۔ابتدائی طور پر خیال ہے کہ سینئر وکیل کی پرانی دشمنی تھی اور وہ قتل کے ایک ایسے مقدمے میں ملوث ٹھہرائے گئے تھے جس میں عدلیہ ہی کے ایک رکن کونشانہ بنایا گیاتھا بار روم میں سینئروکیل کے قتل سے وکلاء برادری میں رنج و غم فطری امر ہے ساتھ ہی ان میں احساس عدم تحفظ میں اضافہ اور ان کواپنے پیشہ ورانہ معاملات میں قدم قدم پر خطرات کا سامنا ہونے کا احساس بڑھے گا۔حساس مقامات کی سکیورٹی ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہا ہے پولیس کی تحویل میں اور عدالت میں پیشی کے لئے آتے جاتے اور یہاں تک کہ جج کے سامنے کھڑے ملزم کے قتل کاواقعہ بھی پیش آچکا ہے اور محولہ واقعے میں بھی حساس نوعیت کے کیس کے ملزم کونشانہ بنایا گیاتھایہ سارے واقعات معمول کی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے اندر اور احاطہ عدالت میں سکیورٹی کاسوال اٹھنا فطری امر ہے اگر احاطہ عدالت اور بارروم تک محفوظ نہ ہو تو پھرتحفظ کا سوال پیداہونا فطری امر ہو گا ۔ سینئر وکیل کے قتل کے ملزم کی موقع پر گرفتاری سے اس واقعے کی اصل حقیقت اور نوعیت معلوم کرنے میںمشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہئے ابتدائی طور پر تو یہ ذاتی دشمنی کاشاخسانہ نظرآتا ہے ممکن ہے اس کے دیگر محرکات بھی ہوں جن کاابھی سامنے آنا باقی ہے ۔ ایک ایسے وقت جب پولیس خود خطرات میں گھری اور الرٹ ہواحاطہ عدالت میںمسلح شخص کا داخلہ اور ہدف کوباآسانی نشانہ بنانے میں کامیابی لمحہ فکریہ ہے جس کاتقاضا ہے کہ عدالتوں اور باررومز کی سکیورٹی پرخصوصی طور پر توجہ دی جانی چاہئے اورآئندہ کے لئے اس طرح کے واقعات کے تدارک کی سعی ہونی چاہئے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ بار بار پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئے اور احاطہ عدالتوں کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ کی جائے گی اورایوان ہائے عدل کے ارد گرد سکیورٹی کے خصوصی انتظامات یقینی بنائے جائیں گے جس کی امن وامان کی تازہ درپیش صورت حال میں خاص طور پر ضرورت بھی ہے۔

مزید دیکھیں :   احتجاج کی نوبت نہ آئے