اٹک جیل میں عدالت

اٹک جیل میں عدالت لگانے کا کوئی قانونی جواز نہیں، بیرسٹر سیف

ویب ڈیسک: اٹک جیل میں ہونے والے ٹرائل پر تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹک جیل میں عدالت لگانے کا کوئی قانونی جواز ہے نہ یہ قانونی تقاضوں پر پوری اترتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عدالتی کارروائی اور جوڈیشل ریمانڈ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، بیرسٹر سیف نے کہا کہ اٹک جیل میں ہونے والے ٹرائل آرٹیکل اے 10 کے آئینی تقاضوں کی نہ صرف خلاف ورزی ہے بلکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی قانون سازی کا طریقہ کار ہی غیرآئینی ہے، صدر مملکت کے بیان کے بعد آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی آئینی حیثیت مشکوک ہو چکی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کوئی بھی مقدمہ چلانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بیرسٹر سیف نے مزید بتایا کہ موجودہ کیس آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا کیونکہ سائفر کو ڈی کلاسیفائی کر دیا گیا تھا، یہ کیس ایسا ہی بے بنیاد ہے جیسا کہ نواز شریف کی بیماری کا بہانہ تھا۔

مزید پڑھیں:  صوبائِی حکومت کا سرکاری رہائش گاہوں کے کرایوں میں اضافہ