سچ پوچھو روگ اپنا جمہوری تخت نشینی ہے

جانشین کی نامزدگی اور اقرباء پروری سطحی اور سفلی ذہنیت کے حامل رہنماؤں کی ایک بڑی کمزوری رہی ہے کیونکہ انہیں اُمید ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ان کے نام کو زندہ رکھے گی اور اس کے ذریعے سے انہیں سعادت سرمدی اور بقائے ابدی حاصل ہوگی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ اتنی اہمیت کا حامل ہوتا تو دنیا کے عظیم ترین ہستیوں نے اس سے گریز کیوںکیا؟ اگر جانشین نامزد کرنا ضروری ہوتا توکیا دانائے اعظم حضرت علی سے بڑھ کر کوئی اور آپۖ کے جانشین بننے کا اہل ہوسکتا تھا؟ لیکن آپۖ نے ایسا قدم اُٹھانے سے گریز کیا اور خاندان کے افراد کو اعلیٰ عہدوں سے دور رکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ اقتدار کسی خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک مقدس قومی فریضہ اور ایک امانت ہے۔ دنیا کے وہ عظیم رہنماء جنہوں نے ملک وقوم کی تقدیر بدل کر رکھ دی، انہوں بھی اس عمل کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ بسمارک، کیور، جارج واشنگٹن، جیفرسن، ابراہم لنکن، چرچل، لینن، مصطفی کمال، محمد علی جناح، مہاتما گاندھی، ماؤزے تنگ، چارلس ڈیگال، خمینی، نیلسن منڈیلا وغیرہ وغیرہ نے کسی کو اپنا جانشین نامزد کرنا ضروری نہیں سمجھا اور نہ ہی اعلیٰ عہدوں پر اپنے خاندان کے ا فراد کو بٹھایا۔ یہ وہ نام ہیں جنہیں زمین نگل چکی ہے لیکن جن کے کارنامے زوال اور فنا سے ماؤرا ہیں۔ جانشین کی نامزدگی اور اقربا پروری سے اگر ملک وقوم کو کوئی فائدہ بھی ہوتا تو ترقی یافتہ ممالک اس معاملے میں بھی ضرور پہل کرتے لیکن وہاں ایسا ہوا ہی نہیں۔ آج تک یہ سننے میں نہیں آیا ہے کہ امریکی صدر، روسی صدر، چائنہ کے صدر، برطانیہ کے وزیراعظم، فرانسیسی صدر یا کسی جرمن چانسلر نے کسی کو اپنا کوئی جانشین بنایا ہے یا حکومت کے اعلیٰ عہدے اپنے خاندان کے افراد میں بانٹ دیئے ہیں۔ وہاں ایسا ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ وہاں عوام اتنے باشعور اور سمجھ دار ہیں کہ وہ اسے کسی صورت میں بھی گوارا نہیں کرسکتے۔ تیسری دنیا کے ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان بھی موروثی سیاست کے شکنجے میں پوری طرح کسا ہوا ہے۔ موروثی سیاست اس وقت سرزمین پاکستان میں ایک تناور درخت کی شکل میں اُبھر کر سامنے آئی ہے اور اس کی جڑیں اس قدر گہری اور مطبوط ہوگئی ہیں کہ کسی صورت میں انہیں ہلایا نہیں جاسکتا۔ اس منفی طرزسیاست نے پاکستانی سیاست پر بدترین اثرات مرتب کئے ہیں کیونکہ موروثی سیاستدان اس بوہڑ کے درخت کی مانند ہے جو اپنے نیچے کوئی اور پودا پروان چڑھنے نہیں دیتا۔ اس وقت بدقسمتی سے محدود وژن کے حامل سیاستدان پاکستانی سیاست پر پوری طرح چھائے ہوئے ہیں اور ہر قیمت پر اقتدار کی دیوی کا بت ہمیشہ کیلئے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں سجا لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ پرانے زمانے میں جب بادشاہ کسی کو اپنا جانشین نامزد کرتا یا اقربا پروری کرتا تو یہ بات قابل فہم بھی تھی کیونکہ وہ اقتدار کو عوام کی امانت سمجھنے کے بجائے اسے اپنا ایک ذاتی اثاثہ سمجھتا تھا لیکن آج کے اس جدید جمہوری دور میں شخصی سلسلہ حکمرانی اور اقربا پروری سمجھ سے بالاتر ہے۔ موروثی بادشاہت تو ہم دیکھ چکے ہیں جس میں اقتدار ایک نسل سے دوسرے نسل کو منتقل ہوتا تھا لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بھی ایسا ہوتے ہوئے ہم نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار دیکھا ہے۔ ''دوتین جماعتوں کو چھوڑ کر باقی لگ بھگ تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں پر بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ ان جماعتوں میں قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے سوچنا گناہ اور بعض میں تو گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان جماعتوںمیں شخصیات کی پرستش کی جاتی ہے اور جہاں شخصیات کی پرستش کی جاتی ہو وہاں شخصیات کے قد پارٹیوں سے بلند ہوا کرتے ہیں۔ جہاں شخصیات کے قد پارٹیوں سے بلند ہو، وہاں پر پارٹیوں کی قیادت میں کسی تبدیلی تو کیا تبدیلی کا خواب بھی گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔'' آپ کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور گردش کر رہا ہوگا کہ آخر اس طرزسیاست کو پاکستان میں تقویت کب اور کیسے ملی؟
دانشوروں کا خیال ہے کہ جمہوریت کی بنیادوں پر قائم ہونے والے پاکستان میں ابتدائی حکومتیں جمہوری رہیں چنانچہ بانی پاکستان قائداعظم سے فیروز خان نون تک ہر حکمران اس اعتبار سے جمہوری روایات پر کاربند رہا کہ اقتدار کو عوام کا امانت سمجھا گیا اور کسی نے اسے اپنا وژن قرار نہیں دیا نہ کوئی مدعی بنا۔ موروثی اور خاندانی سیاست کی روایت ایوب خان کے دور میں شروع ہوئی، انہوں نے اپنا ولی عہد تیار کرنا شروع کیا تھا اور اس کے بعد یہ روایت ایسی قائم ہوگئی کہ آج تک رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ جمہوریت کسی ایک واحد مرکزی شخصیت پر منحصر نہیں ہونی چاہئے اس قسم کی شخصی جمہوریت دراصل آمریت کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی شخصی جمہوریت کے سہارے چلتے رہے تو ہم گلشن جمہور کی بجائے آمریت کی تاریک تہہ خانوں میں پہنچ جائیں گے۔ اس حوالے سے کسی شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے اور ہمارے بحرانوں کی اصل وجہ بھی یہ ہے:
قانونی لاقانونی، آئینی بے آئینی ہے
سچ پوچھو روگ اپنا جمہوری تخت نشینی ہے