وزیراعلی خیبر پختونخوا کی زیر صدارت رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام پر پیشرفت کا ششماہی جائزہ اجلاس

ویب ڈیسک (پشاور): وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام پر پیشرفت کا ششماہی جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے علاوہ تمام انتظامی سیکرٹریوں کی شرکت ہوئی، اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں پر پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی، گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے دوران اب تک ترقیاتی فنڈز کے ریلیز کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے، رواں مالی سال کے پہلے ششماہی میں فنڈ یوٹیلائزیشن کی مجموعی شرح 55 فیصد رہی۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ موجودہ مالی سال کے دوران اب تک 79 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز ریلیز کئے جاچکے ہیں،
ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کے حوالے سے محکمہ ماحولیات 100 فیصد کارکردگی کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، محکمہ داخلہ 75 فیصد کارکردگی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، اس وقت صوبے میں 839 ترقیاتی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں،
رواں مالی سال کے اختتام تک ان میں سے اکثر منصوبے مکمل کئے جائیں گے، رواں مالی سال کے دوران اب تک مختلف فورمز سے 300 منصوبوں کی منظوری ہو چکی ہے، صوبائی سطح پر اب تک 199 منصوبوں کی منظوری ہو چکی ہے، محکموں کی سطح پر 94 منصوبوں کی منظوری ہو چکی ہے۔

اجلاس میں مزید کہا کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک ایکنک سے پانچ میگا ترقیاتی منصوبے منظور ہو چکے ہیں، وزیر اعلی کا فنڈز یوٹیلائزیشن کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار، مزید بہتر بنانے کی ہدایت جاری، اگلے دو اڑھائی سالوں میں ڈی آئی خان موٹر وے اور سی آر بی سی منصوبوں پر کم از کم 50 فیصد پیشرفت کو یقینی بنایا جائے، ان منصوبوں پر پیشرفت کے بارے میں ماہانہ رپورٹ پیش کی جائے، تمام محکمے اگلے چھ ماہ میں ترقیاتی فنڈز کی سو فیصد یوٹیلائزیشن کو یقینی بنائیں، ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ تمام محکمے اپنے فنڈز یوٹیلا ئزیشن کے حوالے سے ماہوار رپوٹ پیش کریں، ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، گزشتہ چھ ماہ کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے سلسلے میں 1943 رپوٹس مرتب کی گئی ہیں۔