ایک نئے بیانئے کے امکانات

جنگ عظیم دوم کے بعد کرونا وائرس کا پھیلاؤ کرۂ ارض کا سب سے بڑا بحران ہے کہ جسے تمام براعظموں کے انسان اجتماعی طور پر محسو س کررہے ہیں۔ اگرچہ اس وائرس سے ہونے والی اموات کا تناسب بہت سی دوسری بیماریوں اور وجوہات سے بہت کم ہے لیکن اس وائرس کی دہشت دیگر تمام وجوہات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس وائرس کا متعدی ہونا ہے، وہ بھی یوںکہ سانس، کھانسی اور ہاتھ ملانے سے بھی وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہو جاتا ہے جس کا علاج فی الحال سماجی رابطوں میں فاصلہ رکھ کر ہی سے کیا جا رہا ہے۔ اس کا علاج بھلے سے مشکل ہو یا نہ ہو لیکن اس کو پھیلنے سے روکنا بہرحال ایک دقت طلب کام ہے۔ پوری دنیا میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی جارہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں تو ڈنڈے کے زور پر لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کرونا بھی تو کسی تخصیص کے بغیر انسانوں کو لاحق ہو رہا ہے۔ شہزادہ چارلس، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور کنیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے علاوہ بہت سی عالمی شہرت یافتہ شخصیات کے کرونا ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں، عام آدمی کو تو چھوڑ ہی دیجئے۔ اس وائرس نے ایک خوف سا پوری دنیا میں پھیلا رکھا ہے۔ یہی ایک موضوع ہے کہ جس پر ہر کوئی بات کر رہا ہے۔ دنیا کے انسانوں پر اس قسم کی وباء پہلی بار نہیں آئی اس سے پہلے بھی وبائیں آئیں جو لاعلاج تھیں مگر انسان نے اس کو زیر کر دیا، کرونا بھی زیر ہو ہی جائے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ عالم انسانیت کو اس وائرس نے سوچنے اور سمجھنے کیلئے بہت سا مواد دیدیا ہے۔ ضرور اس ہنگامی حالت کے خاتمے پر نیا فلسفہ جنم لے گا۔ ایک نیا بیانیہ مرتب ہوگا جو شاید عالمی ہو نہ کہ جغرافیائی، جوکل انسانیت کیلئے ہو نہ کہ کسی ایک خطے کیلئے کیونکہ اس کرونا نے جغرافیہ کی حیثیت کو یکسر ختم کردیا ہے۔ چین سے شروع ہونے والی یہ وباء جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور خاص وعام کو متاثر کر ڈالا، جغرافیہ اور عقائد کی بنیاد پر چلنے والے بیانئے شاید انسانیت پر مبنی نئے بیانئے کا تقاضہ کررہے ہیں۔ امریکہ اور انڈیا جیسی بڑی جمہوریتوں میں مذہبی منافرت پر مبنی جو نیا سماج تربیت پارہا تھا اس وباء نے اس پر نظرثانی کرنے کا انسان کو ایک موقع دیا ہے۔ ماڈرن ورلڈ کہ جسے کسی مسلم خاتون کا حجاب تک گوارا نہیں تھا اس وائرس نے یقینا اس مغربی سوچ کو بہت ہی حقیر کر دیا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بے باک لیڈر میڈیا کے سامنے آئیں بائیں شائیں ہی کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی تجویز کردہ میڈیسن کے استعمال سے اُلٹا ہلاکتیں ہوگئی ہیں۔ امریکہ میں تادم تحریر اَسی ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی لیڈرشپ کی سیاست، عقائد کے پیروکار پیچھے چلے گئے ہیں اور انسانیت فرنٹ لائن پر آگئی ہے۔ پوری دنیا کا طبی عملہ اپنی جانوں کو جوکھم میںڈال کر اس جن کیخلاف لڑ رہا ہے۔ دنیا کو سینکڑوں دفعہ نیست ونابود کر دینے والے ایٹمی ودیگر جنگی ہتھیاروں کے انبار بھی مائیکروسکوپ سے بمشکل دکھائی دینے والے اپنے دشمن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ جن سرحدوں کی جانب آنے والے میزائل خودکار اینٹی میزائل سسٹم سے نابود ہوجائیں وہ سرحدیں بھی اس وائرس سے محفوظ نہیں ہیں۔ کارپوریٹ کلچر کی زد میں گھری اس دنیا کے انسانوںکو ملٹی نیشنلز نے عظیم تر قرار دیکر اس پر اپنی پراڈکٹ بیچنے کے آسان نسخے تو ایجاد کر لئے ہیں لیکن اس دنیا کے انسانوں کو محفوظ نہ بنا سکیں، یہاں تک کہ اسی کارپوریٹ کلچر نے انسانوں کے بیچ اتنی نفرتیں بو دی ہیں کہ انسان ہر وقت کسی جنگ کا شکار رہے کہ ان کا اسلحہ دھڑادھڑ بک سکے۔ پاکستان کو تو چھوڑئیے خود امریکہ کے پاس اس بیماری سے نبٹنے کیلئے وینٹی لیٹرز کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں ہے۔ انسان نے رنگ، نسل، مذہب اور جغرافیہ کی بنیاد پر انسانیت کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ جنگ وجدل اور معیشت کی بالادستی میں نیچر کو اتنا نقصان پہنچا دیا کہ نیچر شاید خود اپنی شیرازہ بندی کے درپے ہوگئی ہے۔ نیچر نے مریخ کو چھو لینے والے انسان کو چیلنج دیا ہے کہ میاں اپنی چھوٹی سی زمین کو پہلے قابو کرلو۔ تیسری دنیا کیلئے بھی اس وائرس میں بہت سے پیغام موجود ہیں۔ ایٹمی قوت پاکستان کا میڈیکل سیکٹر بری طرح ایکسپوز ہوا ہے۔ خود انڈیا کو بھی سوچنا ہوگا کہ 1.339بلین کی آبادی والا ملک کیسے اپنے حالات ٹھیک کرسکتا ہے۔ خیر ہم تو ٹھہرے کمزور ممالک جو زندگی کو پوری کسمپرسی کیساتھ گزار لیتے ہیں۔ گرمیوں میں بجلی نہیں تو سردیوں میں گیس عنقا، علاج اپنے پلے سے کرواتے ہیں، خوش قسمت ہیں کہ بم دھماکوں میں اب تک زندہ ہیں، کرپشن زدہ ملک میں جیتے جیتے بے بسی کے عادی ہوگئے ہیں۔ مسئلہ تو ماڈرن ورلڈ کا ہے کہ جس نے اجتماعی طور پر نابودگی کو جنگ عظیم کے بعد اب دیکھا ہے ورنہ تحفظ کا ایک حصار ان کے گرد تنا ہوا ہے جو اپنے جغرافئے میں خوشحال ہیں۔ اب ان کی خوشحالی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ کرونا کو قابوکر بھی لیا جائے تو کوئی دوسری عالمی آفت آسکتی ہے۔ یہ تو ہم انسانوں نے انسا نوںکو الگ الگ خطوں میں تقسیم کر رکھا ہے ورنہ تو دنیا کیا پوری کائنات ایک لڑی میں پروئی گئی ہے۔ جب امریکہ، یورپ یا عرب کے متمول معاشروں کے انسان خوشحال ہوں گے اور باقی انسانوں کو عذاب میں مسلسل رکھے جانے کی کوشش کی جائے گی تو یقینا اس کے اثرات وہاں تک ہی محدود نہیںرہیں گے بلکہ اس گول دنیا میں پھسل پھسل کر خوشحال علاقوں تک خود ہی آپہنچیں گے۔ کرونا وائرس نے اس بات پر مہر لگا دی ہے۔ جب چین اکیلا اس مرض سے لڑ رہا تھا تو سارا عالمی میڈیا ڈگڈگی لیکر یہ تماشہ دکھا رہا تھا لیکن تماشائی بننے میں اور تماشہ بن جانے میں بہت بڑا فرق ہے۔ آگ، سیلاب اور وبا تخصیص کو نہیں مانتے۔ اس کرونا وائرس کے عالمی بحرام میں تمام سیاسی منافقتوں کو شکست ہوئی ہے۔ یہی انسانیت سیاست کی منافقت کو آنے والے دنوں میں نکیل ڈال سکتی ہے۔ انسانیت عالمی بھائی چارے، امن اور سلامتی کا اپنا حق اپنے سیاسی مداریوں سے حاصل کرسکتی ہے۔ اللہ پاک جلد عالم انسانیت کو اس بحران سے نکالے۔ آمین