ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا

پشاور کے بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے پیپل منڈی ، مینابازار، سبزی منڈی، چوک یادگار، قصہ خوانی جس طرف نکل جائیے انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمند ر سے ملاقات ہوتی ہے جسے دیکھیے بھاگ رہا ہے لوگوں کی ضرورتیں انھیں اس قسم کے مصروف ترین بازاروں میں لے آتی ہیں اگر لوگوں کے ہجوم میں کوئی واقف کار مل جاتا ہے تو معانقہ اور مصافحہ ضرور کرتا ہے اوپر سے کرونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں نے پتا پانی کر رکھا ہے چینیوں نے تو اپنی محنت ، ہمت، اتفاق اور علم سے اس وائرس کو چاروں شانے چت کردیا ہے وہ اپنا ڈے آف وکٹری منا کر فارغ ہوچکے ہیں وہاں اب کاروبار زندگی معمول پر آرہا ہے یقینا انھوں نے رات دن کرونا وائرس کے خلاف جنگ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا !چین میں اسی فیصد مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس جاچکے ہیں!
علمائے کرام نے بھی شرعی حوالوں سے احتیاط اور علاج کو ضرور ی قرارد یا ہے ان کا کہنا ہے کہ کمروں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ مسجد کے صحن میں نماز ادا کی جائے اسی طرح ہاتھ ملانا ضروری نہیں ہے مساجد سے جائے نمازیں بھی اٹھا دی جائیں اپنا ذاتی رومال اپنے آگے ڈال کر اس پر سجدہ کیا جائے تو بہتر ہے لیکن ان تما م ہدایات میں سے ابھی تک کسی ایک پر بھی عمل ہوتا نظر نہیں آرہا ! اگر کسی سے ہا پشاور کے بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے پیپل منڈی ، مینابازار، سبزی منڈی، چوک یادگار، قصہ خوانی جس طرف نکل جائیے انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمند ر سے ملاقات ہوتی ہے جسے دیکھیے بھاگ رہا ہے لوگوں کی ضرورتیں انھیں اس قسم کے مصروف ترین بازاروں میں لے آتی ہیں اگر لوگوں کے ہجوم میں کوئی واقف کار مل جاتا ہے تو معانقہ اور مصافحہ ضرور کرتا ہے اوپر سے کرونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں نے پتا پانی کر رکھا ہے چینیوں نے تو اپنی محنت ، ہمت، اتفاق اور علم سے اس وائرس کو چاروں شانے چت کردیا ہے وہ اپنا ڈے آف وکٹری منا کر فارغ ہوچکے ہیں وہاں اب کاروبار زندگی معمول پر آرہا ہے یقینا انھوں نے رات دن کرونا وائرس کے خلاف جنگ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا !چین میں اسی فیصد مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس جاچکے ہیں!
علمائے کرام نے بھی شرعی حوالوں سے احتیاط اور علاج کو ضرور ی قرارد یا ہے ان کا کہنا ہے کہ کمروں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ مسجد کے صحن میں نماز ادا کی جائے اسی طرح ہاتھ ملانا ضروری نہیں ہے مساجد سے جائے نمازیں بھی اٹھا دی جائیں اپنا ذاتی رومال اپنے آگے ڈال کر اس پر سجدہ کیا جائے تو بہتر ہے لیکن ان تما م ہدایات میں سے ابھی تک کسی ایک پر بھی عمل ہوتا نظر نہیں آرہا ! اگر کسی سے ہاتھ نہ ملانے کے حوالے سے کہا جائے تو اکثریت آپ کا مذاق اڑاتی نظر آئے گی ہمیں ایک مہربان اس حوالے سے کہنے لگے یار جو رات قبر کے اندر ہے وہ باہر نہیں ہے موت اپنے وقت پر آئے گی ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا جناب ان سب باتوں کا اللہ اور اس کے رسول ۖ کو بھی علم ہے اسی لیے تو اسلامی شریعت میں علاج ، پرہیز اور احتیاط کی تعلیم دی گئی ہے!اللہ کریم کا یہ خاص کرم ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک کرونا وائرس اس تیزی سے نہیں پھیل رہا جس تیزی سے چین، ایران، اٹلی اور دوسرے ممالک میں پھیلا تھا ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ہمارا بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے غالب نے کیا خوب کہا تھا :
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ؟
نیند کا رات بھر نہ آنا اس بات پر شاہد ہے کہ طبیعت پریشان ہے ہمارے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے جو موٹی موٹی سامنے کی ہدایات ہیں ان پر عمل کرتے رہیں !اگر تعلیمی ادارے بند ہیں تو طلبہ کو زیادہ وقت گھروں پر ہی گزارنا چاہیے ہمارے بازار تو ایسے ہیں جیسے کوئی جلسہ ہورہا ہے اس قسم کے جمگھٹوںسے بچنا ضروری ہے گورا کہتا ہے East and West Home is the best گھر یقینا ایک محفوظ پناہ گا ہ ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ابھی تک ہمارے ہوٹل ریسٹورنٹ کھلے ہوئے ہیں بازار ، مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے کہ ضروری شاپنگ کے لیے ہی گھر سے نکلا جائے اسی طرح ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے سے پرہیز کیا جائے شادی ہال مالکان احتجاجی جلوس نکال رہے ہیں انھیں چاہیے کہ انسانی جان کی حرمت کی اہمیت سے آگاہی حاصل کریں اوریہ تو چند دنوں کی بات ہے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے اگر ہم سب مل کر حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں گے تو اس میں یقینا سب کا فائدہ ہوگا ! فرض کریں اگر کرونا وائرس بے قابو ہو کر چین ، اٹلی اور ایران کی طرح ہمارے یہاں بھی پھیل گیا تو کیا ہوگا ؟ ہم سب کو اپنی میڈیکل سہولیات کا بھی پتہ ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاںکام کرنے کا وہ جذبہ نہیں ہے جو چین میں دیکھنے میں آیا ہے؟ ہمارے ہسپتال میں اگر ایکسرے مشین خراب ہوجائے تو اسے ٹھیک کروانے میں مہینے لگ جاتے ہیں پھر اپنی آبادی پر بھی ایک نظر ڈالتے جائیے ہسپتالوں میں عام دنوں میں مریضوں کی جو تعداد نظر آتی ہے وہ دل دہلا دینے والی ہے اس کی بنیادی وجہ ہسپتالوں کی کمی اور روز بروزبڑھتی ہوئی آبادی ہے!پہلے تعلیمی ادارے بند ہوئے اب دفاتر بھی بند ہوچکے ہیں احتیاط کا یہی تقاضا ہے احتیاط ضروری ہے اور خوف نہیں ہونا چاہیے ایک تجربہ کار ڈاکٹر نے کرونا وائرس کی علامات بڑے اچھے انداز میں بتائی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر خشک کھانسی ہو(خشک کھانسی وہ ہوتی ہے جس میں بلغم وغیر ہ نہیں ہوتی) اور ساتھ شدید بخار بھی ہو تو پھر کرونا کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوجاتا ہے! اپنے دامن میں تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن اللہ تعالی کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں ہماری مدد فرمائے گا۔
تھ نہ ملانے کے حوالے سے کہا جائے تو اکثریت آپ کا مذاق اڑاتی نظر آئے گی ہمیں ایک مہربان اس حوالے سے کہنے لگے یار جو رات قبر کے اندر ہے وہ باہر نہیں ہے موت اپنے وقت پر آئے گی ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا جناب ان سب باتوں کا اللہ اور اس کے رسول ۖ کو بھی علم ہے اسی لیے تو اسلامی شریعت میں علاج ، پرہیز اور احتیاط کی تعلیم دی گئی ہے!اللہ کریم کا یہ خاص کرم ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک کرونا وائرس اس تیزی سے نہیں پھیل رہا جس تیزی سے چین، ایران، اٹلی اور دوسرے ممالک میں پھیلا تھا ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ہمارا بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے غالب نے کیا خوب کہا تھا :
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ؟
نیند کا رات بھر نہ آنا اس بات پر شاہد ہے کہ طبیعت پریشان ہے ہمارے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے جو موٹی موٹی سامنے کی ہدایات ہیں ان پر عمل کرتے رہیں !اگر تعلیمی ادارے بند ہیں تو طلبہ کو زیادہ وقت گھروں پر ہی گزارنا چاہیے ہمارے بازار تو ایسے ہیں جیسے کوئی جلسہ ہورہا ہے اس قسم کے جمگھٹوںسے بچنا ضروری ہے گورا کہتا ہے East and West Home is the best گھر یقینا ایک محفوظ پناہ گا ہ ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ابھی تک ہمارے ہوٹل ریسٹورنٹ کھلے ہوئے ہیں بازار ، مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے کہ ضروری شاپنگ کے لیے ہی گھر سے نکلا جائے اسی طرح ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے سے پرہیز کیا جائے شادی ہال مالکان احتجاجی جلوس نکال رہے ہیں انھیں چاہیے کہ انسانی جان کی حرمت کی اہمیت سے آگاہی حاصل کریں اوریہ تو چند دنوں کی بات ہے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے اگر ہم سب مل کر حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں گے تو اس میں یقینا سب کا فائدہ ہوگا ! فرض کریں اگر کرونا وائرس بے قابو ہو کر چین ، اٹلی اور ایران کی طرح ہمارے یہاں بھی پھیل گیا تو کیا ہوگا ؟ ہم سب کو اپنی میڈیکل سہولیات کا بھی پتہ ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاںکام کرنے کا وہ جذبہ نہیں ہے جو چین میں دیکھنے میں آیا ہے؟ ہمارے ہسپتال میں اگر ایکسرے مشین خراب ہوجائے تو اسے ٹھیک کروانے میں مہینے لگ جاتے ہیں پھر اپنی آبادی پر بھی ایک نظر ڈالتے جائیے ہسپتالوں میں عام دنوں میں مریضوں کی جو تعداد نظر آتی ہے وہ دل دہلا دینے والی ہے اس کی بنیادی وجہ ہسپتالوں کی کمی اور روز بروزبڑھتی ہوئی آبادی ہے!پہلے تعلیمی ادارے بند ہوئے اب دفاتر بھی بند ہوچکے ہیں احتیاط کا یہی تقاضا ہے احتیاط ضروری ہے اور خوف نہیں ہونا چاہیے ایک تجربہ کار ڈاکٹر نے کرونا وائرس کی علامات بڑے اچھے انداز میں بتائی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر خشک کھانسی ہو(خشک کھانسی وہ ہوتی ہے جس میں بلغم وغیر ہ نہیں ہوتی) اور ساتھ شدید بخار بھی ہو تو پھر کرونا کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوجاتا ہے! اپنے دامن میں تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن اللہ تعالی کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں ہماری مدد فرمائے گا۔