73rd Anniversary of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 73 ویں برسی

ویب ڈیسک (کراچی)بابائےقوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 73 ویں برسی ملک بھرمیں آج انتہائی عقیدت واحترام کیساتھ منائی جارہی ہے۔

بانی پاکستان کےیوم وفات کےموقع پرمختلف شعبہ ہائےزندگی سےتعلق رکھنےوالےافراد،سیاسی و سماجی شخصیات نےمزارقائد پرحاضری دی اور پھولوں کی چادرچڑھائی۔

برصغیرکےمسلمانوں کوپاکستان کی صورت میں ایک آزاد وطن دینےوالےمحمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیداہوئےاورانہوں نےابتدائی تعلیم کاآغاز 1882 میں کیا۔

وہ 1893 میں اعلیٰ تعلیم کےحصول کیلئےانگلستان چلےگئےجہاں انہوں نے 1896 میں وکالت کاامتحان پاس کیااور وطن واپس آئے۔

محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی،انہوں نےمذہب کےجمہوری اورانصاف پرمبنی اُصولوں کواپناکرعزت حاصل کی، وکالت اورسیاست میں رہ کراپنےدامن کو صاف ستھرارکھااورمسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کامیناربنےرہے۔

انہوں نےاپنی سیاسی زندگی کاآغاز اعلیٰ معیار اور دیانت سےکِیا اوراپنےلیے ایک ایسا لائحۂ عمل وضع کیاجوہمیشہ جامع اورمکمل رہا۔

انہوں نےحصول منزل کےلیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نےبےشماررکاوٹوں کےباوجو دنیا کی سب سےبڑی اسلامی مملکت اوردو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔

پاکستان کے عوام بالخصوص نئی نسل کو یادرکھنا ہو گاکہ وطنِ‌ عزیز کے لیےان کےقائدین، اکابرینِ ملّت اور بزرگوں نےبے شمار قربانیاں دی ہیں اور آزادی کا یہ کارواں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی لازوال اور مثالی قیادت میں منزل تک پہنچاجس کی بقا و سلامتی،استحکام،ترقی اور خوش حالی کےلیے ہر فرد کو اپنا کردار اداکرناہے۔

حکومتِ پاکستان کے اعلان کے مطابق 11 ستمبر 1948ء کو رات 10 بج کر 25 منٹ پر بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال کرگئے۔

وہ ہفتے کا دن تھا۔ اس خبر پر ملک بھر میں فضا سوگوار ہوگئی اور ہر پاکستانی افسردہ و رنجیدہ نظر آیا۔

حکومت کیجانب سےاعلان کیاگیا کہ قائدِ اعظم کا جنازہ اتوارکودن کےتین بجے گورنرجنرل ہاؤس سےسفرِ آخرت پرروانہ ہوگا۔

نمازِ جنازہ کراچی میں نمائش کے میدان میں ادا کی جائے گی۔

مولانا شبیراحمد عثمانی قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گےاورتدفین جامع مسجد کی تعمیر کے لیے تجویز کردہ مقام پرہوگی۔

سرکاری طور پر ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس روز گورنر جنرل ہاؤس کے اطراف لاکھوں پاکستانی اپنے محبوب قائد کے جنازے میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

تین بجے دوپہر کو جنازہ ایک توپ لےجانے والی گاڑی پررکھا گیا۔پولیس کے 50 سپاہی اس کے آگے آگے جب کہ پیچھے کیجانب شاہی بحریہ کے 50 جوان، برّی فوج کے 50 اور پھرفضائیہ کے 50 جوان موجود تھےاس گاڑی کو پاک بحریہ کے سپاہی چلارہےتھے۔

جنازے کے یچھےدو کاریں تھیں ایک میں محترمہ فاطمہ جناح اورقائدِ اعظم کی دختر موجود تھیں اور دوسری میں بیگم ہدایت اللہ سوارتھیں۔

سوا تین بجے قائد کا جنازہ گورنر جنرل ہاؤس سے نکل کر وکٹوریہ روڈ انفسٹن اسٹریٹ سےہوتا ہواگارڈن روڈ اور پھر بندر روڈ پہنچااس راستےمیں کم و بیش 6 لاکھ لوگ جنازے میں شامل رہے جب کہ راستے میں آنے والی عمارتوں کی چھتوں پر بھی لوگ اپنےمحبوب قائد کورخصت کرنےکےلیےموجود تھے۔

نمازِجنازہ ادا کرنےکےلیے صف بندی ہوئی تو پہلی صف میں وزیرِاعظم پاکستان لیاقت علی خان، وفاقی اور صوبائی وزرا سمیت اسلامی ممالک کےسفیر موجود تھے۔

قائدِ اعظم کی میّت جیسے ہی قبر تک لائی گئی، پاک فضائیہ کے طیّارے نےفضا میں غوطے لگا کرجنازے پر پھول نچھاور کیےاور سلامی پیش کی۔

تاریخی ریکارڈ کےمطابق شام 6 بج کر 24 منٹ پر قائدِ اعظم کا جسدِ خاکی لحد میں اتارا گیا تدفین کے موقع پر حکومتی و سرکاری اور غیرملکی شخصیات کےعلاوہ لاکھوں غم زدہ پاکستانی بھی موجود تھے جو مسلسل کلمہ طیّبہ کا ورد کررہےتھے۔