ملالہ یوسفزئی کی نئی ترقی اور نئی فکر

ملالہ نام پشتون تاریخ و ثقافت میں بہت مشہور رہا ہے ۔ ملالہ آف میوند تو وہ کردار وستارا ہے جس پر پشتون قوم رہتی دنیا تک فخر کرتی رہے گی۔ یہ 27جولائی 1880ء کا واقعہ ہے جب پختون قوم کے افراد موجودہ قندھار(افغانستان) میں برطانوی افواج کے خلاف برسر پیکار تھی اور اس جنگ میں میوند کے محاذ پر ایک لمحہ ایسا آیا کہ برطانوی افواج کے جدید بندوقوں کے مقابلے میں پختونوں کی توڑے ڈر بندوقیں اور تلواریں پسپا ہونے لگیں تو ملالہ میوند اچانک میدان جنگ میں نمودار ہوئی اورپشتو ادب کی بہترین اور ہر پختون کو سمجھ آنے والی صنف ''ٹپہ'' کی صورت میں انگریز کے خلاف نبرد آزما اپنی قوم کے افراد کو وہ پیغام دیا جو آج بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے ۔ ملالہ میوند نے اپنے دوپٹے کا جھنڈا بنا کر لہرایا اور یوں ان ٹپوں کی تان اٹھائی۔
کہ پہ میوند کے شہید نہ شوے
خدائیگو لالیہ بے نگئی تہ دے ساتینہ
خال بہ دیار د وینو کیگ دم
چہ شینکئی باغ کے گل گلاب وشرموینہ
ملالہ کی آواز اور ان اشعار(ٹپے) نے آگ لگائی اور پختونوں کے اکھڑتے قدم ایسے جمے کہ برطانوی افواج شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہوئی۔ملالہ نورزئی میوند کی اس جنگ میں پختونوں کی فتح کے سبب شجاعت و بہادری اور استقامت کا استعارہ اور علامت بن کر تاریخ میں امر ہوئی۔ ایک ملالہ یوسفزئی خاندان میں سے نکلی جب 2007ء میں اس نے یا اس کے نام سے کسی اور نے بی بی سی اردو کے لئے گل مکئی کے فرضی نام سے ڈائری لکھ کر بھیجنا شروع کیا اور یوں وہ عوام کی توجہ کا مرکز بنتی چلی گئی۔۔ وہ ان ڈائریوں میں سوات میں طالبان کے خوف و دہشت کی کہانیاں لکھ کر بی بی سی اردو کو بھیجا کرتی تھیں۔ ملالہ نے یہ ڈائری گیارہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا تھا۔ملالہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں طالبان خواتین کو تعلیم کے حصول سے منع کر رہے ہیں ۔ سکول کی عمارتوں کو گراتے ہیں اور سکولوں میں بچیوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جاتی رہی ہے ۔ سوات میں اسی زمانے میں شدت پسندوں نے تقریباً ڈیڑھ سو سکول مسمار کئے تھے ۔ اور پھر ایک دن وہ آیا کہ ملالہ کو شدت پسندوں کی گولی لگی اور یوں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح مشرق سے مغرب تک پھیل گئی۔۔ بی بی سی اردو اور برطانوی اخبارات کے نامہ نگاروں نے اپنے اپنے انداز میں اس کی بھر پور کوریج کی اور ملالہ کو خواتین کی تعلیم اور شدت پسندوں کے خلاف اٹھنے والی ایک توانا آواز کی علامت قرار دیا۔۔ اور پھر ملالہ پاکستان میں ابتدائی علاج معالجہ کے بعد وہیں پر پہنچی جہاں اس کی آواز پوری دنیا میں سنائی جاسکتی تھی۔ مغرب بالخصوص برطانیہ نے جس انداز سے ملالہ یوسفزئی کو پروان چڑھایا اس نے ایک طرف اسے کم عمر ترین نوبل لاریٹ بنوا دیا تو دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے بعض حلقوں میں آج بھی وہ ایک پراسرار متنازعہ اور سمجھ میں نہ آنے والا کردار سمجھا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو تاریخ کے بہت سارے اہم کرداروں اور واقعات کے بارے میں ہوتا آیا ہے ۔۔ اور کوئی مانے یا نہ مانے کسی کو اچھا لگے یا برا۔ ملالہ یوسفزئی بہرحال اب تاریخ میںاپنا مقام بنا چکی ہے ۔ تعلیم نسواں کے لئے اس کا نام استعمال ہو رہا ہے ۔ اس کے والدین بالخصوص ضیاء الدین کے بارے میں بھی عوام الناس اور سوات میں عوام کی آراء مختلف و متنازعہ ہیں۔ میں نے خود ایک کانفرنس میں اسے سنا تو پتہ چلا کہ صاحب ٹھیک ٹھاک لبرل سوچ و فکر کے حامل ہیں اور ان کا ایک ٹپہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ
یار م ہندو زہ مسلمان یم
دیار د پارہ دھرمسال جارو کومہ
اب پورا ٹبر برطانیہ میں مقیم ہے اور سوچ و فکر کی آزادی حاصل ہے لیکن انہیں بالخصوص ملالہ کو اسلامی عقائد ' عبادات ' احکام اور تعلیمات کے بارے میں محتاط رویہ اپنانا ہو گاکیونکہ کوئی پاکستانی اسے برداشت نہیں کرے گا۔ نکاح بارے ملالہ کے تاثرات اسلامی تعلیمات اور احکام کی صریح خلاف ورزی ہے اور اگر اس انٹرویو پر معافی طلب نہ کی گئی تو یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
اگر واقعی ایسی بات ہے تو ملالہ کو خود سامنے آکر میڈیا کے ذریعے واضح الفاظ میں اسلام میں شادی کے لئے نکاح کی ناگزریت اور لازمیت کا اقرار کرنا ہو گا۔ ہاں خود مغرب میں وہ جو چاہے جیساچاہے کریں لیکن اسلامی عقائد و شعائر کے حوالے سے ایسی غیر محتاط گفتگو علماء کرام اور عوام کے ہاں یقیناً مردود و مسترد ہے ا ور اس پر رد عمل کا آنا یقینی ہے ۔
ملالہ کو چاہئے کہ اپنے کام سے کام رکھے ۔ حقوق نسواں اور تعلیم نسواں کے لئے ضرور کام کریں لیکن اسلامی حدود کا خیال رکھیں کیونکہ ابھی انہوں نے آگے جانا ہے ۔ ترقی کرنی ہے اور ہو سکتا ہے کہ کل کلاں پاکستان کی وزیر اعظم یاکوئی وزیر وغیرہ بھی بن جائیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی وزیراعظم رہے ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ بھی نہیں تھا۔ ملالہ بہت بڑا نام ہے لہٰذا اپنے نام اور تاریخی ملالہ میوند کے نام کی لاج رکھنی چاہئے ہاں ودگ جرنل کے سرورق کی زینت بننے پر مبارکباد قبول کیجئے۔