امن کے مسیحا

رمضان المبارک کے ساتھ ہی دھمادھم خبریں شروع ہوگئی ہیں ماضی گوا ہ ہے کہ پاکستان میں عموماًرمضان المبارک کے ایّام میں خبریں بھی اعتکا ف میں چلی جا یا کرتی تھیں اس زما نے میں خبرو ں کا کا غذی پیراہن اہم ترین تھا جس کی وجہ سے نقش فریا دی کے طورپر بھی پیراہن گویا جو ئے شیرلانے کے برابر تھا اب تو صورت حال یہ ہے کہ خبریں ہیں کہ بیٹری سسٹم کی طرح لپکتی جھپکتی چلی آرہی ہیں کو ن سی خبر بڑی کو نسی چھوٹی خبر ہے استاد محترم فرمایا کر تے تھے کوئی خبر چھو ٹی بڑی نہیں ہو ا کرتی خبر خبر ہو اکرتی ہے ، چلیں تمہید کو طوالت کی بجائے مدعا پر آئیں گلف نیو ز نے خبر دی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ما بین کشمیر کے معاملہ پر مذاکرات جا ر ی ہیں یہ اکلو تی خبر عرب دنیا کے اکلوتے اخبار کے صفحہ پر پھوٹی ہے ، عرب اخبارت بھی کوئی نہ کوئی چھوڑتے رہتے ہیں پاکستانی میڈیا کا ان مذاکرات کے بارے میں کانو ں کا ن خبر نہیں ، پاکستانی میڈیا کو جو حشر چل نکلا ہے ٹھیک ہے کہ عوام اپنوں سے زیا دہ غیر وں کو بہتر مستند جا ننے لگے ہیں تاہم پاک بھارت مذاکر ات میں کوئی اچھوتی بات نہیں وزیر اعظم کئی مرتبہ عندیہ دے چکے ہیں کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور وہ امن کی مضبوط بنیا دوں پر دنیا خاص طور پر آس پڑوس سے تعلقات کا خواہاں ہے خا ص طور پر بھارت کے ساتھ امن بات چیت کے لیے تیا ر ہے۔اگر خطہ میں امن کے لیے پیش رفت ہو تی ہے تو اس میں کیا قباحت جو ایسی خبروں کو ایک خاص زاویئے سے ترتیب دیتے ہیں وہ کوئی خاص ہی ہدف رکھتے ہیں ، پاکستان کے اپنے مسائل ہیں اور وہ ان کو حل کرنے میں آزادانہ طور پر قدم بڑھا نے کا حق رکھتا ہے جس طرح پاکستان نے عرب دنیا کے معاملے میں کبھی دست اندازی نہیں کی اسی طر ح کوئی اور پاکستان کے بارے میں زاویو ں میں ٹیڑھ پیدا کر نے سے گریز کر ے ، چلیں وفاقی کا بینہ میں ایک مرتبہ پھر ردوبدل کر دیا گیا ہے گویا وفاقی کا بینہ نہ ہوئی ایک لیبارٹری سیل ہے جس میں سب سے زیا دہ اہمیت حما د اظہر کو حاصل ہو تی جا رہی ہے ، اسکول کے زما نہ میں ایک انگریزی کی مقبول ترین کہا نی پڑھا ئی جا تی تھی جس کا عنو ان اردومیں تھا اندھیر نگر ی ہر شے ٹکے سیر اس کہانی کا انجا م یہ تھا کہ جب پھندا دربار میں کسی کے گلے میں پورا نہ اترا تو راجہ نے جنت کے حصول کے لیے خود اپنی گردن کو پھندہ سے کس ڈالا ، حما د اظہر کے ساتھ بھی ایسا ہی نظر آرہا ہے جب منا سب گردن مل جا تی ہے تو وزارت کا پھندنا حما د اظہر کی جا ن چھو ڑ کر کسی مو ٹی گر دن والے کی زینت بن جا تا ہے جیسا کہ ابھی یہ شوکت ترین کی زینت بن گیا ۔ان سب سے ہٹ کر بات ہو جائے تحریک لبیک پارٹی ، بقول شیخ رشید وفاقی کا بینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی لگادی ہے اور اس کو غیر قانو نی جما عت قرار دینے کے لیے سپریم کو رٹ میں ریفرنس وفاقی کا بینہ کی منظوری سے دائر کیا جائے گا ، ٹی پی ایل وہی جماعت ہے جس سے نا مو س رسالت کے دھر نے کے مو قع پر سرکا ر کی طر ف سے دو معاہدے کیے گئے تھے ایک معاہدہ سابق وزیرداخلہ بریگیڈیر اعجا ز شاہ اور شہزاد اکبر نے کیا تھا اور دوسرا معاہدہ شیخ رشید نے کیا تھا جس میں یہ شامل تھا کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان بد ر کر نے کے لیے قومی اسمبلی سے رجو ع کیا جائے گا حیر ت کی بات یہ ہے کہ جب سرکا ر کے بڑے یہ معاہد ہ کر رہے تھے کیا وہ نا بلد تھے کہ ایسا کرنا ان کے لیے ممکن ہے اور ایسے فیصلو ں سے دنیا میں پاکستان پر کیا اثر ات مر تب ہو سکتے ہیں اب جس طرح ٹی ایل پی کے خلا ف اقدام اٹھا ئے جا رہے ہیں اس سے ملک میں کیا گھٹن کی فضاء تقویت نہ پائے گئی اور اس کے کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں جہا ں تک پا بندی لگا نے کا معاملہ وہ بھی غور طلب ہے اور اس بارے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں جن کو ٹھنڈے پیٹوں لینا ہو گا ،معروف قانون دان حشمت حبیب کا کہنا ہے کہ حالا ت کو سنبھالنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ حکومت ایک ہائی پا ور کمیشن قائم کر ے اس کمیشن کی ذمہ یہ کا م ہو کہ وہ حکومت اور تحریک کے الزامات اور نقصانا ت کا جائزہ لے اور یہ بھی دیکھے کہ تشدد کا ذمہ دار کو ن ہے جس کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلا ف ایکشن لینا لا زم ہو اور ایکشن لیا جا ئے یہ کمیشن عدالتی کمیشن بھی ہو سکتا ہے سینیٹر کا مران مر تضٰے ایڈووکیٹ نے بھی ایسی رائے کا اظہار کیا ہے خیر یہ توقانونی اورآئینی مو شگافیا ں ہیں تاہم دیکھنا ہے کہ ان دو تین دن کے واقعا ت سے عالمی سطح پر کیا سو چ ابھری ہے عالمی اخبارت نے الیکشن کمیشن آف پا کستان میں رجسٹرڈ سیا سی جما عتوں کا کا لعدم قرا ر دینے یا پابندی لگانے کے بارے اور فرانسیسی حکومت کی جا نب سے اپنے شہر یو ں کو پا کستان چھو ڑنے کے احکامات جا ری کر دئیے ہیں جبکہ عالمی اخبارت نے تحریک کو کا لعدم قرار دینے کے فیصلے کو منا سب نظرو ں سے نہیں دیکھا فرانس کے سب سے بڑے اخبار لو فگار و کا کہنا ہے کہ ایسی پا بندی پاکستان اور فرانس کے حق میں سو د مند قر ار نہیں پا تی ، کیو ں کہ تحریک لبیک ایک سیا سی جما عت ہے اور پا رلیمنٹ میں ا س کی نما ئندگی ہے ، ادھر امریکی جریدے فارن پا لیسی میگزین نے تحریک کو ایک سخت گیر اسلا می سیا سی جما عت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس جما عت کے کا رکنو ں نے اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے پر تشدد راہ اختیار کی جس میں تین سو سے زیا دہ افرا د زخمی ہوئے اوردو پولیس افسر جا ن بحق ہوئے ، میگزین لکھتا ہے حکومت پا کستان کو قانو ن اور آئین کے مطا بق فیصلے کرنا ہیں جو ملک کے مفاد میں ہیں ۔