مسئلہ کشمیر کاحل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیر میں انسانی المیے کو ختم اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے عید کے دو دنوں میں ایل اوسی اور مغربی بارڈرپر اگلے مورچوں کا معائنہ اور وہاں پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو امن کی تباہی کی اجازت نہیں دیں گے۔ مقصد کے حصول تک پاک فوج اورقانون نافذکرنے والے ادارے ہر ضروری اقدام کریں گے۔ پاکستانی عوام کی سیکورٹی، تحفظ اور فلاح ہماری ذمہ داری ہے۔ پاک فوج قوم کی توقعات پر پورا اُترنے کیلئے ہر اقدام کرے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے عید کے روز کنٹرول لائن کا دورہ کیا اور ایل او سی پر تعینات فوجیوں کیساتھ نماز عید ادا کی اور ان کے جذبے کو سراہا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے پاکستان میں امن واستحکام کیلئے دعا کی اور جوانوں کی لگن، جذبے اور پیشہ وارانہ تیاریوں کو سراہا۔ عید کے دوسرے روزبھی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے لوئر دیر کے علاقے تیمر گرہ کا دورہ کیا اور عید کادوسرا دن مغربی سرحد پر تعینات جوانوں کیساتھ گزارا۔ اس موقع پر آرمی چیف کو پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر انتظامات سے آگاہ کیا گیا اور سرحد کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو ان علاقوں میں بڑی مشکل سے حاصل کئے گئے امن کو تباہ کرنے نہیں دیں گے۔ مقصد کے حصول تک پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر ضروری اقدام کریں گے۔جہاں تک آرمی چیف کے عید کے دو دونوں کے دوران ایل او سی اور مغربی سرحد کے دورے اور وہاں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کیساتھ عید منانے کا تعلق ہے یہ یقینا ایک قابل ستائش اقدام ہے کیونکہ پوری قوم عید کی خوشیاں مناتے ہوئے اگرسکون اور امن سے عمومی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے تو اس میں سرحدات پر مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دینے والے ان فوجی اور قانون فانذ کرنے والے دیگر اداروں کے ارکان کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو عید کے موقع پر بھی اپنے گھروں اور پیاروں سے دور ملک وقوم کے تحفظ کیلئے اپنے فرض کی ادائیگی پر کمر بستہ ہیں۔ ان سیکورٹی اہلکاروں کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ ہم اپنے گھروں میں چین کی نیند سوتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ان کی داد رسی کیلئے آرمی چیف کا خود وہاں جا کر ان کیساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہونے سے ان کی جس طرح حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے، اس کا تقاضا ہی یہی تھا کہ آرمی چیف ان کیساتھ جا کر عید کے دو دن گزاریں۔ جہاں تک جنرل قمر جاوید باجوہ کے خیالات کا تعلق ہے ان کے فرمودات کی حقانیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خطے کا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر تنازعہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کئے بناء امن کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتاجبکہ گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بھارت نے کشمیر کے ایک حصے پر غاصبانہ قبضہ جماتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی زندگی جس طرح اجیرن کر رکھی ہے وہ ایک طرف جبکہ اب اس نے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پرہڑپ کرلیا ہے ،جس سے نہ صرف کشمیری مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے،بھارتی ہندوئوں کو بھاری تعداد میں لاکر وہاں بسا نے سے کشمیر کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ وہاں پر مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے بلکہ گزشتہ تقریباً دوسال سے وہاں عملی طور پر لاک ڈائون کی کیفیت سے مسلمانوں کو جن شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان پر عالمی برادری اور خصوصاً مسلم اُمہ کی خاموشی کو ''مجرمانہ'' قرار دینے میں کوئی امر مانع ہونا چاہئے۔ اسی طرح مغربی بارڈر پر پاکستان کو کئی برس سے جن حالات کا سامنا رہتا ہے اور وہاں پر بعض عناصر نے دہشت گردی کا جو بازار گرم کئے رکھا تھا اس سے نمٹنے میں ہماری بہادر افواج نے جس جانفشانی سے کردار ادا کرتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا ان کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اب بھی دہشت گردوں کو موقع ملتے ہی وہاں حالات خراب کئے جاتے ہیں تاہم ہماری سیکورٹی فورسز اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جس طرح ان امن دشمن قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر ان کی مذموم مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دیتے،اس پر ان کی ہر طرح حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور پوری قوم ان مجاہدین کی سلامتی کیلئے دعا گو رہتی ہے جبکہ شہداء کی قربانیوں کو تشکر اور تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان شہداء کے اہل خاندان کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہیں گے۔جبکہ آرمی چیف نے بہ ذات خود ان کے پاس جا کر جس طرح ان کیساتھ اظہار یکجہتی کیا اس میں پوری قوم کے جذبات شامل ہیں کیونکہ قوم کو امن وسکون انہی بہادر افواج کی وجہ سے ہی ممکن ہوتا ہے اس لئے قوم اپنے ان سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔