چیف الیکشن کمشنر صدر مملکت

چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات نہ کرنے فیصلہ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت صدر مملکت کی جانب سے ملاقات کیلئے لکھے گئے خط کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں قانونی ٹیم نے آئینی و قانونی طور پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر سے انتخابی شیڈول پر مشاورت ضروری نہیں، قانونی ٹیم نے صدر مملکت سے مشاورت نہ کرنے کی تجویز دی۔ اجلاس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو جوابی خط لکھ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جنرل الیکشن کی تاریخ طے کرنے کیلئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی، اب الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں 26 جون کو ترمیم کر دی گئی ہے، اس ترمیم سے قبل صدر الیکشن کی تاریخ کے لیے کمیشن سے مشاورت کرتے تھے، اب سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کو تاریخ یا تاریخیں دینے کا اختیار ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48 فائیو کو آئین کے آرٹیکل 58 ٹو کے ساتھ پڑھا جائے، وزیراعظم کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کی جائے تو کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ہے۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ فسطائیت کی مثال ہے، امیر جماعت اسلامی