بھینسوں کے باڑوں کی شہر سے منتقلی کی پھر بازگشت

محکمہ بلدیات کی جانب سے بھینسوں کے باڑوں کی شہر سے منتقلی کا نوٹس اور ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی اگر قبل ازیں کے طرح کی کوئی ڈنگ ٹپائو قسم کی کارروائی ہے تواس سے کوئی امید وابستہ کرنے کی ضرورت نہیں اس طرح کے نوٹسز نجانے کتنے سالوں سے جاری ہوتے آئے ہیں اور ایک آدھ بار کوئی نمائشی کارروائی بھی ہوئی ہو گی لیکن عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ شہری علاقوں میں بھینسوں کے باڑے اب بھی موجود ہیں جس سے آبادی کو درپیش مشکلات کے اعادے کی ضرورت نہیں جن حکام نے نوٹسز کا اجراء کیا ہے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج ضرور کریںاور ساتھ ہی دیگر ممکنہ قسم کے اقدامات از قسم انقطاع آب ونکاسی آب وحفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی جیسے دیگر امور پر بھی قانون میں موجود سزائوں کا اطلاق کریں حکام چاہیں تو بھینسوں کے باڑوں کی منتقلی کوئی مشکل کام نہیں بشرطیکہ حکام پورے عزم کے ساتھ اس کے خواہاں ہوں اور عملی اقدامات کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔توقع کی جانی چاہئے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے شہر میں بھینسوں کے باڑوں کے خلاف راست اقدامات کا جوعندیہ دیاگیا ہے اس پر روایتی تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا بلکہ عملی طور پر بھینسوں کے باڑوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا عمل ہوگااس ضمن میں باڑوں کے مالکان کو شہر سے باہر متبادل جگہ کی فراہمی کی ذمہ داری بھی پوری کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ مسئلہ مستقلاً حل ہو جائے ۔

مزید پڑھیں:  خیبر پختونخوا حکومت کیا کر رہی ہے؟