راشن کارڈ سکیم،حقیقی خاندانوں کو شامل کیاجائے

خیبرپختونخوا حکومت کا انصاف کارڈ کے طرز پر راشن کارڈ سکیم کے اجراء کا فیصلہ حقدار افراد کی دستگیری کے ضمن میں سنجیدہ اقدامات کے زمرے میں آتا ہے۔ نادار اور مستحق خاندانوں کو ماہانہ بنیادوں پر مفت راشن ان کے گھروں پر فراہمی مثالی اقدام ہوگا۔ احساس کفالت پروگرام ہو یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا پھر سرکاری امدادی رقوم کی تقسیم کا کوئی موقع، ہر ہر موقع پر حقدار یہاں تک کہ معذور افراد کو بھی سروے میں نظرانداز اور امداد سے محروم رکھنے کی شکایت عام ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی فہرستوں میں اعلیٰ سرکاری افسروں سے لیکر دیگر غیرحقدار خاندانوں کی امداد وصولی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ملک میں غربت وبیروزگاری کے باعث جو خاندان پہلے محنت ومشقت کر کے زندگی کی گاڑی کھینچتے تھے اب وہ بھی کورونا سے متاثرہ حالات کے باعث امداد کے حصول کے حقدار بن گئے ہیں۔ مزدور کو دیہاڑی نہیں ملتی اور چھوٹا کاروبار طبقہ بالعموم اور بعض اچھے خاصے کاروبار بندش کا شکار ہو کر سخت خسارے میں چلے گئے ہیں۔ حالات کا مزید تذکرہ کیا، ساری صورتحال حکومت کے سامنے ہے، جاری حالات میں خیبرپختونخوا میں راشن کارڈ کے ذریعے جہاں اشیائے خوردنی کی مفت تقسیم کا عمل شروع کیا جارہا ہے وہاں عوام کو مہنگائی سے بچانے اور مقررہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی قیمتاً فراہمی کیلئے بھی راشن کارڈ نظام کی بحالی کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نظر نہیں آتا۔ انتظامیہ کو سستا بازاروں کے انعقادواشیاء کی فراہمی میں جس ناکامی کا سامنا ہے اس کا بھی تقاضا یہی ہے کہ مربوط نظام وضع کیا جائے جہاں تک راشن کارڈ کے ذریعے حقدار خاندانوں کے گھروں پر راشن کی مفت فراہمی کے احسن عمل کا تعلق ہے اس میں ایک ہی قباحت اور مشکل یہ ہے کہ ان کا تعین حقیقی اور درست طور پر کیا جائے تاکہ سرکاری وسائل کا ضیاع نہ ہو اور حقدار خاندان ہی مستفید ہوں۔ حقدارخاندانوں کا جو سروے احساس پروگرام کی صورت میں موجود ہے اولاً یہ کافی نہیں دوم یہ نامکمل ہے اور سوم اس میں بھی غیرمستحق افراد کے ناموں کی مثالیں موجود ہیں، بہتر ہوگا کہ اس مرتبہ یہ سروے ایسے غیرجانبدار رضا کاروں سے کرایا جائے جن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہ ہو اور نہ ہی وہ گروہی وخاندانی اور ذاتی مفاد کے حامل ہوں۔یقینا یہ ایک مشکل اورناممکن تجویز ہے اگر یہ ممکن نہیں تو کم ازکم اس مرتبہ سروے کو سرکاری اہلکاروں پر نہ چھوڑا جائے اور ان کے بار بار کی ملی بھگت واقرباپروری کی مثالیں سامنے رکھ کر متعلقہ علاقہ کے معززین اور آئمہ مساجد سے حقدارخاندانوں کی تصدیق کرائی جائے۔ صوبائی حکومت اپنے اطمینان کیلئے اگر پارٹی کارکنوں سے مرتب فہرست کی مکررچھان بین کروائے تو حرج نہیں، اصل مقصد حقیقی خاندانوں کا تعین ہے جس میں غلطی کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ حکومت کیلئے حقدار خاندانوں کا سروے کرنے والی ٹیموں کیلئے فہرست میں غیرحقیقی خاندانوں کی شمولیت پر سزاء کا اعلان کرے اور ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی جائے۔ حقدار خاندانوں کو راشن کی فراہمی البتہ مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ ممکن ہے کہ بہت سے خاندان اسی پر اکتفاء کر کے ہاتھ پیر ہلانا ہی چھوڑدیں اور مفت خورے بن بیٹھیں۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اس کیساتھ ساتھ ان خاندانوں کی بحالی وروزگار اور ان کو خود کمانے کے قابل بنانے کا جامع منصوبہ متعارف کرائے اور ان خاندانوں کو بھکاری بنانے کی بجائے باعزت طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنائے بصورت دیگر سرکاری وسائل استعمال ہوتے رہیں گے اور عارضی فائدے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔
علمائے کرام کی خصوصی ذمہ داری
رمضان المبارک کی ان بابرکت ساعتوں میں عبادات کا اہتمام ہر مسلمان کی سعی رہتی ہے، گزشتہ سال کی طرح امسال بھی کورونا کے باعث بعض پابندیوں کو اپنانے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورتوں سے صرف نظر ممکن نہیں، حکومت کی جانب سے جن پابندیوں اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اس کی پابندی لازم ہے۔ علمائے کرام نے گزشتہ سال بھی سب سے بڑھ کر تعاون کا مظاہرہ کیا تھا ،اس سال بھی اسی جذبے اور اقدامات وتعاون کی ضرورت ہے۔ایسا لگتا ہے کہ من حیث المجموع گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال عوام وخواص اور بعض مذہبی طبقات کورونا کی وباء کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں، حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اجتماعات کا انعقاد محدود کیا جائے اور اس میں بھی حفاظتی تدابیر کا ممکنہ خیال یقینی بنایا جائے، اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ احتیاط ہی وہ واحد طریقہ ہے جسے اختیار کر کے وباء سے کسی نہ کسی حد تک بچائو ممکن ہے اور کم سے کم احتیاط ماسک کا لازمی استعمال ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔
نامناسب اور ناقابل قبول طرزعمل
وزیراعلیٰ پنجاب کی مشیر ڈاکٹر عاشق فردوس اعوان کی خاتون افسر پر بھرے بازار میں برسنا ہو یا پھر پشاور میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کا بلدیہ پشاور کے عملے کو نازیبا الفاظ سے پکارنا اور عوام کے سامنے ایک سرکاری محکمے کے عمال کا دوسرے سرکاری محکمے کو قابل اعتراض لقب دینا ہر دو واقعات نامناسب اور تضحیک آمیز ہیں جس کی حکمرانوں اور سرکاری افسران سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ پشاور کی ضلعی انتظامیہ کے کرتا دھرتا اگر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے خواہاں ہیں تو قیمتوں کی سرکاری نرخنامے کے مطابق وصولی کو یقینی بنائیں تو عوام بھی تحسین کی نظروں سے دیکھیں گے اور ان کی کارکردگی بھی نظر آئے گی۔گالم گلوچ اور بد تمیزی کا جو کلچر پروان چڑھ رہا ہے یہ سلسلہ نہ رکا تو کسی کی بھی پگڑی محفوظ نہیں رہے گی۔