امریکہ کو نئے ٹھکانے کی تلاش؟

امریکی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر افغانستان سے واپسی کی راہ لے رہے ہیں مگر وہ اپنے انخلاء کو دروازے سے نکل کر کھڑکی سے واپس آنے جیسا بنا رہے ہیں۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد خطے کے دوسرے ملکوں میں اڈوں کی تلاش جاری ہے، اس کیلئے وسط ایشیائی ملکوں کیساتھ ساتھ پاکستان کا نام بھی لیا جا رہا ہے، جس کے بعد ہی یہ اطلاعات آنے لگی ہیں کہ امریکہ پاکستان سے شمسی ایئر بیس سمیت کئی ایئر بیس مانگ رہا ہے۔ شمسی ایئر بیس اور جیکب آباد ایئرپورٹس پہلے بھی امریکی اڈوں کے طور پر استعمال ہوئے ہیں جہاں سے امریکی ڈرون اُڑ کر افغانستان کے اندر طالبان کو نشانہ بناتے رہے ہیں بلکہ یہی نہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی لوگوںکو القاعدہ، طالبان اور اُسامہ بن لادن کے نام پر حملوں کا نشانہ بنایا جا تا تھا۔ اب امریکہ اسی سہولت اور عادت کے تحت دوبارہ پرانے اڈوں کی بحالی چاہتا ہے تو یہ ایک بڑی وجۂ نزع بن سکتی ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک کھینچاتانی کی سی کیفیت محسوس کی جا سکتی ہے۔ امریکی عمران خان سے خوش دکھائی نہیں دے رہے، بالخصوص جوبائیڈن کی آمد کے بعد دونوں وائٹ ہاؤس اور اسلام آباد کے تعلقات میں سردمہری غالب ہے۔ جوبائیڈن اور عمران خان کے درمیان ابھی تک ٹیلی فونک گفتگو تک نہیں ہوئی۔ عمران خان بہت پہلے سے دنیا کے ہر فورم پر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دوبارہ کسی ملک کی جنگ نہیں لڑے گا۔ انہوں نے متعدد مواقع پر امریکہ کو یاد دلایا کہ افغان جہاد کے دوران دنیا بھر کے مجاہدین کی میزبانی میں امریکہ اور پاکستان شانہ بشانہ تھے۔ امریکہ اس تلخ ماضی سے اپنا دامن چھڑا رہا ہے کیونکہ اسی کہانی میں آگے چل کر اُسامہ بن لادن کا کردار اور نام بھی آتا ہے مگر عمران خان امریکہ کو یہ تلخ ماضی باربار یاد دلارہے ہیں۔ جوبائیڈن کی صدارت کے دوران بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ڈومور کہنے کیلئے پاکستان نہ آئیں۔ امریکہ ان پیغامات کو پورے سیاق وسباق کیساتھ سمجھ چکا ہے اسی لئے وہ پاکستان کی عسکری قیادت پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔ اسی کے جواب میں امریکی پاکستان کو بار بار خوفزد ہ کر رہے ہیں۔ امریکی جوائنٹ چیفس کمیٹی کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ صورتحال بہت مشکل ہے اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ یہی صاحب اس سے پہلے کہہ چکے تھے کہ افغانستان میں انتہاپسندوں کی واپسی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ دھمکانے کا ایک انداز بھی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے طالبان کیخلاف اڈے فراہم کرنے کی بھاری قیمت چکائی۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں شدت پسند اور دہشتگرد گروہوں نے خودکش حملوں کے ذریعے ملک کے طول وعرض میں تباہی برپا کی۔ پاکستان کو شمسی ایئر بیس اور جیکب آباد ایئر پورٹ سے امریکیوں کو نکالنے کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑی۔ اب امریکہ دوبارہ پاکستانی سرزمین پر بیٹھ کر افغانستان کو کنٹرول کرنا اور وہاں کسی قسم کی مزاحمت کو کچلناچاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ماضی کے تجربے کی بنیاد پر یہ حقیقت عیاں ہے کہ اس کا جو ردعمل ہوگا اس کا نشانہ بھی پاکستان ہی بنے گا۔ امن کی بربادی، معیشت کی تباہی اور اس سے بڑھ کر عالمی بدنامی اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو شرمسار کرنے کی صورت میں پاکستان اس سارے کھیل میں خسارے میں ہی رہا۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں روس کا اثر رسوخ گہرا ہے اور وہاں کسی اڈے کی خواہش پورا ہونے کا کم ہی امکان ہے۔ امریکہ خلیجی ملکوں سے یہ ضرورت پوری کر سکتا ہے اور خلیجی ملکوں میں پہلے ہی امریکی اڈے قائم ہیں، جس خطرے کے نام پر امریکہ واپس خطے میں آکر بیٹھ جانا چاہتا ہے وہ داعش اور القاعدہ ہے۔ داعش خود امریکہ کی پیدا کردہ ہے اور افغانستان کے سابق صدر کرزئی اور روسی صدر ولامیرپوٹن تک بہت سے لوگ داعش کو امریکہ کی تخلیق بتا چکے ہیں۔ کرزئی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ امریکہ کے فوجی ہیلی کاپٹر داعش کے ارکان کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرتے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو داعش کا خطرہ امریکہ نے خطے میں اپنی موجودگی کو بحال رکھنے کیلئے گھڑا ہے۔ القاعدہ کا حال یہ ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے ذریعے امریکہ نے اس تنظیم پر فیصلہ کن وار کرنے کا اعلان کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ القاعدہ کے حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اسی القاعدہ کا نام استعمال کرکے خطے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو دھمکایا جا رہا ہے کہ اگر اس نے طالبان کو افغان حکومت کیساتھ مفاہمت پر آمادہ نہ کیا تو پاکستان بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں آجائے گا۔پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث کئی تنظیمیں افغانستان میں این ڈی ایس اور ''را'' کی سرپرستی میں چل رہی ہیں اور ان دونوں کی سرپرستی کا مطلب سی آئی اے کی سرپرستی بھی ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کو دباؤ میں لانے کی حکمت عملی اختیارکی جا رہی ہے۔ پاکستان کو حکمت وتدبر سے اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔