ن لیگ کے دور میں ریکارڈ مدت میں بجلی اور سی پیک کے منصوبے لگائے۔ شہباز شریف

ویب ڈیسک (اسلام آباد): شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب، انکا کہنا تھا کہ ن لیگ کے دور میں ریکارڈ مدت میں بجلی اور سی پیک کے منصوبے لگائے گئے، یہ تین سال میں کروڑوں افراد کو خط غربت سے نیچے لے گئے، یہ حکومت تین ہزار چار سو بیس ارب روپے کے مزید قرضے لیں گے، اس میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ مہنگائی کا طوفان آئے گا، عمران خان نیازی کنٹینر پر کھڑے ہو کر بھاشن دیا کرتے تھے، تین سال میں جو ان ڈائریکٹ ٹیکس لگائے گئے وہ پندرہ سال میں نہیں لگے۔

وقفہ کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع، اپوزیشن لیڈر کی تقریرشروع، حکومتی ارکان کی ایک بار پھر نعرہ بازی، ایوان ایک بار پھر سیٹیوں کی آوازوں سے گونج اٹھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف نے بجلی کے کارخانے لگا کر لوڈ شیڈنگ ختم کردی،ایک دھیلے کی کرپشن تو دور کی بات لیکن بجلی کارخانوں میں اربوں روپے کی بچت کی،کورونا کے بارہ سو ارب کے فنڈز کرپشن کی نظر ہوگئے ہیں،اگر اس ملک میں عمران خان مسلط نہ ہوتے تو کرونا کی سے وجہ سے یہ حالت نہ ہوتی،شہباز شریف کی بجٹ تقریر کے شروع ہوتے ہی ایوان میں شورشرابہ شروع، حکومتی اراکین نے شہباز شریف کی تقریر کے دوران سیٹیاں بجانا شروع کر دی،ایسا کبھی نہیں ہوا اپوزیشن لیڈر بات کرے تو اس میں خلل ڈالا جائے،شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی بنچز سے مسلسل ٹی ٹی کے نعرے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے،وزیر اطلاعات فواد چودھری کے بھی اراکین اسمبلی کے ساتھ نعرے بازی،لیگی ارکان حکومتی ارکان کے احتجاج کی ویڈیو بنانے لگے،سپیکر اسد قیصر نے ویڈیو بنانے والوں سے موبائل ضبط کرنے کی ہدایت کر دی،ویڈیو نہ بنائیں، سپیکر اسد قیصر کی ہدایت،لیگی ارکان نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے گرد حصار بنالیا۔

شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کا ایک بار پھر شور شرابہ کیا، وفاقی وزراء سمیت پی ٹی آئی ایم این ایز ڈیسک پر بجٹ بک بجانے میں مصروف، پی ٹی آئی کے کچھ ارکان اپنی نشستوں سے آگے آگئے۔

شور کے دوران عارضی و مختصر تعطل کے بعد اجلاس جاری، ایوان کی کشیدہ صورتحال کے بعد اجلاس معطل،قومی اسمبلی اجلاس کی کاروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں جھڑپ،پی ٹی آئی کے رکن علی نواز اعوان نے ن لیگ کے روحیل اصغر کی طرف کتاب دے ماری۔