پشتو والا لمبا

نیا تعارف کسی انسان سے ہو یا دوسری اشیاء سے یقیناً معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور آج کا دور تو معلومات کا دور ہے۔ آپ کی جیب میں پڑا ہوا سیل فون کیا معلومات کا خزانہ نہیں ہے؟ اسی طرح انٹرنیٹ ہو یا کمپیوٹر، یوں محسوس ہوتا ہے یہ ہر وقت معلومات ہی اُگلتے رہتے ہیں۔بات تعارف کی ہو رہی تھی، دس پندرہ دن پہلے ہمارا تعارف ایک نئی بیماری سے ہوا یوں کہئے ہم ایک بیماری میں مبتلا ہوگئے۔ بیماری اسلئے دلچسپ ہے کہ اس کے بارے میں پچھلے دو ہفتوں سے نت نئی باتوں کا پتہ چل رہا ہے جو مہربان بھی ملتا ہے ہماری بیماری کا سن کر چہرے پر جلدی سے سنجیدگی اوڑھ لیتا ہے پھر ڈراؤنی سی شکل بنا کر اس بیماری کا حدود اربعہ کچھ اس انداز سے بتاتا ہے کہ ہمارا خون خشک ہو جاتا ہے۔ بات اگر یہاں تک ہوتی تو ہم صبر شکر کر کے اللہ پاک سے صحت یابی کی دعا مانگنے پر اکتفا کرتے لیکن یہاں تو صورتحال قدرے مختلف ہے، لوگ نہ صرف اس بیماری سے ڈراتے ہیں بلکہ اب تک ہم پر یا ہماری بیماری پر پانچ عدد حملے بھی ہو چکے ہیں! ٹھہرئیے پہلے ہم آپ کا تعارف اپنی بیماری سے کرواتے ہیں پھر پانچ عدد حملوں کی وضاحت بھی ہوتی چلی جائے گی۔ ایک دن صبح سویرے آنکھ کھلی تو سر کے پچھلے حصے میں شدید قسم کی جلن کا احساس ہوا، ہاتھ لگا کر دیکھا توچھوٹے چھوٹے دانوں کا ایک جال سا بچھا ہوا تھا۔ یہ دانے ہمارے گلے کو بھی چھو رہے تھے، جلن کی شدت ناقابل بیان تھی ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے بڑی احتیاط سے تمام صورتحال کا مشاہدہ کیا اور یوں گویا ہوئے: جناب یہ بڑی خطرناک بیماری ہے اس کا میڈیکل نام ہےherpes zoster اس کا وائرس بندے کے منہ میں پیدا ہوتا ہے اس کا وہی وائرس ہے جو چکن پاکس کا ہے، یہ کمبخت ایسا وائرس ہے جو کئی سالوں بعد پھر زندہ ہو سکتا ہے اور یہ بیماری دوبارہ حملہ آور ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کیلئے بہادر آدمی چاہئے آپ کو بڑے حوصلے سے کام لینا پڑے گا یہ ایسی بیماری ہے جس پر اینٹی بائیوٹک کا کوئی اثر نہیں ہوتا، بس یہ اپنی مدت پوری کر کے جاتی ہے۔ یہ بیماری تین ماہ سے لیکر ایک برس تک آپ کے سینے پر مونگ دلنے کیلئے حاضر جناب رہ سکتی ہے۔ ڈاکٹر کی دکان سے نکلے تو ان کے اقوال زریں کی روشنی میں ہمارا چہرہ اُترا ہوا تھا، راستے میں چند مہربان ملے تو ہمارے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر ہماری حالت زار کے حوالے سے کرید کرید کر پوچھتے رہے، ہم نے ہر چند انہیں ٹرخانے کی کوشش کی لیکن منکر نکیر کب کسی کی سنتے ہیں۔ ہماری بیماری سے زیادہ انہیں ہماری کسمپرسی پر پیار آرہا تھا بعض نے تو باقاعدہ مسکرا کر ہمارے لئے دعا کی۔ انداز کچھ اس قسم کا تھا جیسے کہہ رہے ہوں اب اونٹ آیا پہاڑ کے نیچے، اب پتہ چلے گا۔پریشان چہرے کیساتھ گھر آئے تو ایک بزرگ ہماری عیادت کیلئے ہم سے پہلے ہی پہنچ چکے تھے، جب ان کو حال دل سنایا تو وہ ایک بلند بانگ سا قہقہہ لگانے کے بعد کہنے لگے: یار کیا انگریزی کے مشکل نام لے رہے ہو، ارے بھائی یہ ''لمبا'' ہے، اس بیماری کو لمبا کہتے ہیں لیکن یہ اُردو والا لمبا نہیں ہے یہ پشتو والا لمبا ہے، جسے اُردو میں تم شعلہ کہہ سکتے ہو، ان دانوں میں شدید جلن ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے متاثرہ جگہ پر کوئلے چہل قدمی کر رہے ہوں۔ اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے بس یہ دم اور دعا سے اچھی ہو جاتی ہے۔ ان کی باتیں سن کر دل کو ڈھارس ملی ورنہ ہم تو نیک پروین سے گھر کے صحن میں چارپائی بچھوا کر سچ مچ کے بیمار کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے سوچ رہے تھے۔ ہم نے کالم کے آغاز میں حملے کی بات کی تھی حملے کی کہانی یہ ہے کہ دوچار شرارتی قسم کے دانے ہماری ننھی منی داڑھی کے نیچے سے جھانک رہے ہیں، ہمارے ملنے جلنے والوں کو پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری داڑھی کیساتھ کچھ چمٹا ہوا ہے۔ کل ایک صاحب نے داڑھی کے اندر چھپے ہوئے دانے کو مکھی سمجھا اور اس پر حملہ کر بیٹھے، ہمارے احتجاج پر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بجائے معذرت کے دانے کے محل وقوع پر اعتراض کرنے لگے ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا جناب یہ دانے اپنی مرضی سے جہاں ان کا دل چاہتا ہے وہاں نکل آتے ہیں، ہم سے یہ کب پوچھ کر نکلتے ہیں ورنہ چہرے پر دانے کسے اچھے لگتے ہیں؟ دعا کے حوالے سے سب سے پہلی بات جو ہمارے ذہن میں آتی ہے وہ دین کے حوالے سے ہے۔ حدیث مبارک کا مفہوم ہے۔ دعا عبادت کا مغز ہے۔ یہ صرف ایک سطر ہے لیکن اگر غور کریں تو کوزے کو دریا میں بند کر دیا گیا ہے۔ مغز کسی بھی چیز کا انتہائی اہم حصہ ہوتا ہے۔ بادام کی مثال لے سکتے ہیں اگر بادام میں مغز یا گری نہ ہو تو صرف چھلکا رہ جاتا ہے اور صرف چھلکے کی کیا اہمیت ہے؟ دور نہ جائیے انسان کو اگر مغز سے محروم کر دیا جائے تو پھر باقی کیا بچتا ہے؟ انسانی زندگی پر دعا کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور پھر ہمارا لمبے والا تجربہ! دوا کیساتھ ساتھ دعا کی اور اللہ پاک نے بیماری سے شفا عطا فرما دی۔