بجٹ اور مہنگائی بارے وزیراعظم کی مشاورت

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کو ضروریات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دینے کی ہدایت کیساتھ مہنگائی کی شرح کی روک تھام کیلئے پارٹی کی سینئر قیادت سے مشاورت اور بجٹ کیلئے تجاویز طلبی حکومت کی صورتحال کے ادراک پر دال ضرور ہے لیکن مہنگائی کا پہلے سے بے قابو جن موجودہ دورحکومت میں جس طرح مزید بے قابو ہوگیا ہے وہ حکومت اور عوام دونوں کیلئے سخت مشکلات کا باعث ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ اس مشکل کاکوئی سراہاتھ نہیں آتا کہ اس پر قابو پایا جائے۔ حکومتی اقدامات مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق بن گئے ہیں۔ عوام الگ پریشان ہیں اور ان کی پریشانی میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح12کے وقفے کے بعد دہرے ہندسوں میں پہنچی حالانکہ جنوری کے مہینے میں یہ5.7فیصد تک کم ہوگئی تھی۔ پاکستان ادارہ شماریارت کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کے دہرے ہندسوں میں جانے کی وجہ شہری اور دیہی دونوں طرح کے علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر صارفین کیلئے چکن، خوردنی تیل،گھی، چینی، آٹے اور دالوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی ایک فیصد بڑھی، اسی کیساتھ غیر غذائی اشیا کی مہنگائی بھی توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث گزشتہ چند ماہ سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ماہِ اپریل کے وسط سے رمضان کا آغاز ہوگیا تھا اس لیے سبزیوں، پھلوں، چکن اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو سب سے زیادہ پنجاب، اس کے بعد سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں دیکھا گیا۔یہ صورتحال حکومت کیلئے کھلا چیلنج ہے باوجود اس کے کہ وزیراعظم بار بار مہنگائی میں کمی لانے کے اقدامات کی ہدایت کرتے آئے ہیں لیکن صورتحال سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی ہے یہ سب کچھ وزیراعظم کی ترجیحات کے برعکس ہے اور ان کی ہدایات کے برخلاف ہے جس میں انہوں نے معاشی ٹیم کو مہنگائی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے اسے کنٹرول میں رکھنے کی تاکید کی تھی۔ وزیراعظم اور پارٹی کی سینئر قیادت اور خاص طور پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو ان اسباب وعلل کاکھوج لگانا اور ان عوامل کا تدارک یقینی بنانے میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سارے تخمینے فرسودہ اور منصوبہ بندی سطحی رہ گئی ہے، اس کا جائزہ لینے اور طلب ورسد کا توازن تاجروں اور خاص طور پر منافع خوروں کی بجائے صارفین کے حق میں کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد ہی مہنگائی کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم کو سینئر قیادت کی جانب سے بجٹ تجاویز میں ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت کے باوجود ان منصوبوں کی بجائے مہنگائی میں کمی لانے کی تجاویز دینی چاہئے تاکہ ایسا بجٹ بنایا جائے جس میں عوام کو ریلیف نہ دی جاسکے تو کم ازکم عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ مہنگائی میں کمی لانے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی وگیس کی قیمتوں میں کمی اور اشیائے خوردنی کی خریدوفروخت میں صارفین اور کسانوں کے درمیان مختلف مراحل کو کم کر کے براہ راست نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی جیب میں جانے والی رقم کسانوں اور صارفین کے حصے میں آئے اور دونوں کو ریلیف ملے۔بجٹ میںمزید ٹیکس نہ لگائے جائیں اور ایسا بجٹ بنایا جائے جس میں الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح کا خیال رکھا جائے اور جس کے نتائج عملی طور پر ظاہر ہوں۔