shah-mahmood-qureshi

پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وزارت خارجہ میں پریس بریفنگ، 6 اگست کو گزشتہ جمعہ سلامتی کونسل کی افغانستان پت بریفنگ ہوئی، افغانستان پر خصوصی نمائندوں نے سلامتی کونسل کو افغانستان پر بریفنگ دی، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان پر سیشن میں پاکستان کو مدعو کیا جانا چاہیے تھا، ہم نے افغانستان پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی جسے منظور نہیں کیا گیا، بھارت ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کی درخواست کو قبول نہ کر کہ بھارت نے سلامتی کونسل کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، ہمار کردار افغانستان میں امن کے سہولت کار کا ہے، ہمارا کردار افغانستان میں ضمانت کنندہ کا نہیں ہے۔ ہم افغانستان میں قیام امن کی ضمانت نہیں دے سکتے وہ افغانیوں نے خود دینی ہے، پاکستان نے افغان طالبان کو 2019 میں مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے دسمبر 2020 میں فریقین کے مابین مذاکرات کے لیے رولز آف بزنس کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا، ہم نے اسلام آباد میں افغان رہنماؤں کو مائنس طالبان کانفرنس کی دعوت دی، اس کانفرنس کو افغان صدر اشرف غنی کی درخواست پر ملتوی کیا گیا، میں نے تحریری طور پر افغان وزیر خارجہ کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دی، تاکہ ہم اگر کوئی مسائل ہیں تو ان پر بات کر سکیں ہم نے افغانستان کو الزام تراشی سے باز رہنے کا کہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہمارا افغانستان میں کوئی منظور نظر نہیں، ہمارے لیے تمام فریقین افغان ہیں، پاکستان کو اپنی ناکامیوں کا بکرا بنانا افسوسناک ہے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں افغان نمائندے نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے، ہم ان الزامات کو واشگاف طور پر مسترد کرتے ہیں، امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد افغانستان میں تشدد میں اضافہ پر تحفظات ہیں۔ ہم نے اپنا موقف تمام سلامتی کونسل اراکین کے ساتھ شئیر کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں لگایا جانے والا پیسہ کہاں استعمال ہوا ہے، ہم افغان فورسز کی ناکامیوں کے ذمہ دار نہیں ہیں، اگر امن قائم نہیں ہو گا تو کیسے علاقائی منسلکی و دیگر منصوبے مکمل ہوں گے، ہم نے ستر ہزار جانوں کی قربانیاں دیں اور بہت سا اقتصادی نقصان اٹھایا ہے، پاکستان نے مختلف فورمز پر واضح کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دارانہ بالترتیب انخلاء کی حمایت کرتا ہے، جب آپ افغانستان سے انخلا کر رہے ہیں تو وہاں ایک خلاء مت چھوڑیں، اس خلاء کا براہ راست فائدہ دہشت گرد تنظیمیں اتھائیں گی، پاکستان افغانستان کے فوجی قبضہ کا حمایتی نہیں ہے۔ جب ہم سیاسی حل کی بات کرتے ہیں تو یہ عسکری ٹیک اوور کا الٹ ہے، افغان قیادت کو دیکھنا ہو گا کہ وہ کیسے اس صورتحال سے اجتناب کرسکتے ہیں۔