عوام پر آخر کب تک بجلیاں گرائی جاتی رہیں گی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر بجلی مزید ایک روپے 95پیسے فی یونٹ مہنگی ہوگئی ہے، بجائے اس کے کہ حکومت اس کی کوئی اور توجیہہ پیش کرتی گزشتہ ادوار حکومت میں برابر کے شامل ہے۔ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے بجلی مہنگی کرنے کا ذمہ دار بھی پچھلی حکومت کوقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت آنے والی حکومت کیلئے معاشی بارودی سرنگیں بچھاکر گئی تھی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا تھاکہ کمپلسیو پیمنٹس کا جال بچھا ہوا تھا اور سب سے زیادہ جبری ادائیگیاں اور گردشی قرضے پاورسیکٹر میں تھے، اگر ن لیگ کی پالیسی جاری رہتی تو بجلی2روپے60پیسے فی یونٹ مہنگی ہونا تھی۔ بجلی کی قیمتوں میں اس تواتر کیساتھ اضافہ ہورہا ہے کہ اسے گننا اور یاد رکھنا بھی دشوار ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)نے گزشتہ ماہ ہی 30 دسمبر کو بجلی کی قیمت میں ایک روپے 6 پیسے فی یونٹ اضافہ کرنے کی منظوری دی تھی۔عوام بجلی وپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراضافہ اور یوٹیلیٹی سٹورز کی اشیاء کی قیمتوں میں بار بار اضافے کو سیاسی اور حکومتی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ وہ اسے اپنے اوپر ایک اور بجلی گرنے اور بوجھ میں ناقابل برداشت اضافہ کے طور دیکھتے ہیں۔ حکومت نے اس امر کا عندیہ دیا تھا کہ حکومت خسارہ پورا کرنے کیلئے اور کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہے۔ اس کے تدارک کیلئے عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے حکومت اور آئی پی پیز کے درمیان اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد اُمید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اور آئی پی پیز کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے گردشی قرضوں میں کمی واقع ہو گی' کمپنیوں کا پھنسا ہوا پیسہ ریلیز ہونا شروع ہو جائے گا اور اس معاہدے کے اسٹاک ایکس چینج پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن ایک مرتبہ پھر جس صورتحال کا ذکر ہورہا ہے اس سے خود حکومت کے اس دعوے کی نفی ہوئی ہے اور جوالزام سابق حکومتوں پر لگ رہا ہے موجودہ دور حکومت بھی اس سے مبرا نہیں۔ عوام اس سوال میں حق بجانب ہیں کہ آخر سابقہ حکومت نے معاشی صورتحال سے لیکر توانائی کے شعبے تک کتنی بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں جسے موجودہ حکمران نصف مدت اقتدار کے گزرنے کے باوجود صاف نہیں کر سکے۔ اپنی ہر ناکامی اور مشکل کا ذمہ دار گزشتہ حکومتوں کو قرار دینا کوئی منطق نہیں۔ حکومت وقت عوام کو جوابدہ ہے اور عوام حکومت سے اپنے مشکلات میں کمی کی توقع رکھتے ہیں، یہ حکومت وقت ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو حالات ووجوہات نہ بتائے بلکہ ان کی مشکلات کا حل تلاش کر کے دے۔ اب تک بجلی کا ٹیرف ایک اندازے کے مطابق سولہ روپے پنسٹھ پیسے تھا مزید ایک روپے بچانوے پیسے کے اضافہ کے بعد فی یونٹ اٹھارہ روپے سے بھی بڑھ جائے گا۔ ایک عام آدمی جسے دال روٹی کیلئے بڑی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے ساتھ ہی بجلی کا استعمال بھی مجبوری اور اشد ضرورت ہے اس پر کتنا بوجھ پڑے گا اور اس کی مشکلات میںکتنا اضافہ ہوگا، اس کا سوچ کر ہی جھر جھری آتی ہے۔ بد قسمتی سے عوامی مسائل کے حوالے سے حزب اختلاف کا کردار بھی حکومت سے مختلف نظر نہیں آتا، اپوزیشن اب تک جن موضوعات پر احتجاج کررہی ہے وہ اپنی جگہ لیکن بات اس سے آگے بھی ہونی چاہیے۔ عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، عام آدمی کی زندگی عذاب ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں لوگ توقع کرتے ہیں کہ روزمرہ کے مسائل پر بھی بات ہونی چاہیے۔دنیا بھر میں اپوزیشن اس طرح کی خراب کارکردگی والی حکومت کا ناطقہ بند کر دیتی ہیں، قیمتوں میں اضافے کی نامنظوری کا اعلان کیا جاتا ہے عوام کی حمایت کیساتھ متعلقہ اداروں کیخلاف دھرنا دیا جاتا ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں جو اس مہنگائی کا سبب بنتے ہیں اور اس وقت تک یہ احتجاج جاری رکھا جاتا ہے جب تک اس طرح کا اضافہ ختم نہ کر دیا جائے۔ عوام ایسے طرز عمل کی وجہ سے اپوزیشن کیساتھ رہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عوام کا فوری مسئلہ جمہوری حقوق نہیں دو وقت کی روٹی ہے، بیمار والدین کی دوا ہے، بچوں کی کتابوں کی قیمت ہے، بچوں کی سکول کی فیس ہے۔ آج اگر متحدہ اپوزیشن اعلان کرے کہ ہر وہ ادارہ جو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا اس کے سامنے احتجاج ہو گا۔ اس ادارے کے سامنے جلسہ کریں، جلوس نکالیں، دھرنا دیں، مہنگائی کیخلاف نعرے لگائیں تو پھر دیکھیں کس طرح عوام جوق در جوق متحدہ اپوزیشن کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔اگر کسی ایک بھی ادارے کے سامنے احتجاج سے قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ واپس ہو جاتا ہے تو عوام اپنے آپ کو لاوارث نہیں سمجھیں گے۔ انہیں احساس ہو گا کوئی ان کی بات کرنے والا موجود ہے، کوئی ان کو حق دلانے کیلئے آواز بلند کر رہا ہے، کوئی ان کے غم کو اپنا غم سمجھ رہا ہے۔یہ تو حزب اختلاف سے عوام کی توقعات کا معاملہ تھا، سب سے بڑی ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ عوام کو ماضی کے دکھڑے سنانے کی بجائے حکومت کی جانب سے ان کو ریلیف دینے کے اقدامات بتائے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی بجائے حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے اور قرضے کی قسط کی واپسی کیلئے عوام کو نچوڑنے میں لگی ہوئی ہے ۔ بجلی، پیٹرولیم اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کی صورت میں ایک ساتھ اضافہ سے عام آدمی پر کس قدر مزید بوجھ پڑے گا اور مہنگائی میں کتنا اضافہ ہوگا اس سے ہر عام آدمی سخت پریشانی کا شکار ہے ، بہت سوں کی رات کی نیند حرام ہو چکی ہے لیکن حکومت کو اس کا کوئی احساس نہیں۔ حکومت کو آخر یہ کب سمجھ آئے گی کہ اب عام آدمی جینے اور مرنے میں سے موت کو ترجیح دینے لگا ہے۔