Untitled 1 638

نیب قانون کے مطابق میگا کرپشن کے مقدمات منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے-چیئرمین نیب

ویب ڈیسک (اسلام آباد):چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس، نیب کی مجموعی کارکر دگی بالخصوص چیئرمین نیب کی قیادت میں موجودہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

قومی احتساب بیورو  کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کے شاندار نتائج آئے ہیں، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں نیب نے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 533 ارب روپے برآمد کیے جو کہ ریکارڈ کامیابی ہے، نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 66 فیصد ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس کے دوران نیب کی مجموعی کارکر دگی بالخصوص چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں موجودہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نیب 1999ءمیں قائم کیا گیا اور اسے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم برآمد کرنے کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں، اجلاس میں بتایا گیا کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 814 ارب روپے برآمد کیے، اس وقت مختلف احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1273 مقدمات زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 1305 ارب روپے ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نیب میں اصلاحات کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں، آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد پر مشتمل انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہے، نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کو معتبر قومی و عالمی اداروں جیسے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، عالمی اقتصادی فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے سراہا ہے، گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں، 2017ءنیب میں اصلاحات کا سال تھا جس میں قانون پر عملدرآمد کی حکمت عملی کے تحت بلاخوف و خطر میرٹ پر بدعنوانی کے مقدمات کو نمٹانے کیلئے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایات پر کئی اقدامات کئے گئے۔

نیب کی قانون پر عملدرآمد کی حکمت عملی 2018، 2019ءاور 2020ءمیں کامیاب رہی ہے، ان وجوہات کی بناء پر نیب کی موجودہ انتظامیہ نے اس حکمت عملی کو 2021ءمیں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حکمت عملی کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں، نیب سیکشن 9 کے تحت وضع کردہ بدعنوانی کے الزامات سے متعلق کارروائی کرتا ہے، اس عمل کا آغاز قانون کے مطابق موصول ہونے والی شکایت کے مواد کی جانچ پڑتال سے شروع ہوتا ہے، یہ عمل شکایت کی جانچ پڑتال کہلاتا ہے جس کے دوران شکایت کنندہ کو دستیاب ثبوت کی تصدیق کیلئے بلایا جاتا ہے، جب یہ ثابت ہو جائے کہ مبینہ الزام نیب آرڈیننس کے تحت آتا ہے اور دستیاب مواد مزید کارروائی کیلئے جواز فراہم کرتا ہے، اس کے بعد مزید کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے اور اگلے مرحلہ میں نیب آرڈیننس کے سیکشن 18 کے تحت انکوائری کی منظوری دی جاتی ہے تاکہ مبینہ ملوث افراد کی شناخت کرکے ثبوت اکٹھے کئے جائیں اور جرم کی تصدیق کی جائے۔

اس عمل میں ملزمان اور گواہان کے بیانات ریکارڑ کیےجاتے ہیں ۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اس پر تفصیلی غوروخوض کے بعد اس عمل کو مکمل کیا جاتا ہے اور اسے ریجنل ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے، نیب نے خود مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریز، انویسٹی گیشنز اور متعلقہ احتساب عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے، یکسانیت اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے انویسٹی گیشن آفیسرز کیلئے ضابطہ کار وضع کیا گیا ہے اور سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

قانون پر عملدرآمد اور پراسیکیوشن کے معاملات کا روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے، جب ایک بار کریمنل کیس بن جاتا ہے اور ملزم لوٹی گئی رقم واپس کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے سیکشن 18 سی کے تحت انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ شواہد اکٹھے کرکے متعلقہ احتساب عدالت میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کیا جائے اور نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 16 اے کے تحت  اسے سزا دلوائی جا سکے، انویسٹی گیشن کے دوران ملزم کو جمع کئے گئے شواہد کے خلاف اپنے ثبوت پیش کرنے کا حق دیا جاتا ہے، ملزم اسں مرحلہ پرغیر قانونی طور پر لوٹی گئی رقم پلی بارگین کے ذریعے واپس کرسکتاہے تاکہ وہ ٹرائلز اور قید کی سزا سے بچ سکے، اس مرحلہ پر کیس نمٹانے کیلئے نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 25 بی کے تحت پلی بارگین کی حتمی منظوری کیلئے متعلقہ عدالت میں بھیجا جاتا ہے۔

نیب کی قانون پر عملدرآمد کی حکمت عملی بدعنوانی کے مبینہ الزامات پر کسی پر الزام تراشی کے بغیر حقائق تلاش کرنے کیلئے آسان اقدامات سے شروع ہوتی ہے، یہ عمل ملزم کے خلاف شکایت کنندہ کی درخواست پر سادہ وضاحت سے شروع ہوتا ہے اور کسی ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اس کی پوزیشن کی تصدیق کی جاتی ہے جبکہ انکوائری کے دوران اکٹھے کئے گئے شواہد کی بنیاد پر مبینہ الزامات کی تصدیق کیلئے ملزم سے وضاحت مانگی جاتی ہے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے جاتے ہیں، اگر ملزم تسلی بخش جواب نہیں دے پاتاتو معاملہ غلطی تسلیم کرنے کے پہلو کے طور پر آگے بڑھایا جاتا ہےاو ر انویسٹی گیشن مکمل ہونے کے بعد ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے، ملزم احتساب عدالت میں دائر کئے گئے بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرتا ہے جہاں ملزم کو 14 سال قید بامشقت کے ساتھ جرمانے، اس کے اور اس کے اہلخانہ کے نام اثاثوں اور املاک کو ضبط کرنے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ریجنل بیورز نیب کے آپریشنل ستون ہیں جو کہ فیلڈ آپریشنز جیسے شکایت کی جانچ پڑتال، انویسٹی گیشن، ٹرائل کورٹس اور اپیل کے مراحل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

نیب ہیڈ کوارٹرز میں آپریشن ڈویژن اور پراسیکیوشن ڈویژن معیاری ضابطہ کار اور قانون کے مطابق آپریشنل سرگرمیوں کو احسن انداز میں نمٹانے کیلئے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں، آپریشنل میتھڈالوجی  نیب کی انسداد بدعنوانی حکمت عملی کے رہنما اصولوں پر مبنی ہے جو کہ ادارہ کے اندر احتساب او ر موثر جائزہ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، آپریشنل فیصلے مشاورتی عمل کے ذریعے کئے جاتے ہیں جس میں نیب ہیڈکوارٹرز اور علاقائی بیوروز کے سینئر افسران ویڈیو لنک کے ذریعے ایگزیکٹو بورڈ اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں، ان اجلاسوں میں ای سی ایل میں نام ڈالنے ، اشتہاری مجرموں کو نوٹس جاری کرنے، غیر ممالک کیلئے میوچل لیگل اسسٹنٹس کی درخواست اور عدالتی مفروروں کی گرفتاری سے متعلق فیصلے کئے جاتے ہیں۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قانون کے مطابق میگا کرپشن کے مقدمات منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے، نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی  کامیاب رہی ہے اور اس کے شاندار نتائج آئے ہیں، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں نیب نے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 533 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 66 فیصد ہے۔