پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کے اسباب

پچھلے دنوں پی ٹی آئی کا یوم تاسیس منایا گیا، اس موقع پر عمران خان نے میڈیا کے ذریعے عوام کو پی ٹی آئی کی تاسیس اور اس کے مقاصد کے متعلق بنیادی باتیں کیں۔ اس میں شک نہیں اور ایک دنیا مانتی ہے کہ عمران خان کو شخصیت میں کرشماتی صلاحیتیں بہرحال ہیں۔ وزیراعظم بننے سے آپ نے تین بڑے کام کئے جن کو وہ تقریباً اپنی تقاریروں میں سینکڑوں بار دہرا چکا ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال، نمل یونیورسٹی آپ کے یادگار کارنامے ہیں، کرکٹ ورلڈ کپ میں بہرحال قوم کی دعائیں اور ٹیم ورک بھی شامل تھا۔ سیاسی دنیا میں آپ کی آمد پر جگتیں اور لطائف کسے گئے، تانگہ پارٹی کہا گیا اور پہلے الیکشن میں صرف خان صاحب ہی اپنی سیٹ جیت سکے تو سیاسی زعماء نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اگلے انتخابات میں وہ بڑی سیاسی جماعتوں کو چیلنج کریں گے لیکن وہی ہوا جس کا دعویٰ کپتان کرتے چلے آرہے تھے کہ پی ٹی آئی ملک کی تیسری سیاسی قوت کے طور پر پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی باری میں کنڈت ڈال دی اور 2018ء کے انتخابات میں برسراقتدار آئی۔ اقتدار میں آنے سے پہلے کپتان نے اپنی حریف سیاسی جماعتوں پر جو تنقید واعتراضات کئے تھے وہی اُن کا آج تک پیچھا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے پلاننگ اور منصوبہ بندی اور متعلقہ افرادی قوت کا اندازہ کئے بغیر جو بلند وبانگ وعدے عوام سے کئے وہ بھی اُن کیلئے ایک ڈراؤنی صدائے بازگشت کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اور اس طرح کے اور کئی اہم نکات اپنی جگہ لیکن سب سے بڑی خطا یہ ہوئی کہ پی ٹی آئی میں الیکٹبلز کا قبضہ مضبوط ہونے لگا۔ اگرچہ پاکستان کی موروثی سیاست میں یہ ایک مجبوری ہوتی ہے لیکن اس چیز نے پی ٹی آئی کے انقلابی مقاصد کا دم خم بہت کمزور کیا۔ عمران خان نے انتخابی جلسوں میں حکومت کے ہر شعبہ کے ماہرین پر مشتمل ٹیم کا مژدہ سنایا تھا وہ آج تک سامنے نہ آسکا۔ معیشت کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا زیادہ تر دار ومدار وزارت خزانہ پر ہوتا ہے اور اس حوالے سے ستم ظریفی دیکھئے کہ ڈھائی برسوں میں شوکت ترین چھوتا وزیر خزانہ آچکا ہے لیکن یہ بھی چھوڑئیے، پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کے بڑے اسباب کچھ بیرونی بھی ہیں۔ معاملات مملکت وحکومت سنبھلنے میں کپتان اور ان کی نوآموز ٹیم کو آج بھی تربیت ورہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ وزارتوں میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کی روایتی ڈنگ ٹپاؤ سیاست سے ہو کر آئے ہیں۔ پی ٹی آئی میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کا ماضی دوسری سیاسی جماعتوں سے جڑا ہوا ہے۔ آج بھی اُن کے مفادات پر تھوڑی سی ضرب لگے تو دیکھیں کہ وہ موسمی پرندوں کی طرح کہاں کہاں کیلئے اُڑان بھرتے ہیں۔ جہانگیر ترین اور اُن کی کمپنی سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کو جو اپوزیشن ملی وہ ایسے مخالفانہ اور معاندانہ جذبات ومنصوبے لئے ہوئے تھی کہ وہ سب ملکر ان کی بیخ کنی پر تلی ہوئی ہے۔ پہلے دن ہی سے اسمبلیوں میں حلف نہ لینے کے عزائم اور دعوت سے یکسر پی ڈی ایم تک کی کہانی سب کے سامنے ہے اور کچھ نیازی صاحب کو خود بھی مرنے کا شوق ہے کہ اپنی تقریروں کے ذریعے سب کو اپنا شدید دشمنوں میں تبدیل کرلیا۔ چوروں ڈاکوؤں کی رٹ نے ایک عجیب سماں برپا کیا ہے اور اس چیز نے پی ٹی آئی کی تعمیری صلاحیتوں کو کافی کمزورکیا۔ ان حالات پر مستزاد بڑی سیاسی جماعتوں کی پروردہ بیوروکریسی اور پولیس وغیرہ نے پی ٹی آئی حکومت کیلئے ہر قدم پر روڑے اٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بشیر میمن اس کی تازہ وناقابل تردید مثال ہے لیکن ان ساری باتوں کی حیثیت پر مشتمل ہونے کے باوجود ناکامی کی سب سے بڑی وجہ نااہل کابینہ کے افراد ہیں۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر وفاقی وصوبائی وزراء میں کتنے لوگ ہیں جو اپنی وزارت کے مختلف شعبوں کے بارے میں بھرپور مہارت اور خبرگیری رکھنے کے اہل ہیں اور اپنے ماتحت خرانٹ گرانٹ سیکرٹریوں اور افسران بالا سے ضروری امور نمٹانے کیلئے کام لے سکتے ہیں۔ رہی سہی کسر ٹی ایل پی کی خون آشام تحریک نے پوری کردی اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کیخلاف قرارداد کی منظوری نے کرونا کی بربادیوں کیساتھ ملکر پاکستانی عوام کی معاشی زندگی کو مزید اجیرن بنانے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے۔