مغرب کی نامہرباں ہوائیں

ادھرامریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے پاکستان کو تحکمانہ انداز میں طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا کہا ادھر امریکی ٹی وی سی این این کی نمائندہ خاتون وزیر اعظم عمران خان سے ردعمل معلوم کرنے اسلام آباد پہنچیں ۔سی این این کی نمائندہ نے طویل انٹرویو کے دوران عمران خان کے خیالات کو ہر ممکن طور پر نچوڑنے کی کوشش کی ۔وہ سوال کو گھما پھرا کر پاکستان کی افغان پالیسی کی خامیوں اور ڈبل گیم پر لاکر ختم کر تی رہی مگر عمران خان نے کمال اعتماد سے سی این این کی نمائندہ کے سوالوں کا جواب دیا بلکہ امریکہ کی تضادات سے بھری افغان پالیسی پر آئینہ بھی دکھایا ۔یہاں تک کہ عمران خان نے اس بار Absolutley notکے ہی انداز میں امریکہ کے الزامات کو Ignorance یعنی جہالت قرار دیا ۔چند دن پہلے ہی انٹونی بلینکن نے کہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ اور پاکستان کے مفادات بدلتے رہے ہیں کبھی پاکستان ہمارے مفادات کے مطابق اور کبھی ہمارے مفادات کے خلاف کام رہتا ہے ۔اسی انداز کے الزامات کو عمران خان نے جہالت سے تعبیر کیا گویاکہ وہ امریکی وزیر خارجہ کو جہالت کا طعنہ دے رہے تھے ۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہم کسی دوسرے کی جنگ میں شریک ہو کر اپنا ملک تباہ نہیں کر واسکتے۔انہوںنے کہا افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعظم عمران خان کا یہ انٹرویو اس وقت ہوا جب امریکہ افغانستان سے انخلاء کرنے او ر کسی ہمسایہ ملک میں فوجی اڈوں کے حصول میں ناکامی کے بعد اب طالبان اور پاکستان پر نئے انداز سے دبائو ڈال رہا ہے اور اس دبائو میں بھارت کے شور وغل کا بھی کچھ حصہ ہے ۔انٹونی بلینکن چند دن قبل ہی بھارت کا ہنگامی دورہ بھی کر چکے ہیں۔یوں یہ بات یقینی ہے کہ افغانستان سے بوریا بستر سمیٹنے والے ان دونوں ملکوں میں پلان بی زیر غور ہے ۔ پلان بی میں پاکستان پر کئی جانب سے یلغار ہو سکتی ہے ۔ا قتصادی یلغار تو جاری ہے اور آئی ایم ایف پوری طرح اقتصادیات میں سیاست کھیل رہا ہے ۔پاکستان کا خطرناک اور خوفناک امیج بنانے کے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا میچ بھی مغرب کی پاکستان سے بڑھتی ہوئی ناراضگی کا واضح اظہار ہے ۔کشمیر پر نریندر مودی کو کھلی چھوٹ سمیت مغرب افغانستان میں سوجوتے اور سو پیاز کھانے کے باوجود پاکستان کو جوابی طور پر نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا تھا ۔وہ پلٹ کر حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کا احساس ہر طرف نمایاں ہے اور عمران خان خان نے بھی کہا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی ہے ۔ان حالات میں عمران خان کا امریکہ کی راہ میں مزاحم ہونا امریکہ کے لئے یکسر نئی بات ہے ۔خود امریکہ کو بھی اس سے پہلے کسی پاکستانی حکمران کی جانب سے اس رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔پاکستانی حکمرانوں کی فدویانہ پالیسی نے امریکی سفیروں کو پاکستان کا” وائسرائے ”بنائے رکھا تھا ۔پاکستان کی اس پالیسی کو مستحکم کرنا اور ناقابل واپسی بنانا وقت کا تقاضا ہے کیونکہ پاکستانی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ میں امریکہ زدہ ذہن ہمیشہ موجود رہا ہے یہاں امریکہ کو اپنا کندھا پیش کرنے والوں کی کسی بھی دور میں کمی نہیں رہی ۔آج بھی بہت سے سیاست دان مختلف طریقوں سے امریکہ اور برطانیہ میں متبادل کے طور پر اپنی مارکیٹنگ کرتے پھرتے ہیں ۔”ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں ”کے انداز میں وہ ایسے اشارے دیتے ہیں کہ جن سے امریکہ ان پر مہربان ہو سکتا ہے۔گزشتہ دنوں سے دوبڑی جماعتوں کی قیادت کے بیانات امریکہ کے لئے توجہ دلائو نوٹس سے کم نہیں تھے ۔حمد للہ محب سے ایک غیر ضروری ملاقات سے بلاول بھٹو کے دورہ امریکہ تک یہ اشارے واضح محسوس کئے جا سکے۔بلاول بھٹو نے واپسی پر اپنے مشاہدات کا نچوڑ یوں پیش کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی بہت بڑھ گئی ہے جس کو کم کرنے کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے ۔صاف لگ رہا ہے امریکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر اپنا اثر کھودینے کی بات اب چھپا نہیں سکتا ۔جب تعلقات کار ہی قائم نہ رہے تو کوئی کردار کیونکر ادا ہو سکتا ہے۔اس لئے پاکستان کے گھاک سیاست دان اب تمام توقعات اندرونی دنیا سے ہی وابستہ کئے ہوئے ہیں ۔ان میں گجرات کے چوہدری براردران شامل ہیں ۔جنہیں یقین ہے کہ ایڑیاں رگڑنے سے چشمہ کہیں باہر سے نہیں اندر سے ہی نکلے گا۔ ماضی میں بھی امریکہ نے پاکستان میں سیاسی تبدیلی خود نہیں لائی بلکہ ہر دور میں اس کے لئے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو استعمال کیا گیا اور جب اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کم کرنے کا کام کیا گیا تو سیاسی قوتوں کو بحالی جمہوریت کی راہ پر ڈال دیا۔اس بار پاکستانی اسٹیبشلمنٹ اور امریکہ میں ٹھن گئی ہے اور وہ امریکہ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا سیکھ گئی ہے اس لئے ابھی تک عمرا ن خان اپنی تمام تر کمزوریوں اور مشکلات کے باوجود منظر پر کھڑے ہیں ۔
٭٭٭٭