پاکستان کا ووہان

بجائے اس کے کہ کرونا وائرس سے بچنے اور اس کے پھیلائو کے ممکنہ تدارک کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں اب تک حکومت اور عوام دونوں اور عوام بالخصوص غفلت اور بے احتیاطی کا ایسا عملی مظاہرہ کر رہی ہیں کہ اسے دیکھ کر ڈر اور خوف جیسے لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اٹلی میں حکومت کی جانب سے شہریوں کو پابند کرنے کی خلاف ورزیوں کاانجام یہ سامنے آیا ہے کہ چین کے بعد اٹلی سب سے متاثرہ ملک بن گیا چین سے یہ وباء پھیلی لیکن چین کی حکومت نے حیرت انگیز اقدامات اور وہاں کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے قابل صدتحسین خدمات انجام دے کر اپنے ملک اور ہموطنوں کو محفوظ کرلیا۔ ماسک مستقل پہنے رکھنے کے باعث چہروں پر زخم اور گال کا گوشت ماسک کی قوت سے دب جانے پر وہاں کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے چہروں پر گڑھے نما لکیریں پڑ گئی ہیں اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کتنے دن رات کتنا عرصہ بلکہ کتنے دنوں تک ماسک ہٹائے بغیر رہے چینی طبی عملے کے چہروں سے بغیر آرام کے مسلسل کام کرتے رہنے کی کیفیات اور ٹھکاوٹ سے چورنظر آنے کی تصویریں دنیا والوں کیلئے پیغام ہیں۔پاکستان میں وہ اقدامات جو ایئر پورٹس اور بارڈرزپر اٹھائے جانے تھے اس میں سنگین غفلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ خیبرپختونخوا میں کورونا سے متاثرہ دو افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ اس وائرس کے عام پھیلنے کا وہ نقارہ ہے جو جب تک سماعتوں میں خراش ڈالنے والی قوت کے ساتھ بج نہ اٹھا اس کی آواز کسی نے نہ سنی ۔مردان کے رہائشی پچا س سالہ شخص نو مارچ کو باچاخان انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے باہر آیاجن کا اگر معائینہ کر کے قرنطینہ کردیا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی اسی طرح دیگر مریضوں کی مجموعی تعداد کے، تقریباً سبھی بیرون ملک سے آنے والوں کی ہے۔ایئر پورٹ اور تفتان بارڈر سے آنے والے اب پورے ملک میں پھیل چکے ہیں جن کو قرنطینہ کرنے کی ذمہ داری میںسنگین غفلت کا ارتکاب کیا گیا۔اب ان حالات میں جبکہ پاکستان میں دو مریضوں کے جاں بحق ہونے کے باعث خیبرپختونخوا ووہان بن چکا ہے تو یہاں بھی ان اقدامات کی ضرورت ہے جو ووہان میں اپنائے گئے۔مگر یہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سوائے ماسک کے اب تک کوئی اور حفاظتی سازوسامان نہ دینے کی عام شکایت ہے جبکہ ہسپتالوں کے اندرقرنطینہ بنا کر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دیا جارہا ہے۔صوبائی حکومت شاہ کس میں جس علیحدہ مرکز علاج اور قرنطینہ کا اعلان کر چکی ہے اسے فوری طور پر فعال کیا جانا چاہیئے ہم ہر معاملے میں حکومت پر باآسانی تنقید کرلیتے ہیں اور کیا عوام اور کیا میڈیا حکومت اور حکومتی اقدامات ہمارا مشق سخن ہے۔کورونا وائرس کی ملک میں آمد کی روک تھام میں حکومتی اقدامات کی ناکامی، تنقید کی بات نہیں حقیقت ہے حکومتی اقدامات میں سنگین غفلت اپنی جگہ ذرا سوچئے کہ کیا بطور شہری میں آپ اور ہم سب خود اپنے بچائو اپنے بچوں اور اہل خانہ کے تحفظ اپنے ہمسایوں ہم شہروں اور اپنے ملک کے عوام کے تحفظ کی خاطر ذرا احتیاط کیلئے تیار ہیں بالکل نہیں۔ہم اپنی مدد آپ کیلئے بالکل تیار نہیں ہم ہر کام مالک کائنات اور اس کے بعد حکومت وقت کے ذمے لگا دیتے ہیں ہماری توقعات ہوتی ہیں کہ جس عظیم وبزرگ وبرتر ہستی نے اسی کائنات اور ہمیں پیدا کیا ہے وہی ہمارا تحفظ کرے گا یقیناً بطور مسلمان اس عقیدے میں شک کی گنجائش نہیں میرا ان سے احترام سے یہ سوال ہے کہ کہ بیماریاں اور اس کے اسباب کا بھی تو فیصلہ آسمان ہی سے آتا ہے اس ذات عالی کی مشیت کو ہم کیا جانیں البتہ ہمیں تو کل کی تعلیم دیتے وقت یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اونٹ کے زانورسی سے مضبوطی سے باندھ کر پھر توکل کریں۔ اس مالک کائنات کی کتاب میں ارشاد ہے کہ مالک ارض وسماء کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے پر تیار نہ ہو یعنی اس کی کوشش نہ کرے۔کرونا وائرس بنی نوع انسان کی آزمائش ضرور ہے یہ عذاب ہے یا نہیں اس کافیصلہ ہم نہ ہی کریں تو بہتر ہے ۔مالک کائنات کے عذاب پچھلی امتوں پرآتے رہے ہیں ان کا عذاب ان کا قہر برحق ہے فرق یہ ہے کہ پچھلی امتوں پر عذاب آنے کی تصدیق اس دور کے پیغمبروں نے کی ہے ۔قرآن کریم میں ان عذابوں کا ذکر موجود ہے اس لئے ان کے عذاب ہونے میں کوئی شک نہیں۔آخری امت پر عذاب نازل نہ ہونے کا ہمیں بتایا گیا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ اسے عذاب کا نام نہ دیا جائے تو مناسب ہوگا ویسے بھی ہم عذاب کا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ جہاں تک علامات کی بات اور نافرمانیوں کا عالم ہے اس میں تو ہم اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ شاید ہی کسی پیغمبر اور نبی کی امت اس حد کو پہنچی ہو۔
مردان کے مریض عمرے سے آئے تھے اور خیبرپختونخوا میں ویسے بھی کوئی باہر سے آئے تو ان کے عزیز واقارب ملنے آتے ہیں عمرے سے واپسی پر خیرات کے نام سے پورے گائوں کی دعوت کی جاتی ہے یقین کی حد تک قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دعوت عام بھی ہوئی ہوگی وطن واپس آنے والے گائوں میں ہر ایک سے ملے بھی ہوں گے اور دور دراز اورقرب وجوار میں اپنے عزیز واقارب سے ملنے بھی گئے ہوں گے۔اہل خانہ اور اہل محلہ مسجداور حجرے میں تو آمدورفت اور قیام تو اس صورتحال میں پورے صوبے میں وائرس کے پھیلائو اور سفر بھیانک خواب ہے ۔ صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت مزید اقدامات کرے اور عام خاص طور پر احتیاط بلا ضرورت آمدورفت محدود اور بچائو کی تدابیر اختیار کرنے کے بعد مالک کائنات کی ذات پر توکل اور بھروسہ کیا جائے صورتحال پریشان کن ضرور ہے مگر پریشانی کسی مسئلے کا حل نہیں،حل ممکنہ تحفظ کے اقدامات اختیار کرنا ہے۔ گھبرائیں مت مگر صورتحال کو ہلکا بھی نہ لیں دوا اور دعا دونوں اختیار کریں۔