ناقصاں را پیر کامل،کاملاں را رہنما

لاہور میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے978 ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے۔ مُلک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران مَیں نے پہلی بار1977ء میں اس صوفی بزرگ کے دربار پہ حاضری دی تھی۔ ایک بڑی تعداد میں لوگ وہاں دعائیں مانگنے اور مزار کے متصل برامدے میں بیٹھے قران خوانی میں مصروف تھے۔ اذان ہوئی تو سامنے مسجد میں شام کی نماز پڑھی اور پھر مزار اور مسجد کے درمیان کھلے صحن میں آکر بیٹھ گیا۔ کشف المحجوب کے مصنف علی بن عثمان کے مزار کی جانب دیکھتے ہوئے ان کا مشہور قول یاد آیا کہ ” نفس کو اس کی خواہش سے دور رکھنا حقیقت کے دروازہ کی چابی ہے”۔اس قول کی انہوں نے وضاحت بھی کی ہے کہ افعال نفس کی دوقسمیں ہیں،ایک معصیت و نافرمانی دوسرے کمینہ خصائل جیسے تکبر،حسد،بخل،غصہ اور کینہ وغیرہ۔
آپ کا نام”علی” ہے اور اپنے آباؤاجداد کے شہر غزنی کے محلہ ‘ ہجویر’ میں پیدا ہوئے۔ علوم ظاہری کی تحصیل سے فارغ ہوئے تو علومِ باطنی پہ متوجہ ہوئے۔ اپنے استاد شیخ ابوالعباس شقانی اور پیر ومرشد شیخ ابوالفضل بن حسن ختلی سے مستفید و مستفیض ہوئے۔ آپ مرشد کے حکم سے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین مسعود کے زمانہ میں لاہور تشریف لائے۔ یہاں مستقل سکونت اختیار کر کے رشد وہدایت میں مشغول ہوئے۔ لاہور میں وفات پائی اور تب سے یہ مزار عقیدت مندوں کے لئے فیوض و برکات کا سرچشمہ بنا ہوا ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی جب لاہور میں رونق افروز ہوئے تو اس مزار پر اعتکاف کیااور جاتے ہوئے خواجہ غریب نواز نے یہ شعر پڑھا
گنج بخش فیض عالم مظہر نورخدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
اسی روز ”گنج بخش ” کے لقب سے آپ داتا گنج بخش مشہور ہو گئے۔ اپنی اس پہلی حاضری کے بعد ہاسٹل میں رہنے والے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت علی ہجویری کے عرس میں شریک ہو کر اس وقت ملک کے معروف قوالوں فرید صابری ،مقبول صابری ، عزیز میاں اور نصرت فتح علی کے مترنم سماع سے لطف اندوز ہوا۔ محفل رنگ وسماع میں حاضرین کی اکثریت پہ اک وجد طاری ہوتا اور یہ محفل رات گئے جاری رہتی۔ سماع کو حق کا فیضان کہا گیا ہے جو دلوں کو حق کی طرف راغب کرتا ہے۔علی ہجویری نے اپنے شیخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ‘سماع عاجز لوگوں کا سفرخرچ ہے پس جو منزل پر پہنچ گئے،انہیں سماع کی حاجت نہیں۔ اللہ نے انسان کو بہترین پیمانے پر تخلیق کرنے کا اعلان کیا اور انسان کو باعث تکریم بنانے کا اہتمام بھی کر دیا۔ علم کی بنیاد پر خلد کو انسان کے عمل و ایمان کا نتیجہ قرار دیا اور کائنات کو اسی انسان کے لئے مسخر کر دیا۔ امیر المومنین علی کا یہ فرمان کہ عرفان ذات ہی ادراک الٰہی کا ذریعہ بن سکتا ہے،واضح کرتا ہے کہ ایک کائنات تو نظر آرہی ہے جس کا ہمیں ادراک کرنا ہے لیکن ایک کائنات خود انسان کی ذات ہے جس کا ادراک اسے ظاہر کی پہچان کراتا ہے۔ اسی مقصد کے لئے آسمانی ہدایت اور انبیاء ومرسلین کے توسط سے انسان کو علم وحکمت کی دنیا سے آشنا کیا تا کہ وہ جاہلیت کے رحجانات سے محفوظ ہو کر فلاح کی منازل پر گامزن ہو سکے۔ صوفیائے کرام نے بھی مخلوق کو اللہ کی راہ پر چلنے کی تربیت دی کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے باعث انسان خالص بندوں میں شامل ہو کر انعامات الٰہی سے فیض یاب ہوتا ہے۔ اس حوالہ سے حضرت علی ہجویری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ” انسان کو امور الٰہی اور خدا کی معرفت کا علم ہونا ضروری ہے اور انسان پر مصلحت وقت کا علم بھی فرض ہے ۔یعنی جس وقت پر جس علم کی ضرورت ہو خواہ ظاہر میں ہو یا باطن میں ،اس کا حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے”۔ اہل تصوف ہمیں صاف ، شفاف اور سادہ زندگی گزارنے کی اس لئے تعلیم دیتے ہیں کہ گناہ گار علم سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور لوگوں پر اس کا انعام بھی ہے۔ جبکہ گناہ انسان کے دل و دماغ اور خدا کے درمیان حجاب بن جاتا ہے۔ یوں ایک گناہ گار اور مخلوقِ خدا کے درمیان فاصلے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ صوفیاء کی تعلیمات سے لوگوں کو یہ شعور حاصل ہوا کہ زندگی محض کھیل تماشا نہیں بلکہ زندگی اعلیٰ مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ آپ شاعر بھی تھے اور ‘علی’ تخلص کرتے۔ اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ ایک صاحب میرے اشعار کا دیوان مستعار لے گئے،پھر اُنہوں نے واپس نہیں کیا۔ اسی طرح اُن کی دوسری کتاب”منہاج الدین” بھی کوئی شخص لے گیا(جن کا نام حضرت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے) اور پھر اس پر اپنا نام درج کر لیا۔ کشف المحجوب کے علاوہ اُن کی دیگر کتب (منہاج الدین، البیان الاہل العیان، الرعاتہ بحوق اللہ، بحر القلوب اور اسرالخرق و المؤنیات) اب دستیاب نہیں ہیں۔آخر میں آپ کا قول کہ” علم پڑھ،علم سیکھ اور عمل کر”۔