بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہئے

نوبت بہ ایںجا رسید کہ اب امریکہ خواجہ سرا چلائیں گے، ویسے بھی اکانومسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ جارہا ہے چین آرہا ہے۔ اکانومسٹ کا یہ دعویٰ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں اثر ورسوخ کے حوالے سے چین کی پیش قدمی کے حوالے سے ہے، تاہم ویسے بھی عالمی سطح پر اب یہ بات تسلیم کی جارہی ہے کہ چین جس قسم کا جارحانہ اقتصادی پالیسیاں اختیار کررہا ہے ان سے مستقبل میں امریکہ کے مقابلے میں عالمی اقتصادی قوت کے طور پر چین کا اُبھرنا لابدی امر ہے، خیر بات ہو رہی تھی امریکہ کی انتظامی حالات میں خواجہ سراؤں کے اہمیت اختیار کرنے کی، تو نئے منتخب صدر جو بائیڈن نے اپنی حکومت میں ایک خواجہ سرا ڈاکٹر ریچل لیون کو محکمۂ صحت میںمعاون سیکرٹری کیلئے نامزد کر دیا ہے۔ اس پر امریکیوں سے کیا یہ سوال نہیں بنتا کہ ''تیرا کیا بنے گا کالیا''۔ لفظ کالیا کی جگہ چٹا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم چونکہ امریکی نائب صدر بھی ایک سیاہ فام (بھارتی نژاد) خاتون ہیں اس لئے کالیا بھی آسانی سے چل جائے گا اور یہ جو نوبت بہ ایں جا رسید والی بات ہم نے کالم کے آغاز میں کی ہے تو اس کا کارن وہ واقعہ ہے جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنوں کے دباؤ کی وجہ سے برطانوی نوآبادیات میں سے بھرتی کے دوران ایک میراثی کے بیٹے کے نام بھی بلاوا آگیا تو میراثن نے اپنے بیٹے کو لیجانے کیلئے آنے والے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، کہ بھائیا، جب جرمنوں کے مقابلے کیلئے نوبت میراثیوں کی بھی فوج میں بھرتی تک آگئی ہے تو ملکہ کو میرا پیغام بھیج دو کہ پھر وہ جرمنوں کیساتھ صلح ہی کرلیں، یعنی بقول مولانا حالی
اک دسترس سے تیری حالی بچا ہوا تھا
اس کو بھی تو نے ظالم چرکا لگا کے چھوڑا
دیکھنا اب یہ ہے کہ امریکی محکمہ صحت کا ایک خواجہ سرا کی سربراہی میں کیا حشر ہوتا ہے، اس حوالے سے بھی ایک کہانی روایت کے طور پر مشہور ہے کہ ایک بادشاہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ پیدائشی طور پر خواجہ سراؤں کی خصلتوں کا مالک تھا، بادشاہ کو بڑی فکر لاحق ہوئی کہ اس کے بعد اس کی سلطنت کا کیا بنے گا، اس نے وزیروں مشیروں کیساتھ مشاورت کی، بہت بحث کے بعد طے پایا کہ شہزادے کو سو کڑیل جوانوں کیساتھ ایک قلعے میں بند کیا جائے اور ان کیساتھ باہر سے کوئی بھی رابطہ ممکن نہ رہے، ان سو نوجوانوں کی موجودگی میں وہ ایک خاص مدت تک مقیم رہے گا تو اُمید ہے کہ وہ بات بات پر تالیاں پیٹنا اور خواجہ سراؤں کی سی زنانی حرکتیں ترک کر دے گا، فیصلے پر عمل کیا گیا اور ایک محفوظ قلعے میں سو بہادر، تربیت یافتہ ماہرین گھڑ سواری، تیراندازی، نیزہ بازی اور شمشیرزنی کی معیت میں شہزادے کو تربیت دینے کے عمل سے گزارا گیا، مقررہ مدت کے بعد بادشاہ خود شہزادے کا استقبال کرنے قلعے کے دروازے پر جا پہنچا۔ بگل بجتے ہی قلعہ کا دروازہ کھولا گیا، شہزادہ شاہی لباس پہنے خراماں خراماں باہر آیا، وہ تالیاں بجارہا تھا اس کے پیچھے سو افراد بھی اس کی طرح تالیاں بجاتے، نازوانداز سے باہر آتے دکھائی دئیے۔ گویا وہ جو کہا جاتا ہے کہ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے تو یہ اس کی زندہ مثال تھی۔ سو کڑیل جوان ایک شہزادے کو تو بدل نہ سکے البتہ ایک شہزادہ اپنے مصاحبین کو اپنے رنگ میں رنگنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ سو دیکھتے ہیں کہ ایک خواجہ سرا ڈاکٹر پورے امریکہ کی محکمہ صحت کا کیا حشر کرتا ہے۔ یعنی اس کے ساتھ کام کرنے والا عملہ اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے امریکی عوام کی ''صحت'' کیساتھ کیا کھلواڑ کرنے والا ہے۔ یعنی بقول شہزاد احمد
لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے
بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہئے
ویسے یہ جو ہمارے ہاں لفظ خواجہ سرا استعمال ہوتا ہے مغربی معاشرے میں اس کیلئے (Gay) کا لفظ مستعمل ہے۔ البتہ دونوں کے بیچ دونوں معاشروں کے عمومی رویوں کا فرق ہے، یعنی مغربی ممالک میں خواجہ سرا (Gay) اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں اور کوئی ان کیساتھ زبردستی ''دوستی'' نہیں کر سکتا جبکہ ہمارے ہاں بے چارے خواجہ سرا بعض لوگوں کی زبردستی کا شکار ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کئی خواجہ سراؤں کو قتل بھی کیا جاچکا ہے۔ ابھی چند روز پہلے پشاور کے ایک مقامی ہسپتال میں ایک خواجہ سرا کیمرے کے سامنے وہاں ایک لیبارٹری ٹیکنیشن پر نازیبا حرکتوں کے حوالے سے الزامات لگاتا دکھائی دیا تھا جس کا نوٹس لیکر متعلقہ شخص کیخلاف انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ اب حقیقت کیا ہے یہ تو تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی پتہ چلے گا، ایک اور بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے جبکہ مغربی معاشروں میں انہیں برابر کا شہری سمجھا جاتا ہے اور ان پر نہ تو آوازے کسے جاتے ہیں، نہ دھتکارہ جاتا ہے، اسی لئے تو بعض خواجہ سرا اپنی داستان سناتے ہوئے ان نامناسب رویوں پر رو پڑتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں ہوتا۔
اور وہ شخص بھی محروم سماعت نکلا
ہم نے رو رو کے جسے درد سنائے اپنے