کورونا کی جمہوریت دشمنی

چند ماہ کے تجربات کے بعد اب کورونا وائرس کے صحت دشمن اور معیشت دشمن ہونے میں تو کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہا۔ اس وائرس نے دنیا میں لاکھوں افراد کو چاٹ کھایا جن میں کلاس اور طبقے، رنگ ونسل، مذہب وملک کسی بات کی تفریق نہیں۔ جہاں عام لوگ اس کی زد میں آئے وہیں یہ دنیا بے شمار نامور لوگوں سے اسی وائرس کی وجہ سے محروم ہو گئی۔ امریکہ کا مشہور اخبار ٹائم اس وبا کے ہاتھوں جاں گنوا بیٹھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور امریکیوں کی فہرست تصویروں کیساتھ مسلسل شائع کرتا چلا آرہا ہے۔ ہمارے پاس شاید اس طرح کا حساب کتاب کرنے کا وقت ابھی نہیں۔ کورونا انسان کو بھوت کی طرح چمٹ جاتا ہے اور کچھ خوش قسمت غیرمحسوس طریقے سے اس شکنجے سے نکل جاتے ہیں مگر جو اس میں جکڑے جائیں بہت اذیت اور کرب سے گزر کر واپس آتے ہیں۔ یوں کورونا کے صحت دشمن ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ اسی طرح کورونا نے کاروبارحیات کو بار بار معطل کراکے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ملکوں کی معیشت تو اس کی زد میں آنا ہی تھی مگر عام آدمی کی معاشی دنیا پر یہ آسمانی بجلی بن کر گر پڑی اور دنیا بیروزگاری کا ایک لق ودق صحرا بنتی جا رہی ہے۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے آنے والے دنوں میں اس وبا کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے آج کے آئینے میں کل کے حالات کا عکس باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح صحت دشمن کورونا معیشت دشمن بھی ثابت ہوا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی اب کورونا کا ایک نیا پہلو بھی سامنے آگیا ہے وہ ہے اس کی جمہوریت دشمنی۔ یوں لگتا ہے کہ اس وائرس کے مزاج میں آمریت رچ بس گئی ہے اسی لئے جب سے یہ نمودار ہوا ہے اس سے بچاؤ اور تحفظ کے نام پر دنیا میں اختیار کی جانے والی پالیسیوں کا زیادہ تر بوجھ شہری آزادیوں پر پڑا۔ سماجی فاصلوں اور قرنطینوں کے قیدخانوں سے ہٹ کر بھی حکومتوں کی پالیسیویں میں اپنے فیصلوں کو منوانے میں سخت گیری کا عنصر بڑھ گیا۔ جس سے شخصی آزادیوں کی گنجائش کم ہوکررہ گئی۔ کورونا کی جمہوریت دشمنی اور آمریت پسندی کا ایک ثبوت سویڈن کے شہر سٹاک ہوم سے جاری ہونے والا کھلا خط ہے۔ یہ خط سویڈن کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئیڈیا) نامی ادارے نے جاری کیا اور اس پر پانچ سو مشہور سیاسی، سماجی شخصیات کے دستخط ثبت ہیں۔ ان میں مختلف ممالک کے سابق صدور سابق وزرائے اعظم ماہرین قانون، دانشور، نوبل انعام یافتگان بھی شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ کورونا وبا کی آڑ میں کئی ممالک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور انسانی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے آمرانہ طرز حکومت رکھنے والے ممالک کیساتھ ساتھ کئی جمہوری ممالک میں بھی کورونا وائرس کو بہانہ بناتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالی اور جمہوریت کے منافی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ علاوہ ازیں کئی ملکوں میں حکومتوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کیلئے کورونا وبا کی آڑ میں اظہار رائے پر پابندی اور خفیہ نگرانی تک جیسے اقدامات کئے ہیں۔ خط میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والی بعض حکومتیں بھی کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے ہنگامی حالات کا نام لیکر اپنے مخصوص اختیارات کا غیرضروری اور ناجائزاستعمال کر رہی ہیں جس کے تحت کرفیو اور بھاری جرمانوں کے علاوہ سنسرشپ کے ذریعے نہ صرف میڈیا بلکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو دبایا جا رہا ہے۔ اس خط میں اقوام متحدہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ کئی ملکوں میں کورونا سے نمٹنے کے نام پر انتظامیہ کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے ان ملکوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں اب تک چھیاسٹھ انتخابات ملتوی ہو چکے ہیں جن میں بائیس قومی سطح کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ پچاس ممالک میں میڈیا پر کسی نہ کسی انداز سے پابندیاں لگا دی گئی ہیں اور ان میں اکیس جمہوری ممالک ہیں۔ دنیا کی نامور شخصیات کا یہ مکتوب انسانیت کو درپیش سنگین بحران کے اہم ترین موڑ پر ازخود ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب نے شہری آزادیاں اور جمہوری طرز حکومت صدیوں کی جاں گسل جدوجہد اور ابتلاء وآزمائش کے کئی ادوار سے گزرنے کے بعد حاصل کئے تھے۔ یہی نہیں مغرب نے اس طرز حکومت کو دنیا کے مسائل کیلئے بھی ایک نسخۂ شفا قرار دے رکھا تھا۔ دنیا بھی بڑی حد تک اس بات کی قائل ہوچکی تھی کہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود کارحکومت چلانے کا سب سے بہترین نظام جمہوریت یا اس سے قریب تر انداز ہے۔ اس تصور کی حمایت میں مفکرین کے قول ڈھونڈ لائے گئے تھے، کتابیں لکھی گئی تھیں، ادارے قائم ہوئے تھے مگر ایک حقیر وائرس نے جہاں زندگی میں بہت کچھ بدل ڈالا وہیں قربانیوں سے کاشت کردہ جمہوریت نامی پودا بھی خزاں کی زد میں آچکا ہے۔ انسان کورونا سے گھبرا کر جمہوریت کو بھی اپنی حقیقی بنیاد یعنی شہری آزادی سے محروم کر رہا ہے اور یہ سب غیرمحسوس طریقے سے ہو رہا ہے۔ آمرانہ طرز حکومت رکھنے والے ملکوں میں آمریت کا شکنجہ مزید سخت ہوجائے تو کوئی خبر نہیں ہوتی مگر جمہوری معاشروں میں آمریت کے طور طریقے اپنائے جانے لگیں تو خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کورونا جاتے جاتے اور بہت سی روایتوں اور رواجوں کیساتھ ہی مغربی جمہوریت کے رنگ ڈھنگ ہی بدل کر نہ چلا جائے۔