zahid khan anp

مولانا جب بھی اقتدار سے الگ ہوجائے تو دین اسلام کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے- زاہد خان

ویب ڈیسک (اسلام آباد):عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ ہمیں وہ دن بھی یاد ہے کہ جب اکرم خان درانی نے پختونخوا کو بارود کے ڈھیر بنانے کے لئے شکئ معاہدہ کیا تھا، مولانا فضل الرحمان ہی نئے ضم اضلاع کی پسماندگی کا ذمہ دار ہے۔ پرویز مشرف دور میں جب ہم قبائلی علاقہ جات میں جاری فساد کو ببانگ دہل فساد کہہ رہے تھے تو مولانا اور اس کے حواری مشرف کے ساتھ مل کر اس آگ کو مزید بڑھاوا دے رہے تھے۔

جے یو آئی کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے رد عمل میں زاہد خان نے کہا کہ مولانا جب بھی اقتدار سے الگ ہوجائے تو دین اسلام کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے، جب لاکھوں قبائلی مختلف آپریشنز کے دوران بے گھر ہوئے تو اس وقت مولانا کہاں تھے؟ اے این پی اس وقت بھی دہشتگردی کے خلاف میدان عمل میں تھی اور قیام امن کے لئےعوام کےساتھ اپنی قیادت اور کارکنان کی قربانیاں دے رہی تھی۔

مولانا فضل الرحمان ہر آمر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ لال مسجد آپریشن کے وقت بھی اسلام کا یہ نام نہاد ٹھیکدار تماشہ دیکھتا رہا، جانی خیل میں 45 دن پشتون بچوں کی لاشیں پڑی رہیں اس وقت قبائلی اضلاع مولانا کو یاد نہیں آئے، وزیرستان جلسے کی ناکامی نے مولانا کو حواس باختہ کردیا ہے اور اپنے پرانے ساتھی پرویز مشرف کے یارانے کو اے این پی کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنایا اور مولانا کو اپوزیشن لیڈر بنا کر 17ویں آئینی ترمیم کی شکل میں مارشل لاء کی ناجائز حکومت کو جواز فراہم کیا۔

زاہد خان نے مزید کہا کہ مولانا وضاحت فرمائیں گے کہ کس طرح امریکہ افغانستان میں شکست کھا کر جارہا ہے، مولانا بتائے کہ نائین الیون کے بعد افغانستان اور پاکستان میں کتنے امریکی مرے اور کتنے پشتون افغان؟۔

قبائلی اضلاع تک محدود مولانا کو نظر آرہا ہے کہ جتنے الیکٹبلز اس نے بذور بندوق دہشتگردوں کی معاونت سے قبائلی اضلاع میں جے یو آئی میں شامل کئے تھے اب وہ ایمل ولی خان کے جراتمندانہ موقف کے بعد جے یو آئی سے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مولانا کو محسوس ہورہا ہے کہ جے یو آئی پھرسے نائین الیون سے پہلے والی پارٹی بن رہی ہے جس کی صوبائی اسمبلی میں بھی ایک نشست ہوا کرتی تھی۔

اے این پی کو انضمام کے طعنے دینے والی جے یو آئی کو یاد رکھنا چاہیئے کہ انضمام کے بعد ہی ان کو ان قبائلی اضلاع میں جلسوں کی آزادی نصیب ہوئی ہے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد ہماری اگلی منزل جنوبی پختونخوا اور خیبر پختونخوا کو ملا کر ایک صوبہ تشکیل دینا ہے، مولانا یہ بھی دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

زاہد خان نے مزید کہا کہ جنرل اسد درانی اور نصیر اللہ بابر کی کتابیں اور انٹرویوز اس بات کی گواہ ہیں کہ کون اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار اور کون مخالف ہے؟ مولانا اور انکے نظریاتی ساتھیوں نے 80کی دہائی میں امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے افغانستان کی تباہی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جلال الدین حقانی اور یونس خالص کی مدد کس نے کی؟جہاد کے نام پر فوائد کس نے اٹھائے؟ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

مولانا صاحب کے ہاتھ ہزاروں پشتون افغان کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، یہ کس طرح ہم پر الزامات لگارہے ہیں؟ مشرف دور میں بھی مولانا صاحب نے طالبان کی حمایت کی، سیدھی بات ہے اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر مولانا صاحب یہ سب کچھ کررہے تھے، ایمل ولی خان اور اے این پی عوامی طاقت پر یقین رکھنے اور عوام کے درمیان رہنے والی جماعت ہے، ایم ایم اے کس نے بنایا اور اسکے سلیکٹرز کون تھے؟ ملاملٹر الائنس کے ذریعے اتحاد بنایا گیا اور مولانا صاحب کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا، ہمیں کسی بھی سلیکٹر کی ضرورت نہیں۔