پتھر شہر میں اک شیشے کا گھر رکھنا

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ریوڑیوں کی بات کی ہے اور ظاہر ہے ان کا مطمح نظر وہی ہے جو ریوڑیوں والے محاورے کے حوالے سے ہمارے ہاں مشہور ہے یعنی اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو، اگرچہ یہاں ''اپنوں'' کی جگہ انہوں نے دولت مندوں کا صیغہ استعمال کیا ہے تاہم اگر ہم اپنے معاشرتی اقدار کے حوالے سے اس بات کو پرکھیں تو مروجہ اقدار دولت مندوں کو اپنے ہی غریبوں پر فوقیت دینے کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ پشتو زبان میں ویسے بھی ایک محاورہ ''غریب ملا'' کے حوالے سے بہت عام ہے اور بعض ایسی کہانیاں بھی مشہور ہیں کہ اچھے مقام پر پہنچ کر لوگ اپنے انتہائی قریبی رشتوں کو بھی ''بھول'' جاتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ لوگ تو ماں باپ تک کو دوستوں کے سامنے ''ملازم'' کہہ کر ان بزرگوں کی ظاہری وضع قطع کو اپنے لئے ''توہین آمیز'' سمجھتے ہوئے ان کی اصلیت کو چھپانے کی کوشش کرتے دیکھے گئے ہیں، خیر معاشرتی رویوں کی اس گراوٹ سے قطع نظر جب ہم سیاسی حوالوں سے دیکھتے ہیں تو سراج الحق کی بات بہت حد تک درست ہے مگر سیاسی جماعتوں کی اپنی مجبوریاں بھی تو ہوتی ہیں جن کی تفصیل میں جایا جائے تو شرم سے سرجھک جاتے ہیں کہ کس طرح خصوصاً سینیٹ کے انتخابات میں ''منڈیاں'' سجتی ہیں البتہ اس بار پنجاب میں ''گھوڑوں'' کے فارم نہیں سجے اور وہاں ''انگور کھٹے ہیں'' والی صورتحال پیدا ہوئی جبکہ بلوچستان میں ''70کروڑ'' کے ٹکٹ کا بڑا چرچا رہا اور پل میں ماشہ، پل میں تولہ والی کیفیت نے دلچسپ صورتحال پیدا کی' ٹکٹ دیکر پارٹی حلقوں کی جانب سے احتجاج کے بعد واپس کیا گیا، مگر محولہ ٹکٹ سے محروم شخص نے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے کاغذات جمع کرائے اور بعض دعوؤں کے مطابق ''مبینہ'' طور پر خزانے کے در کھول دئیے، ووٹ کی ''قدر وقیمت'' میں اضافہ کی خبریں وائرل ہونے لگیں تو اس کے مقابلے میں ایک پارٹی ممبر کو دستبردار کرایا گیا کیونکہ شنید ہے کہ معاملہ ان مبینہ 70کروڑ کا تھا جو ٹکٹ واپس لیتے ہوئے واپس نہ کئے جا سکے یوں ریوڑیوں والا محاورہ سچ ثابت ہونے لگا بقول سعد اللہ سورج
جب یہ سوچا کہ وہ بھی ہے مجبور
اور مجبور ہوگیا ہوں میں
سراج الحق نے ایک تعزیتی اجلاس میں اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ زر، زور کی بنیاد پر ملک کو حقیقی قیادت سے محروم رکھنے کا کھیل 73برس سے جاری ہے، بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، والی صورتحال ہے۔ ہماری دانست میں اگر اپنے اس جملے پر سراج الحق اپنے ایم ایم اے والے دور کو سامنے رکھ کر سوچیں تو اندھا بانٹے ریوڑیاں کی اصل حقیقت ان پر بھی واضح ہو جائے گی اور جب اسلام اسلام کرتے ہوئے اسلامی عدل وانصاف کے ترازوں میں اس دور میں ''مڑ مڑ اپنوں کو'' کی کیفیت دیکھی جائے تو صورتحال دوسروں کی جانب اُنگلی اُٹھانے والی بن کر سامنے آجاتی ہے کہ کس طرح دونوں بڑی مذہبی پارٹیوں نے نہ صرف قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں بلکہ سینیٹ میں بھی ریوڑیاں بانٹی تھیں، اب بھی دیکھیں تو 95فیصد ٹکٹ ''بندر بانٹ'' کی نذر ہو رہے ہیں۔ موروثیت میں لتھڑی ہوئی جماعتیں صرف خاندانی کلب بن چکے ہیں، یا پھر بقول سراج الحق زر اور زور کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں بقول پروفیسر یحییٰ خالد
وقت کو جب تقسیم کرو تو ایسا کرنا
شام مجھے بھجوانا اور سحر رکھ لینا
پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے بھی کیا خو ب کہا ہے، فرماتے ہیں ہم اپنے بل بوتے پر سینیٹ الیکشن لڑیں گے۔ اس پر غالب کے بقول خامہ انگشت بہ دنداں والا مصرعہ تو سجتا ہے کہ موصوف سے ذرا پوچھ تو لیا جائے حضور جب آپ نے سینیٹ کا الیکشن لڑا تھا تب آپ نے کیا ''طریقہ'' اختیار کیا تھا؟ اس پر جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے، کہنا بھی بنتا ہے اور یہ سراج الحق کے تازہ بیان کی تصدیق بھی تو کرتا ہے۔ بقول یحییٰ خالد
پاگل پن کی بات سہی پر بات تو ہے
پتھر شہر میں اک شیشے کا گھر رکھنا