rape case victms identity

جنسی زیادتی کےشکارافرادکی شناخت ظاہرکرنے پر پابندی عائد

ویب ڈیسک (اسلام آباد)دہشت گردی اورجنسی ہراسانی سے منسلک افراد اورانکےخاندان کےافرادکی پرنٹ ،الیکٹرانک اور ہرقسم کےمیڈیا میں رپورٹنگ پرپابندی عائد کرتےہوئے اس حوالےسےرپورٹنگ کرنےوالےافراد کو کم ازکم30دن اور زیادہ سے زیادہ3 سال قید کی سزااور کم ازکم ایک لاکھ روپےاورزیادہ سےزیادہ پانچ کروڑ روپے جرمانہ کیاجاسکےگا۔

اس طرح ہر دو جرائم کےگواہان کےتحفظ کیلئےعدالت سےاجازت لئےبغیرحکومتی ہدایات پرانہیں محفوظ مقام پرمنتقل کرنے،ایک خاص وقت کیلئےانہیں روپوش رکھنایا وقتی یاعارضی طورپرگواہان کی شناخت تبدیل کرنےکےساتھ مالی معاونت بھی فراہم کی جاسکےگی اس مقصد کیلئےصوبائی حکومت نےتحفظ گواہان ایکٹ2021 کا مسودہ تیارکرلیاہےجس پربحث کےبعد اس قانون کی منظوری دی جائےگی۔

ذرائع کےمطابق گواہان کے تحفظ کیلئے خصوصی بورڈ تشکیل دیاجائےگاقانون کےتحت تحفظ گواہان کے2 یونٹس بھی تشکیل دیئےجائیں گےایک یونٹ دہشت گردی اور دوسرابورڈگھنائونےیعنی سنگین جرائم سے متعلق امورسےمتعلق ہوگا ۔

مجوزہ قانون کےتحت جسمانی طورپرمعذورافراد،سولہ سال سےکم عمر،جنسی ہراسانی سےمتاثرہ اورکسی انجانےخوف کاشکارگواہان کوحکومت کیطرف سے ہرقسم کی معاونت دی جائےگی،گواہان کیلئے گواہی ریکارڈ کرنےکی غرض سے کورٹ میں حاضر ہونا لازمی نہیں ہوگابلکہ انہیں ویڈیولنک کےذریعےعدالت کےسامنےبیان ریکارڈ کرانےیا پھرحکومت کی اجازت کےساتھ گواہان کےمقام پربیان ریکارڈ کیاجاسکےگا۔

ملزم کو گواہ سےعدالت میں بات کرنےکی اجازت نہیں ہوگی البتہ ملزمکاوکیل گواہ سےجرح کرسکےگا۔جنسی ہراسانی کے کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ فریق سےجنسی ہراسانی سےمتعلق سوالات کی اجازت نہ دیناعدالتی اختیارمیں ہوگا اور اس قسم کےکیس جس میں سماعت عدالت میں ممکن نہ ہواسکی پیروی جیل میں کی جاسکےگی۔