گرینڈ چیلنج؟

کورونا نے حکومت کو درپیش تمام چھوٹے بڑے چیلنجز پر اپنا سایہ ڈال دیا ہے ۔ اس ایک چیلنج نے سارے چیلنجز کو ڈھانپ دیا ہے گویا کہ یہ تمام چیلنجز کی ماں ہو کر رہ گیا ہے ۔اب حکومت اس مشکل صورت حال کا سامنا کس انداز سے کرتی ہے دیکھنے کی بات یہ ہے ۔عمران خان کو ان کے حامی ''مین آف کرائسسز '' اور خطرات کا کھلاڑی کہتے رہے ہیں۔ کھیل کے میدان اور سیاست کے خارزا ر میں انہوں نے مضبوط اعصابی کا مظاہرہ کیا ہے مگر اب حکومت میں ان کے سارے القابات اور خطابات پر دائو پر لگے ہیں ۔وہ اس تاثر کو درست بھی ثابت کر سکتے ہیں کہ حکومت اور سیاست کھیل کا میدان نہیں ہوتی اور یہ بھی ثابت کر سکتے ہیں کہ ایک مضبوط اعصاب کا حامل انسان اور بہترین حکمت کار دنیا کے ہر میدان میں اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاسکتا ہے ۔میدان اور امتحان بدلنے سے اس کی صلاحیت پرکوئی فرق نہیں پڑتا ۔کورونا کا بحران عمران خان کی حکمت کاری کا لٹمس ٹیسٹ بنتا جا رہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کورونا متاثرین کے لئے آٹھ سو اسی ارب کے جامع امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔منگل کو ایک طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے کورونا وائرس کے باعث ملک کو درپیش مسائل اور ان سے نمٹنے کے لئے حکومت کی حکمت عملی پر بھرپور انداز میں اظہار خیال کیا ۔میڈیا نمائندگان نے ان سے بہت تلخ سوالات بھی پوچھے مگر وزیر اعظم نے نہایت تحمل اور تدبر کے ساتھ ہر سوال پر اپنی وضاحت پیش کی۔ وزیر اعظم کے اعلان کردہ امدادی پیکج کے مطابق بینکوں کی شرح سود کم کر دی گئی ہے۔پٹرولیم مصنوعات میں پندرہ روپے کی کمی کردی گئی ہے جبکہ عوام کو سستی اشیائے خورونوش فراہم کرنے کے لئے یوٹیلٹی سٹورز کو پچاس ارب فراہم کئے جا رہے ہیں۔سو ارب روپے لاک ڈائون میں ایمرجنسی کی صورت حال کے لئے رکھے گئے ہیں۔غریب گھرانوں کو ماہانہ تین ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے ۔جبکہ تین سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اپنا بل تین قسطوں میں ادا کر سکتے ہیں۔موجود ہ حالات میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے امدادی پیکج کا اعلان غریب طبقے کے لئے کسی خوش خبری سے کم نہیں ۔کورونا ایک عالمی آفت ہے ۔یہ ماضی کی آفات سے اس لحاظ سے قطعی مختلف ہے کہ کئی ممالک اس آفت کی زد میں آئے ہیں۔دنیا کی ہر مضبوط معیشت کو اس عذاب کا سامنا ہے۔امریکہ اور چین جیسے معاشی دیو بھی اس مشکل سے گزر رہے ہیں ۔کورونا کی وبا نے عالمی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور کم یا زیادہ ہر ملک کی معیشت اس کے مضر اثرات کی زد میں ہے ۔دنیا کی مدد کرنے والے امیرممالک کی معیشتیں بھی کورونا کی زد میں آچکی ہیں ۔کمزور معیشتوں کا تو کوئی حال نہیں۔پاکستان بھی لڑکھڑاتی معیشت کا حامل ملک تھا جس کی معیشت بہت محنت کے بعد اب سنبھلنے لگی تھی اور وزیر اعظم عمران خان رواں برس کا معاشی'' ٹیک آف ''کا سال کہہ رہے تھے ۔''اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوگئے''کے مصداق ابھی پاکستان کی معیشت کا ٹیک آف ہوا ہی نہیں تھا کہ کورونا کا بحران آدھمکا اور یوں سنبھلتی معیشت ایک بار پھر حالات اور خدشات کے پنڈولم پر جھولنے لگی ہے ۔ اس وقت دنیا بھر میںکورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان کا چھبیسواں نمبر ہے۔چین نے عزم وہمت کے ساتھ وبا کا مقابلہ کیا اور چین کے پاس اس کام کے وسائل بھی تھے ۔ایران امریکہ کی پابندیوں میں بری طرح جکڑا گیا ہے ۔موجودہ حالات میں ایران کے لئے اپنے شہریوں کو سنبھالنا مشکل ہورہا ہے اور وہ دنیا سے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی درخواستیں کر رہا ہے وہ ہزاروں پاکستانیوں کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا ۔اس لئے ایران نے زائرین کو پاکستان کی جانب دھکیلا تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔زائرین کا ریلا حکومت کے لئے قطعی غیر متوقع تھا اور تفتان جیسی بے آب وگیا ہ جگہ پر سکریینگ کا انتظام کرنا اور زائرین کو ہر قسم کی سہولیات چٹکی بجاتے ہی پہنچانا کہنے کی حد تک تو بہت آسان بات ہے مگر پاکستان کے روایتی نظام میں جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔تب بھی حکومت نے اس ناگہانی صورت حال میں حالات پر اپنی گرفت قائم کرلی ۔حکومت نے زائرین کو تلاش کرنے اور انہیں قرنطینہ مراکز میںروکنے کے لئے جو کوششیں کیں ''اسلامی جمہوریہ پاکستان '' میں اس سے کسی بھی حکومت سے اس سے زیادہ اچھی کارکردگی کی مستقبل قریب میں توقع کی جاسکتی ہے نہ ماضی قریب میں بہت زیادہ غیر معمولی کارکردگی کا کوئی ریکارڈ ہمارے سامنے ہے ۔موجودہ حکومت نے کورونا بحران میں غیر معمولی کارکردگی مظاہرہ نہیں کیا تو بہت زیادہ تساہل اور غفلت بھی نہیں دکھائی ۔