چوروں کی بستی

کیا ہم چوروں کی بستی میں رہتے ہیں؟ لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے کیونکہ ہر جانب سے ایسی ہی آواز آتی ہے کبھی حکومت ' کبھی عدالت ہمیں بحیثیت قوم چور گردانتے ہیں۔ کیونکہ وہ سیاستدان جو چور ہیں وہ بھی اسی قوم کا حصہ ہیں۔ وہ بیورو کریسی جوچور ہے وہ بھی اسی قوم کا حصہ ہے ۔ وہ ادارے جو چور ہیں اور اسی چوری کے باعث ناکام ہیں وہ بھی اس قوم کا ہی حصہ ہیں۔ سو یقیناً ہم بحیثیت قوم چور ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ برسوں کی لوٹ کھسوٹ ' بدعنوانی ' بے ایمانی کے سائے میں ہماری ایک نسل پل کر جوان ہوئی ہے ۔ انہوں نے دولت کی خواہش کو اپنے ارد گرد ناچتے دیکھا ہے ۔ مائوں نے اپنے بچوں کو ڈاکٹر اس لئے بنایا ہے کہ وہ اچھے پیسے کما سکیں۔ باپ اپنے بچوں کو انجینئر بننے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک کام کرکے دھن اکٹھا کر سکیں۔ زندگی میں جو کچھ نہیں کر سکتے تھے وہ استاد بنے کیونکہ استاد اور استانی نے کیا کرنا ہوتا ہے ۔ اس شعبے میں پیسے تو پہلے ہی نہ تھے ' رہی سہی عزت پرائیویٹ سکولوں کی وجہ سے ختم ہو گئی کیونکہ ان پرائیویٹ سکولوں نے ان لوگوں کے بچوں کو بھی بخوشی وصول کرنا ہے جنہوں نے اپنے بچے کے منہ میں پہلا لقمہ ہی حرام کا ڈالا اور انہی سکولوں میں پڑھنے والے دوسرے بچے ' ان بچوں کے تام جھام سے متاثر ہوتے رہے ۔ ہم نے بحیثیت قوم یہ زیادتی اپنے ساتھ خود کی اور ہماری اس خواہش کو امریکہ جیسے ملک امداد کا پانی پلاتے رہے ۔ اپنے فرائض سے بے بہرہ سیاستدان بس لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہے اور یہ قوم اسی لوٹ کھسوٹ کے سائے میں پروان چڑھتی رہی۔ ہر ایک محرومی اور ہر ایک جرم ان کے ضمیر ان کی روح کا داغ بنتا گیا اور اب اس قوم کی روح کا جسم مکمل سیاہ ہے ۔ اسی لئے تو بار بار چوری چکاری ہو جاتی ہے ۔ حکومت وقت اور عدالتیں درست کہتی ہیں لیکن اس سب میں ہمارا مدد گار کون ہو۔کون ہمیں سیدھا راستہ دکھائے ۔ کون کہے کہ کس سمت جانا ہے۔ کیونکہ معیشت کی اس کسمپرسی میں اس قوم کو تو ابھی تک دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں اور جس سیاسی آگاہی کی کوشش جناب عمران خان نے کی تھی اس نے صرف خواہش کو بڑھاوا دیا ہے ۔ اب روٹی کی خواہش کے ساتھ تھوڑی تھوڑی عزت کی خواہش بھی جنم لینے لگی ہے ۔ یہ احساس ہو رہا ہے کہ ہم بری طرح لوٹے گئے لیکن تھوڑا تھوڑا یہ بھی دکھائی دینے لگا ہے کہ خود موجودہ حکومت کے حلقوں میں بھی ہر قسم کے لوگ موجود ہیں ۔ آواز تو نااہلی کی زیادہ لگتی ہے لیکن بدعنوانی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ پاکستان کے حالات کو دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی اس سے بری بیماری کوئی نہیں۔ دنیا کام کے لئے درست لوگ تلاش کرتی ہے لیکن نااہل لوگ ہمیشہ نااہل لوگوں کو ہی پسند کرتے ہیں وگر نہ ان کی نااہلی صاف دکھائی دینے لگے گی اور سیاست یہاں تک ہی کہاں موقوف ہے ' اہل لوگوں کے کام کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے ان کی باتوں کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے اور ان پربھپتیاں کسی جاتی ہیں۔ قدرت کا اصول ہے کہ اہل لوگ باکمال لوگ ہمیشہ ہی کم تعداد میں ہوتے ہیں اور نااہل زیادہ سوجہاں سننے والا کان اور دیکھنے والی آنکھ خوشامد نااہلی اور بدگمانی کے پردوں میں الجھ جائیں وہاں اہلیت کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ تب اہل لوگ خاموش اور کئی بار چوروں کے حلقوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔
وزیر اعظم صاحب کی باتیں سب درست ' لیکن طریقہ کار شاید درست نہیں۔ ان کی ٹیم کے
نااہلوں کو بھی ٹیم بنانے کی عقل نہیں اور اعداد و شمار ہم دیکھ رہے ہیں شاید وہ بھی اسی طرح کے ہیں جو ان سے گزشتہ حکومتوں کے ہاتھوں میں تھمائے جاتے رہے ۔ اتنا ہی کر لیتے کہ جو ادارے تباہ ہو رہے تھے ان میں پالیسی بنانے کی قابلیت اور ساکھ کا اندازہ صرف اپنے مشیروں سے ہی نہیں کچھ دوسرے اداروں سے بھی لگواتے ۔ کچھ نہ کچھ بات دکھائی دینے لگی اپوزیشن میں موجود لوگوں کی اکثریت کے حوالے سے کسی کو کوئی ابہام نہیں لیکن یہ نہیں کہ سارے ہی بدنیت اور بددیانت رہے ' اور پھر کچھ لوگ ' کچھ جماعتیں ایسی بھی ہیں جو کچھ کام کر سکتی ہیں۔ وزیر اعظم صاحب ان سے رابطہ کرتے تو شاید معاملات بہتر ہوتے ۔ جماعت اسلامی کی صلاحیتوں کو ملک کے تعلیمی نظام میں بہتری کے لئے استعمال کرنے کی کوششیں کرتے ' جماعت اسلامی کا حکومت سے اختلاف ہی اس ملک کے لئے اس قوم کے مستقبل کے لئے اور اس کی کردار سازی کے لئے وہ یہ قربانی تو دے ہی سکتے تھے کیونکہ کردار سازی کی تربیت ان سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ اس وقت اس ملک کو ذرا مختلف قسم کے تھوڑے Out Of The Box قسم کے حل کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے سوچنا چاہئے کیونکہ ہم چوروں کی بستی میں رہتے ضرور ہونگے لیکن ہم چور نہیں۔