عوامی عدم تعاون سے وباء میں شدت آنے کا خدشہ ہے

وزیراعظم عمران خان جو ہر وقت قوم کو گھبرانا نہیں کہہ کر حوصلہ دیتے ہیں اور قوم کو محفوظ اور معاشی بحران سے نکل آنے کی نوید دیتے رہتے ہیں، کرونا وائرس کے پھیلائوکی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کی سینئر صحافیوں سے گفتگو ہمت شکن ہے۔ اس وقت ملک اور عوام کو دو بڑے چیلنجز درپیش ہیں ایک کرونا وائرس کے مزید پھیلنے اور سخت وبائی صورت اختیار کرنے اور دوم لاک ڈائون کے باعث اشیائے خورد و نوش اور اشیائے صرف کے ممکنہ بحران کا۔ وزیراعظم نے لاک ڈائون نہ کرنے کی توجیہہ اور منطق کو سمجھنا مشکل اسلئے ہے کہ خود وزیراعظم اس امر کا اعتراف کررہے ہیں کہ اشیاء کا بحران آگیا تو حکومت کچھ نہیں کر پائے گی جبکہ دوسری جانب وبا کے پھیلنے کی صورت میں سنبھالنا مشکل ہونے کا خود وزیر اعظم کو احساس ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اگر دونوں میں سے ایک ذمہ داری پوری طرح نبھا سکتی ہے یعنی اگر وباء کو کنٹرول کرسکتی ہے تو لاک ڈائون کی ضرورت نہیں لیکن اگر ایسا ممکن نہیں جیسا کہ حکومتی اقدامات سے ظاہر ہے تو پھر مکمل لاک ڈائون نہیں تو کم ازکم محدود لاک ڈائون میں تاخیر کی صورت میں خدا نخواستہ وباء بھی پھیلنے اور لاک ڈائون دونوں کا خطرہ ہے جو خدانخواستہ نہایت سنگین صورتحال ہوگی جس کا حکومت اور عوام مل کر بھی مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ ہسپتالوں سے مریضوں کے بھاگ جانے' پڑھے لکھے اور باشعور افراد کا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود خود اپنا خیال رکھنے اور دوسروں کو وائرس سے محفوظ بنانے کیلئے نہ تو گھروں میں تنہائی اختیار کرنا اور نہ ہی سرکاری سہولت سے استفادہ کرنے کی جو جہالت پر مبنی صورتحال سامنے آئی ہے علاوہ ازیں نقل و حرکت محدود کرنے اور گھروں میں رہنے کی ہدایات کو جس طرح ٹھکرانے کی صورتحال ہے ایسے میں لاک ڈائون کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا، جس قسم کی صورتحال جاری ہے ایسے میں بہت جلد خدانخواستہ وباء کا شکار افراد کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم کا اشیاء کا بحران اور معاشی مشکلات کا خدشہ بلا وجہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایک بڑا طبقہ اس مشکل کاشکار ہوچکا ہے۔ دیہاڑی دار' روزانہ کی اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے' شادی ہالز کا عملہ' باربر شاپس پر کام کرنے والا عملہ سخت مشکلات کا شکار ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بھی متاثر ہوتے ہیں' چھوٹے بڑے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں بیروزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں سات لاکھ افراد کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹیکس وصولی اور دیگر صورتوں میں وصولیوں کا بری طرح متاثرہونا بھی فطری امر نظر آتا ہے۔ یہ تمام معاملات و مسائل ایک طرف لیکن ان کی قدر وقیمت اور اہمیت انسانی جانوں کے تحفظ کے سامنے چیلنج ہے اسلئے کم ازکم اضلاع کی سطح پر بڑے شہروں میں پوری طرح لاک ڈائون نہ سہی لوگوں کی آمد و رفت محدود کرنے اور غیر ضروری طور پر پارکس اور تفریحی مقامات پر جمع ہونے کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے روک تھام کی جائے۔ شاپنگ مالز کی طرح روزمرہ اشیاء کی دکانوں کے بھی اوقات مقرر کئے جائیں۔ بین الصوبائی و بین الاضلاع آمد و رفت کو علاج اور اشیائے خوراک و ادویات جیسی بنیادی و ناگزیر ضروریات تک محدود کر دیا جائے۔ جو لوگ کھانسی' نزلہ' زکام سے متاثر ہونے کے باوجود دکان' مسجد' بازار اور پارک جائیں ان کیخلاف کارروائی کی جائے اور ان کو گھروں میں رہنے کا پابند بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئے محلہ کمیٹیاں بنا کراہل محلہ کو اپنی مدد آپ پر آمادہ کیا جائے۔ کرونا وائرس اور معاشی مشکلات دونوں ہی بڑے چیلنج ہیں۔ کرونا وائرس پر قابو پانے کے بعد ہی معاشی سرگرمیاں ہوسکیں گی۔ لہٰذا پہلے انسانی جانوں کے تحفظ پر توجہ ضروری ہے۔
ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
پاکستان میں کرونا وائرس کے جتنے بھی کیسز آئے تقریباً وہ سب بیرون ملک سے آنے والے افراد کے باعث سامنے آئے، بیرون ملک سے آنے والوں کا وائرس لے کر آنا اور یہاں اس کا پھیلائو کوئی راز کی بات نہیں لیکن ہماے ارباب اختیار کی عجب منطق ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے ملک میں داخلے کیلئے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی شرط ختم کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارش بیرون ملک مقیم پاکستانی طلبہ اور سیاحوں کی جانب سے وطن واپسی پر کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے باعث مشکلات کے پیش نظر کی گئی تھی کہ انہیں ٹیسٹ سے استثنیٰ دیا جائے۔ذرائع کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی سفارش پر نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو سفارش بھجوادی گئی ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے ملک میں داخلے کیلئے کورونا وائرس ٹیسٹ کی شرط ختم کر دی جائے۔قطع نظر اس کے کہ وزیراعظم اس پر کیا فیصلہ صادر کرتے ہیں اس قسم کی تجویز پیش کرنے والوں کو شاید اس امر کا احساس نہیں کہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے کرونا وائرس کے پھیلائو میں اضافہ کتنا ہوگا ۔ جس قسم کی صورتحال ملک میں جاری ہے تفتان بارڈر سے آنے والوں کو آزادانہ آنے دینے سے پیدا شدہ صورتحال کا وزیراعظم خود اعتراف کر چکے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے مریض جس طرح رشوت دے کر یا پھر عملے کی غفلت کے باعث انجانے میں آکر لوگوں سے گھل ملنے کے باعث وائرس کا جس طرح پھیلائو ہوا اگر حکومتی اقدامات ابتداء ہی میں سخت اور فول پروف ہوتے چھ ہزار روپے رشوت دے کر کوئی متاثرہ مریض باہر نہ آپاتا تو آج کے مقابلے میں صورتحال بہت بہتر ہوتی۔ ایسا لگتا ہے کہ جس طرح عوام کی ایک بڑی تعداد کرونا وائرس کے پھیلائو اور خطرات کو خطرہ نہیں سمجھتی حکام میں بھی اس قسم کے عناصر موجود ہیں جو لاک ڈائون اور بیرون ملک آنے والے مسافروں کو قرنطینہ میں رکھنے اور ان کا ٹیسٹ کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر اعظم نہ صرف اس کی منظوری نہیں دیں گے بلکہ اس قسم کی تجویز پیش کرنے والے عناصر کی سرزنش بھی کی جائے گی۔