Members of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly

خیبرپختونخوااسمبلی ارکان افغان صورتحال پر الجھ پڑے

ویب ڈیسک (پشاور)خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان افغانستان کی موجودہ صورت حال پر آپس میں ہی الجھ پڑے، عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان حکومت کو زبردستی افغان عوام پر ٹھونسنا قرار دیدیا جبکہ جمعیت علما اسلام نے سابق حکومت کو اشرف غنی حکومت کو بھگوڑاکہہ دیا۔جس کے بعد حکمران جماعت تحریک انصاف نے افغان عوام پر فیصلہ چھوڑتے ہوئے بحث سمیٹ لی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی احمد کریم کنڈی کی تحریک التوا پر بحث کے آغاز میں احمد کریم کنڈی نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے بعض غیر ذمہ دار افراد اور وزرا غیر سنجیدہ اورغیرذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں جس سے خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کےصلاح الدین نےکہا کہ افغانستان میں منتخب حکومت کو ہٹاکراقتدارپرقبضہ کیا گیاجس کےجواب میں جمعیت علما اسلام( ف) کی نعیمہ کشورنےکہا کہ اگروہ منتخب حکومت ہوتی تورات کی تاریکی میں عوام کوچھوڑکرنہ بھاگتی ،وہ ایک کٹھ پتلی حکومت تھی جسےفارغ کردیا گیا۔

پیپلز پارٹی کےبادشاہ صالح نے کہا کہ باہرکےممالک اورخفیہ ایجنسیاں افغانستان میں مزیدمداخلت سےبازرہیں،پاکستان کویہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم کس کیساتھ ہیں، آزاد رکن میرکلام نے کہا کہ ہم افغانستان میں طالب اور شریعت چاہتے ہیں وہی نظام حکومت پاکستان میں بھی قائم کیا جائے۔

جماعت اسلامی کے عنایت اللہ خان نے کہا کہ آزاد لوگ افغانستان پر حکومت کر رہے ہیں اور وہ مکمل طور پر بیرونی اثرسے آزاد ہیں،افغانستان کیساتھ ہمارے ثقافتی تعلقات ہیں، مسلم لیگ(ن) کے اختیار ولی نے کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کو لسانی بنیادوں پر نہیں لینا چاہیے، افغانستان کیلئے ہمیشہ پاکستان کی نیک خواہشات رہی ہیں، یہ افغانستان کا اندرونی مسئلہ ہے خواہ وہ جمہوری نظام میں خوش ہیں یا پھر وہ شرعی نظام میں خوش ہیں، حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار،غریبوں کیلئے پلاٹ سکیم کااعلان

صوبائی وزیر ڈاکٹرامجدنے حکومتی موقف دیتے ہوئےکہا کہ ہمارے لئےسب سےپہلے پاکستان مقدم ہےاگرافغانستان میں منتخب حکومت ہوتی توسابق افغان صدراشرف غنی رات کی تاریکی میں ملک س فرارنہ ہوتے،منتخب حکومت نےخود کابل چھوڑکرطالبان کحوالےکردیا۔اگراشرف غنی کی حکومت سے افغان عوام خوش ہوتےتو طالبان حکومت قائم ہوتےہی مزاحمت سامنےآتی تاہم ایسا کچھ نہیں ہوااگر یہاں ایک جماعت یہ کہہ رہی ہےکہ لراوربرایک افغان ہیں توپھر ان جماعت کےرہنمائوں اورکارکنوں کوافغانستان جاناچاہئے،سی پیک کوافغانستان تک بڑھایاجائیگا، عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سےبھی افغانستان کی مالی امداد کامطالبہ کرینگے۔