کوروناکےمشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے- چیف جسٹس گلزار احمد

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کوروناوائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت، چیئرمین این ڈی ایم اے جنرل افضل عدالت میں پیش،آٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اخراجات پر وضاحت کے لیے چیئرمین این ڈی ایم اے موجود ہیں، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں ہے.

چیف جسٹس گلزار احمد نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں ،سروسز کے معیار سے متعلق ہے،کوروناکےمشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،ہمارے ملازمین کا سرکاری لیب سے مثبت اور نجی سے منفی آیا،قرنطینہ سنٹرز میں واش رومز صاف نہیں ہوتے پانی نہیں ہوتا،قرنطینہ سنٹرز میں 10،10 لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں.

چیف جسٹس گلزار احمد نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ہماری معیشت کا شمار افغانستان،یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے،ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں لوگوں کا احساس نہیں.

جب چیئرمین این ڈی ایم اے کو عدالت نے روسٹرم پر طلب کیا تو چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ آپ کی رپورٹ میں پی پی ایز بنانے کی کمپنی کا ذکر ہے،ڈیسٹوپاکستان آرمی کیا ہے ہے؟ کیا یہ کسی پرائیویٹ شخص کی کمپنی ہے، جس پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ ڈیسٹو کمپنی ایس پی ڈی کی زیلی کمپنی ہے.